چیئرمین نیب کا تقرر: تاخیر سے فائدہ کس کا؟

چیئرمین نیب کا تقرر: تاخیر سے فائدہ کس کا؟

  

سپریم کورٹ نے عدالتی فیصلے اور بار بار مہلت دینے کے باوجودچیئرمین نیب کا تقرر نہ کرنے پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ وفاق جلد از جلد چیئرمین نیب کا تقرر کرے یا عدالتی حکم کے نتائج بھگتنے کے لئے تیار ہوجائے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا کہ کرپشن کو ختم کرنا حکومت کے ایجنڈے ہی میں شامل نہیں۔ حکومت کے اس رویے سے صاف پتہ چلتا ہے ، اگر یہ بات ہے تو ہم اس کیس کی سماعت ہمیشہ کے لئے ملتوی کردیتے ہیںاور حکومت مزے کرے۔اٹارنی جنرل منیر اے ملک نے کہا کہ اس وقت قائد حزب اختلاف بیرون ملک ہیںاس لئے مشاورتی عمل رکا ہوا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ کوئی ایسا بندہ چیئرمین نیب لگایا جائے جو سب کے لئے قابل قبول ہو۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ جس کو مرضی تعینات کریںاس سے ہمارا کوئی تعلق نہیں، کوئی آپ کو کہے کہ کل ملوں گا یا آج یہ آپ کا مسئلہ ہے۔ ہمارے فیصلے کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔ آپ نے عدالتی حکم کے مطابق چئیرمین کا اب تک تقرر کیوں نہیں کیا؟ایک ادارہ غیر فعال ہوچکا ہے اور جامد ہو کر رہ گیا ہے۔ آپ کے وزیر اعظم کو کس کا نام اچھا لگتا ہے اور کس کا نہیں اس سے ہمارا تعلق نہیں ہے۔ اب آپ کی مرضی ہے اگر آپ چئیرمین کا تقرر نہیں کرنا چاہتے تو ہم کیا کریں ۔ اگر تقرر کرنا ہے تو بتا دیںاور ایک لائن کا بیان دے دیں۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں اس مسئلے کو تسلیم کرتا ہوں ، حکومت کی کوشش ہے کہ چیئرمین نیب کا تقرر اتفاق رائے سے ہو، مشاورت جاری ہے آخری بار مہلت دی جائے۔چیف جسٹس نے کہا کہ ہمارا مسئلہ وزیر اعظم یا لیڈر آف دی اپوزیشن نہیں ہے بلکہ قانون ہے۔ ہم نے قانون پر عمل کرنا ہے۔ آپ نے پہلے ہی ایک ادارے فیڈرل سروسز ٹربیونل کو غیر فعال کردیا ہے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ وفاقی حکومت کو قانون سازی کے لئے پارلیمنٹ میں جانا پڑے گا، سینٹ میں اسوقت ہماری اکثریت نہیں ہے اور مشکلات ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ایف ایس ٹی کے چیئرمین کے تقرر کے لئے آپ ایک آرڈی ننس بھی جاری کرسکتے تھے۔ کم از کم ایک ادارہ تو فعال ہوتا۔اس طرح کام کرنا ہے تو ایسے چیزیں نہیں چلیں گی۔ اور آپ اس طرح کوئی اچھی روایات بھی نہیں ڈال رہے۔جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ اگر لیڈر آف دی اپوزیشن ملک سے باہر ہیں تو ان سے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے مشاورت کر لیں ۔ اگر کہتے ہیں تو اس کا انتظام ہم کردیتے ہیں۔مشاورت کا عمل ان کے باہر ہونے سے کس طرح رک سکتا ہے۔ ؟چیف جسٹس نے کہا کہ ہمارے حکم کی خلاف ورزی ہوئی ہے اور اب بھی حکومت کہہ رہی ہے کہ مزید وقت دے دیں ۔ آپ اپنی ذمہ داریاں عدالت کے کندھوں پر ڈال رہے ہیں۔ اگر حکومت نے کام نہیں کرنا تو آپ ان سے کہہ دیں کہ میں آپ کے لئے اب ٹائم نہیں لوں گا۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ کچھ وقت دے دیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم ہمیشہ کے لئے کیس کو ملتوی کردیتے ہیںآپ حکومت سے کہہ دیں کہ کوئی ضرورت نہیں ہے اور موج کریں۔ اگر آپ کرپشن کا خاتمہ نہیں چاہتے تو پھر چیئرمین نیب کا تقرر نہ کریں ۔ یہ عہدہ خالی پڑا ہے جس وجہ سے میگا کرپشن کیسزکو ٹیک اپ نہیں کیا جاسکتا، اور اس کی ساری کی ساری ذمہ داری وفاقی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ چیف جسٹس نے فیصلہ لکھوانے کے بعد کہا کہ صاف پتہ چل گیا ہے کہ ایجنڈا کیا ہے۔ حکومت اس معاملے میں کلیئر ہوتی تو کئی لوگ جیلوں میں ہوتے۔

