پاک بھارت تعلقات، تین اہم خبریں، دو اچھی، ایک تشویش ناک!

پاک بھارت تعلقات، تین اہم خبریں، دو اچھی، ایک تشویش ناک!
پاک بھارت تعلقات، تین اہم خبریں، دو اچھی، ایک تشویش ناک!

  

برصغیر پاک و ہند کے حوالے سے بیک وقت تین اہم خبریں آگئیں۔ ایک تو یہ کہ کر غزستان کے شہر بشکیک میں بھارتی وزیر خارجہ سلمان خورشید اور وزیر اعظم محمد نوازشریف کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز کی ملاقات ہوئی۔ اس میں اور تو کوئی پیش رفت نہ ہوئی مگر اس امر پر اتفاق پایا گیا کہ 2003 ءمیں لائن آف کنٹرول کا جو معاہدہ ہوا اس پر عمل کیا جائے اور لائن آف کنٹرول پر تلخی ختم کی جائے۔ اس کے علاوہ یہ بھی طے پایا کہ نیویارک میں دونوں ممالک کے وزیر اعظم کی ملاقات ہوگی اور اس کے لئے ایجنڈہ سفارتی سطح پر طے کر لیا جائے۔ اس کے ساتھ ہی یہ اطلاع بھی ملی کہ چیمپینز ٹرافی کے لئے فیصل آباد وولفرز کو بھارت کے لئے ویزے جاری کر دیئے گئے۔ ٹیم روانہ ہوکر بھارت پہنچ گئی۔ مصباح الرحمن، سعید اجمل اورایک دو کھلاڑی دورہ زمباوے کے خاتمے کے بعد پہنچیں گے۔ اس کو کھیلوں کے حلقوں میں بہت خوش آئندہ قرار دیا گیا اور بعض شخصیات پاک و ہند کرکٹ سریز کے لئے بھی پُرامید نظر آئےں جبکہ پی سی بی کے ایک آفیسر پاکستان، بھارت اور سری لنکا کی سہ فریقی سرگرم عمل ہو گئے ہیں۔ یہ دو اچھی خبریں شاید پر تو ہیں اس خبر کا کہ بی جے پی کی مرکزی کمیٹی نے ایل کے ایڈوانی کی شدید مخالفت اور بائیکاٹ کے باوجود کثرت رائے سے نریندر مودی کو مستقبل کا پارلیمانی لیڈر نامزد کر دیا جو بی جے پی کی کامیابی کی صورت میں وزیراعظم ہوگا۔

نریندر مودی گجرات کاٹھیاوار کے وزیر اعلیٰ اور اپنی مسلم دشمنی کی وجہ سے مشہور ہیں اور ان کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے ایسے الزامات ہیںکہ امریکہ نے ان کو جاری ویزہ منسوخ کر دیا تھا۔ بابری مسجد کے کردار اور ہزاروں مسلمانوں کے قتل عام کے ذمہ دار نریندر مودی متعصب ہندو انتہا پسندوں کے محبوب رہنما ہیں اور ان سے خیر کی کوئی توقع نہیں۔ شاید یہ ان کی نامزدگی کا ردعمل ہے کہ کانگریسی حکومت نے یکایک اپنے سخت موقف تیزی پیدا کی، بتایاگیاکہ فیصل آباد وولفرز کو ویزے بھارتی وزیر اعظم کی ہدایت پر جاری کئے گئے۔

اس صورتحال سے پاک بھارت دوستی کے حامی بڑے مطمئن ہوں گے لیکن انکو یہ بھی دیکھ لینا چاہیے کہ لائن آف کنٹرول اور وزیر اعظم کی ملاقات کا فیصلہ ہونے کے باوجود بھارت کی طرف سے موقف میں تبدیلی نہیں کی گئی اور بتایا گیا ہے کہ جامع مذاکرات شروع ہونے کرنے کے حوالے سے بھارت اپنی سیٹ پر قائم ہے کہ پاکستان ممبئی حادثے کے ملزموں کو بھارت کے حوالے کرے۔

قارئین! یہ علاقائی اور عالمی ڈپلومسی کا کمال ہے کہ کانگریسی حکومت نے لائن آف کنٹرول پر چھیڑ خانی کے حوالے سے سخت موقف اپنایا اور پاکستان مخالف ہونے کا بھرپور تاثر دیا حتیٰ کہ پاک بھارت وزراءاعظم کی غیر رسمی ملاقات کو بھی اور ناقابل عمل قرار دے دیا لیکن جونہی بی جے پی نے متوقع فیصلہ کر کے نریندر مودی کو لیڈر بنایا کانگریس کے رویے میں تبدیلی آگئی اور شاید بھارت کے مسلمان رائے دہندگان کے ووٹ حاصل کرنے کے لئے ہے۔ حالانکہ ایل کے ایڈوانی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ بی جے پی برصغیر میں پر امن حالات اور پاکستان سے خوشگوار تعلقات کی حامی ہے جبکہ کانگریس پاکستان دشمن ہے جس کا ثبوت وہ دیتے کہ وزیر اعظم واجپئی خود مل کر لاہور گئے مینار پاکستان جا کر پاکستان کو قبول کرنے کا تاثر دیا اور دوستی بس شروع ہوئی، جبکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان چھوٹی بڑی جتنی لڑائیاں یا جنگیں ہوئیںوہ کانگریس کے دور اقتدار میں ہوئیں وہ کانگریس کے دور اقتدار میں ہوئیں۔ لیکن اقتدار کے اپنے رنگ ہوتے ہیں۔ اب بی جے پی نریندر مودی جیسے انتہا پسند معتصب ہندو کو سامنے لے آئی ہے تو کانگریس نے مختلف رویہ اپنا لیا ہے۔

پاک بھارت تعلقات کے حوالے سے اب سیاسی، تجارتی اور شہری حلقے مثبت خیالات رکھتے ہں اگرچہ بھارتی رویہ ظاہر ہے۔ آج کی صورت حال میں اگر کانگریس نے پھر سے بہتر رویہ اپنایا ہے تو اسے بھارت کے اعتدال پسند رائے دہندگان اور مسلمانوں کی مکمل حمایت کا یقین ہو گیاہو گا، ورنہ اس کا رویہ بھی سخت ہی تھا۔

بہر حال ایک بات طے ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان خوشگوار تعلقات متنازعہ امور کے طے ہونے ہی سے مشروط ہیں، اگر نیت صاف ہے تو جامع مذاکرات سے انکار کیوں؟ کہ جامع مذاکرات کا مطالبہ ہی یہ ہے کہ تمام متنازعات دونوں ممالک کے درمیان بات چیت سے طے کر لئے جائیں اور اسے میں خطے کی بھلائی ہے، بہرحال اب بھارت میں انتخابی میدان تبدیل شدہ صوتحال کے مطابق ہوگا کانگریس کو مسلمان رائے دہندگان کا کتنا اعتماد ملے گا یہ وقت بتائے گا۔ نریندر مودی کی نامزدگی سے آئندہ انتخاب خونی بھی ہو سکتے ہیں۔ اگر بڑے پیمانے پر ایسا نہ ہوا تو دھونس دھاندلی کا معاملہ زیادہ شدت اختیار کرے گا، کانگرس کو بھی اب فیصلے کا اعلان کرنا ہوگا۔

مزید :

تجزیہ -