بچی سے زیادتی کیس میں چھوڑے گئے افراد دوبارہ گرفتار ،اے ایس آئی معطل

بچی سے زیادتی کیس میں چھوڑے گئے افراد دوبارہ گرفتار ،اے ایس آئی معطل

  

لاہور (کرا ئم سےل) لاہور میں بچی سے زیادتی کیس میں پولیس نے گزشتہ روز چھوڑے گئے افراد کو دوبارہ حراست میں لے لیا جبکہ ناقص تفتیش پر اے ایس آئی کو معطل کردیا گیا۔ 5 سالہ بچی سے زیادتی کیس میں لاہور پولیس ابھی تک کوئی ٹھوس پیشرفت نہیں کرسکی، لیکن پہلے دن پکڑے گئے وہ 4افراد جنہیں تفتیش کے بعد پولیس نے رہا کردیا تھا، انہیں دوبارہ پکڑ لیا گیا ہے۔ دریں اثناءڈی آئی جی آپر ےشنز رائے طاہر نے دعویٰ کےا ہے کہ پانچ سالہ سنبل کو زےادتی کا نشانہ بنانےوالے ملزموں کے قر ےب پہنچ چکے ہےں مگر ملزموں کو گر فتار کر نے مےں1گھنٹہ اوراےک ہفتہ بھی لگ سکتا ہے ‘سی سی ٹی وی فوٹےج سے بھی ملزموں کے حوالے سے کافی مدد ملی ہے ‘سنبل ابھی بےان دےنے کے قابل ہے اور نہ ہی ہم ڈاکٹرز کی اجازت کے بغےر بےان لےں گے ‘ملزموں کی گر فتاری کے بعد انکا ڈی اےن اے ٹےسٹ بھی لےا جا ئےگا۔ ہفتے کے رو زسروسز ہسپتال مےں مےڈےا سے گفتگو مےں ڈی آئی جی آپر ےشنز رائے طاہر نے کہا کہ پو لےس اس سارے معاملے کو انتہائی قر ےب سے دےکھ رہی ہے اور اس کےلئے مختلف ٹےمےں بھی تشکےل دےدی گئی ہےں جو دن رات کام کر رہی ہےں اور ہم ملزمان کے انتہائی قر ےب پہنچ چکے ہےں لےکن اب تک کتنے لوگوں کو شامل تفتےش کےا ہے اس بارے مےں فی الحال تعداد نہےں بتا ئی جاسکتی بہت جلد مےڈےا کو بھی اس بارے بر ےفنگ دی جا ئےگی ۔ اےک سوال کے جواب مےں ان کا کہنا تھاہم سنبل کا علاج کر نےوالے ڈاکٹرز سے مکمل رابطے مےں ہےں اور جب ڈاکٹر اجازت دےنگے تو سنبل کا بےان لےا جا ئےگا ہم فی الحال سنبل کو کسی قسم کی تکلےف نہےں دےنا چاہتے اور جب ملزموں کو گر فتار کر لےا جا ئےگا تو ان کا ڈی اےن سے ٹےسٹ کرواےا جا ئےگا اور مےں ےہ بھی واضح کر دوں کہ ملزمان 1گھنٹہ مےں بھی گر فتار ہو سکتے ہےںاور انکی گر فتاری مےں1ہفتہ بھی لگ سکتا ہے مگر پو لےس بھر پور کام کر رہی ہے ۔سی سی پی او لاہور شفیق گجر کا کہنا ہے کہ مغلپورہ میں پانچ سالہ بچی سے بداخلاقی کے واقعہ میں ملزمان کی گرفتاری کے لیے دو اعلیٰ سطح ٹیمیں تشکیل دی جا چکی ہیں جو اپنا کام تیزی کے ساتھ کر رہی ہیں۔ اس کیس میں بھی قریبی رشتے داروں کو شامل تفتیش کرنے کا بھی فیصلہ کر لیا گیا ہے۔سی سی پی او کے مطابق ملزم مغل پورہ میں بچی کی رہائش کے قریب رہنے والے افراد ہی ہیں۔واقعہ میں کسی فرد پر بھی شبہ ہوا تو اسے لازمی طور پر شامل تفتیش کیا جائے گا ۔ڈی آئی جی آپریشن رائے طاہر نے کہا ہے کہ سفاک ملزموں کا سراغ لگایا جا رہا ہے اور زیادتی کیس کے اہم شواہد ملے ہیں ،جلد ہیملزمان کو گرفت میں لے لیا جا ئے گا۔ ایس پی سی آئی اے عمر ورک کی سربراہی میں تشکیل دی گئی،ٹیم ملزمان کی تلاش میں لاہور اور اس کے مضافاتی علاقوں میں سرچ آپریشن کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ایس پی سی آئی عمر ورک نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ سنبل کیس میں ملوث ملزمان کو جلد گرفتار کر کے بذات خود ان سے تفتیش کروں گا ۔

مزید :

صفحہ اول -