چیئرمین نیب کے تقرر میں تاخیر پر سپریم کورٹ کی طرف سے بجا طور پر برہمی کا اظہار کیا گیاہے۔ یہ ہر کوئی سمجھتا ہے کہ اس وقت نیب میں سابق حکمرانوں کے اہم افراد کے خلاف اربوں روپے کرپشن والے بہت سے کیس موجود ہیں جن کو آگے بڑھانے اور لوٹی ہوئی دولت واپس لانے کے سلسلے میں سب سے بڑی رکاوٹ خود سابق حکمران بنتے رہے ہیں، میگا کرپشن کے مقدمات کے سلسلے میں ہر طرح کے ثبوت ختم کرنے اور انصاف کی راہ میں روڑے اٹکانے کی پوری کوشش کی جاتی رہی ہے۔ سابق حکومت نے اس وقت کی اپوزیشن سے مشاورت کے بغیر ہی نیب کے چیئرمین کا تقرر کیا تھا۔ جس کے تقرر کے خلاف اس وقت کے اپوزیشن لیڈر چودھری نثار علی نے عدالت سے رجوع کیا تھا۔ سابق چیئرمین کی اپنے عہدے سے علیحدگی کے بعد اور نئی حکومت قائم ہونے سے یہ امید ہوچلی تھی کہ اب قوم کے لوٹے گئے کھربوں روپے کے مقدمات کے فیصلے کسی طر ف سے رکاوٹ ڈالے بغیر تیزی سے آگے بڑھیں گے اور مجرم اپنے انجام کو پہنچیں گے۔ لیکن اس سلسلے میں چیئرمین نیب کی عدم موجودگی ایک بڑی رکاوٹ بن کر رہ گئی ہے۔ سپریم کورٹ کی طرف سے اس سلسلے میں برہمی کا اظہار اور اہم قومی اداروں کو غیر فعال بنانے کے سلسلے میں ریمارکس غیر معمولی اہمیت کے حامل ہیں ۔ قوم نواز شریف حکومت اور اس کی اہلیت اور نیک نیتی یا بد نیتی کے متعلق انہی ریمارکس کی روشنی میں سوچنے پر مجبور ہے۔ باالخصوص اس عدلیہ کی طرف سے حکومتی رویے کے متعلق یہ عدم اطمینان جس کا احترام بالخصوص موجودہ حکومت کے حامیوں کی صفوں میں بہت زیادہ ہے، کوئی عام سی بات نہیں۔ عدالت کی طرف سے چیئرمین نیب کے تقرر کے سلسلے میں حکومت نے عدالتی حکم کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ قانون و آئین کی بالا دستی اور سپریم کورٹ کے احکام پر عملدرآمد کے سلسلے میں یہ سب کچھ گذشتہ حکومت اور موجودہ حکومت میں کسی طرح کا فرق ظاہر نہیں کر رہا۔

مسلم لیگ ن کو پیپلز پارٹی کے دور میں فرینڈلی اپوزیشن کہا جاتا تھا اور عام آدمی کے نزدیک اس سے مراد اندر خانہ حکومت سے ملی ہوئی اپوزیشن تھا۔ صدر کو حاصل استثنی کی آڑ میں آصف علی زرداری کے خلاف سوئس اکاﺅنٹس کیس کو جس طرح خراب کیا گیا، اور اس کیس کو ختم کرنے کے معاملے کو غیر قانونی قراردیتے ہوئے عدالت کی طرف سے اس کیس کو دوبارہ کھولنے کے لئے حکومت پر خط لکھنے کے لئے جو دباﺅ ڈالا جاتا رہا اور ایک وزیر اعظم بھی جس طرح اس سلسلے میں توہین عدالت کے مرتکب ہو کر اپنے عہدہ سے فارغ ہوئے ، اس کے بعد کچھ عرصہ قبل حکومت کی طرف سے سپریم کورٹ کے ساتھ طے شدہ سوئس حکومت کو لکھے گئے خط کو بے اثر کرنے کے لئے اندر کھاتے لکھے گئے پیپلز پارٹی حکومت کے ایک اور خط کا بھی انکشاف ہوا، اس کے بعد قوم اس بات کی شدت سے منتظر بیٹھی تھی کہ نئی حکومت سوئس کیس کا معاملہ سپریم کورٹ اور قوم کی امنگوں کے مطابق نمٹانے کے لئے اپنا فرض پورا کرے گی۔ نیب کے پاس موجود کرپشن کے تمام بڑے کیسوں کو ہر طرح کی فنی اور انتظامی معاونت کے ذریعے تیز اور موثر بنائے گی۔ لیکن قوم کے لوٹے ہوئے کھربوں روپے واپس لانے کے سلسلے میں موجودہ حکومت نے کسی طرح کی دلچسپی نہ لے کر قوم کو سخت مایوس کیا ہے۔

