طالبان سے مذاکرات میں تعاون کی ضرورت ہوئی تو خیرمقدم کریں گے،ایم کیوایم نازک موڑ پر کھڑی ہے : عمران خان

طالبان سے مذاکرات میں تعاون کی ضرورت ہوئی تو خیرمقدم کریں گے،ایم کیوایم نازک ...
طالبان سے مذاکرات میں تعاون کی ضرورت ہوئی تو خیرمقدم کریں گے،ایم کیوایم نازک موڑ پر کھڑی ہے : عمران خان

  

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک )تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان نے کہا ہے کہ طالبان سے مذاکرات میں اگر تحریک انصاف کی مدد کی ضرورت ہوئی تو اسے خوش آمدید کہیں گے‘ خیبر پختونخواہ حکومت طالبان کیساتھ مذاکرات کیلئے مرکز کی حمایت کرے گی‘ اس وقت ہمارے پاس مذاکرات کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے لیکن طالبان سے مذاکرات کیلئے یہ بھی ضروری ہے جنگ بندی کی جائے ہم نہیں چاہتے کہ افغانستان کی طرح بم بھی برسائے جارہے ہوں اور مذاکرات بھی ہورہے ہوں ۔ایم کیو ایم اس وقت بہت نازک موڑ پر کھڑی ہے اور اسے اب فوری فیصلہ کرنا ہوگا‘س وقت اگر ہمیں ملک کو بچانا ہے تو قوانین کو سخت کرنا ہوگا۔ مشرف دور میں فوج کا مورال بہت نیچے تھا لیکن جنرل کیانی نے آکر فوج کا مورال بلند کیا۔روزنامہ پاکستان کی رپورٹ کے مطابق اپنے ایک انٹر ویو میں تحر یک انصاف کے چیئر مین عمران خان نے کہا کہ کراچی کے حالات میں بہتری اسی وقت آسکتی ہے جب سب کیلئے قانون ایک ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم اس وقت بہت نازک موڑ پر کھڑی ہے اور اسے اب فوری فیصلہ کرنا ہوگا۔س وقت اگر ہمیں ملک کو بچانا ہے تو قوانین کو سخت کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ مشرف دور میں فوج کا مورال بہت نیچے تھا لیکن جنرل کیانی نے آکر فوج کا مورال بلند کیا اور انہوں نے فوج کیلئے بہت اچھے کام کئے۔انہوں نے کہا کہ طالبان کیساتھ مذاکرات کا آغاز خطے میں مستقل قیام امن کیلئے ہونا چاہئے‘ خیبر پختونخواہ حکومت طالبان کیساتھ مذاکرات کیلئے مرکز کی حمایت کرے گی۔ بلوچستان کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ صوبے میں مسائل کے حل کیلئے پولیس کے نظام میں اصلاحات اور بلدیاتی اداروں کا مضبوط ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ طالبان سے مذاکرات میں اگر تحریک انصاف کی مدد کی ضرورت ہوئی تو اسے خوش آمدید کہیں گے۔ عمران خان نے کہا کہ وفاقی حکومت نے طالبان سے مذاکرات کی ذمہ داری خود قبول کی ہے اور اگر اس حوالے سے تحریک انصاف کی معاونت کی ضرورت ہوئی تو ہم خیرمقدم کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ہمارے پاس مذاکرات کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے لیکن طالبان سے مذاکرات کیلئے یہ بھی ضروری ہے کہ جنگ بندی کی جائے ہم نہیں چاہتے کہ افغانستان کی طرح بم بھی برسائے جارہے ہوں اور مذاکرات بھی ہورہے ہوں۔

مزید :

قومی -اہم خبریں -