بیٹے کی بازیابی کیلئے سیاسی و عسکری قیادت سے ملاہوں : یوسف رضاگیلانی

بیٹے کی بازیابی کیلئے سیاسی و عسکری قیادت سے ملاہوں : یوسف رضاگیلانی

موجودہ حکمران پہلے 100دنوں میں منشور پر عمل نہیں کرسکے: سابق وزیراعظم

بیٹے کی بازیابی کیلئے سیاسی و عسکری قیادت سے ملاہوں : یوسف رضاگیلانی

  

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ موجودہ حکمران اپنے پہلے 100 دنوں میں منشور پر عملدرآمد نہیں کرسکے۔ میں نے نیب کے چیئرمین یا نیب سے عدم تعاون کی بات نہیں کی۔ بیٹے کی بازیابی کے لئے صدر، وزیراعظم، چیف آف آرمی سٹاف اشفاق پرویز کیانی اور ڈی جی آئی ایس آئی سمیت مولانا فضل الرحمن اور مولانا سمیع الحق سے بھی ملا ہوں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز صحافی احسان ناز سے ان کے بیٹے کی وفات پر تعزیت کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔روزنامہ پاکستان کی رپورٹ کے مطابق سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ دہشت گردی، انتہا پسندی، بجلی کا بحران، امن وامان کا قیام اور مہنگائی وبے روزگاری کو کنٹرول کرنا پاکستان کے بڑے مسائل ہیں، موجودہ حکمرانوں نے بھی انتخابات سے قبل ان مسائل کو حل کرنے اور عوام کو ریلیف دینے کا وعدہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ حکمران اپنے پہلے 100 دنوں کے دوران ان مسائل کو حل نہیں کرسکے جو شاید اتنے کم عرصہ میں حل ہوبھی نہیں سکتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ عوام نے موجودہ حکمرانوں کو مینڈیٹ دیا ہے اس کا احترام کیا جانا اور انہیں ملکی مسائل کے حل کے لئے مزید وقت ملنا چاہیے ہمیں کوئی جلدی نہیں ہے۔ اپنے اغواءہونے والے بیٹے کی بازیابی سے متعلق سوال پر سابق وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے اس حوالے سے آصف علی زرداری جب وہ صدر تھے ان سے ایوان صدر میں اور وہیں پر ڈی جی آئی ایس آئی سے ملاقاتیں کیں اس کے علاوہ وزیراعظم سے بھی ملا۔ مولانا سمیع الحق سے ان کی دعوت پر مکہ میں عمرہ کی ادائےگی کے دوران ملاقات کی، انہوں نے کہا کہ ان سب نے کہا کہ وہ میرے بیٹے کی بازیابی کے لئے کوشش کرنا چاہتے ہیں میں نے بھی کہا کہ وہ جو کردار ادا کرسکتے ہیں ضرور کریں۔ ڈی جی نیب یا نیب سے تعاون نہ کرنے سے متعلق اپنے بیان کے بارے میں انہوں نے کہا کہ میں نے ایسا کبھی بیان نہیں دیا یہ کہا تھا کہ چیئرمین نیب کی تقرری کا معاملہ اتنا بھی مشکل نہیں ہے وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر میں اس معاملہ پر اتفاق ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ پہلے بھی ایک طرح سے نیب میں عمر قید کی سزا بھگت چکے ہیں حالانکہ ان پر الزام کرپشن کا نہیں بلکہ نوکریاں دینے یا شائد آڈٹ وغیرہ کا تھا۔

مزید :

لاہور -