اپوزیشن کی طرف سے اپنے خلاف کچھ کیسز کے سلسلے میں جس طرح شور مچایا گیا اور جس طرح پیپلز پارٹی اسے انتقامی کارروائی قرار دے کر حکومت کو بلیک میل کرنے کا ہر حربہ استعمال کرنے پرتلی ہوئی نظر آئی اور اس کے بعد محترم وزیر اعظم نے جس طرح ایوان صدر سے جناب زرداری کو رخصت کرنے کے لئے ان کے اعزاز میں الوداعی دعوت دی اور ان کی خدمات پر انہیں خراج تحسین پیش کیا ، اس سے بھی قوم کا ماتھا ٹھنکا ہے۔ اس سے کم از کم یہ حقیقت سامنے آرہی ہے کہ پیپلز پارٹی کا تعاون حاصل کرنے کے لئے نئی حکومت اس کی ماضی کی کوتاہیوں سے درگذر کرنے کا ارادہ کئے ہوئے ہے۔ اگر کوتاہیوں اور لغزشوں کا معاملہ غلط فیصلوں اور غلط پالیسیوں تک محدود ہو تو اس کی گنجائش موجود ہے ۔ لیکن مقدمات کو سرے سے نظر انداز کرنے سے اتفاق نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی صورت حال پیدا ہوجانے کا تاثر صاف یہ واضح کرے گا کہ موجودہ حکمران بھی لوٹ کھسوٹ کے وہی ارادے رکھتے ہیں جو گذشتہ حکومت کے تھے ، وہ سابقہ حکمرانوں کے کرتوتوں کے سلسلے میں درگذر سے کام لیں گے اور موجودہ اپوزیشن سے توقع کریں گے کہ وہ بھی ان کے ایسے کاموں کے سلسلے میں شور نہ مچائے۔ خاموشی اختیار کرے اور سب لوگ مل جل کر کھایا پیا ہضم کریں ۔ قوم اب ایسے معاملات پر بے حد حساس ہے۔ اب کسی کو یہ نہیں سمجھ لینا چاہئیے کہ چکنی چپڑی باتیں کرکے اور میڈیا کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرکے اپنے ہرطرح کے گھپلوں اور بدنیتوں پر پردہ ڈالا جاسکتا ہے۔ آزاد میڈیا کے اس زمانے میں ہر کسی کا حساب لیا جائے گا۔

اب تک کی نواز شریف حکومت اور پنجاب میں شہباز شریف حکومت کی پالیسیاں او رکام مجموعی طور پر قابل رشک ہیں۔ طالبان سے مذاکرات ہوں، بجلی بحران کے حل کا طریق کار ہو یا کراچی اور بلوچستان میں امن و امان قائم کرنے کی کاوشیں ، حکومت کی سمت درست جارہی ہے۔ لیکن پیپلز پارٹی یا کسی دوسری جماعت سے افہام و تفہیم کا مطلب ان کی میگا کرپشن سے درگذر ہرگز نہیں ہونا چاہئیے۔ قومی مسائل حل کرنے ، دشمن اور ملک کا امن تباہ کرنے والوں سے نمٹنے کے لئے قومی اتحاد اپنی جگہ ۔ لیکن اس اتحاد کا مطلب ً سب کھایا پیا معاف ً ہرگز نہیں ہونا چاہئیے۔ نیب کے سربراہ کا تعین بھی فی الفور ضروری ہے اور اس کے پاس پڑے میگاکرپشن کے تمام کیسز کو موثر اور منصفانہ طریقے سے آگے بڑھانے اور مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے حکومتی عزم بھی واضح طور پر ہر کسی کو نظر آنا چاہئیے۔ اگر ایسا نہ ہوسکا تو پھرموجودہ حکمرانوں کو بھی زرداری حکومت والوں سے کسی طرح مختلف نہیں سمجھا جاسکے گا۔ تاہم حکومت کے ہر کام میں کرپشن اور دھاندلی پر نظر رکھنے والے اسے تو ہر حال میں بے نقاب کرتے ہی رہیں گے۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے اب تک تمام بڑے اور اہم قومی معاملات سے متعلق مقدمات میں ضروری حقائق اور دلائل حاصل کرنے کے بعد قوم و ملک کے بہترین مفاد میں احکامات جاری کئے ہیں اور فیصلے دئیے ہیں۔ عدالتی ریمارکس، احکامات اور فیصلوں سے ہماری حکومتیں سبق حاصل نہیں کرتیں تو یہ پوری قوم کی بدقسمتی اور حکومتوں کا ایسا رویہ قومی امنگوں اور آرزﺅں کے منافی ہوگا۔وفاقی حکومت کی طرف سے نہ صرف چیئرمین نیب بلکہ فیڈرل سروسز ٹربیونل کے چیئرمین کا تقرر بھی جلد کیا جاناچاہئے۔ ان عہدوں پر ایسے افراد تعینات کئے جانے چاہئیں جن سے قوم کو واضح طور پر نظر آئے اور ان شخصیات کو جاننے والے بھی اس امر کی تائید کریں کہ موجودہ حکومت کرپشن کے خاتمے میں سنجیدہ ہے اور انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لئے پر عزم!       ٭

مزید :

اداریہ -