ساتھیوں کو رہا کر کے پاکستان مخلص ہونے کا ثبوت دے: طالبان

ساتھیوں کو رہا کر کے پاکستان مخلص ہونے کا ثبوت دے: طالبان
ساتھیوں کو رہا کر کے پاکستان مخلص ہونے کا ثبوت دے: طالبان

  

پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک)کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے کہا ہے کہ پاکستانی حکومت قیامِ امن کے لیے کسی قسم کے مذاکرات سے قبل اپنے بااختیار اور مخلص ہونے کا ثبوت دے۔تحریک طالبان کے مرکزی ترجمان شاہد اللہ شاہد نے کہا کہ اگر حکومت قبائلی علاقوں میں تعینات فوجیوں کو واپس بلا لے اور ان کے ساتھیوں کو رہا کر دے تو طالبان کو مذاکرات کے لیے اس کے اختیار اور نیت پر یقین آ سکتا ہے۔

بی بی سی کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ حکیم اللہ محسود کی سربراہی میں طالبان کی مرکزی شوریٰ کے تین روزہ اجلاس میں یہ فیصلہ ہوا کہ مذاکرات سے قبل حکومت ایسے اقدامات کرے جن سے اعتماد بحال ہو اور ایسا ماحول بنے جس میں شکوک و شبہات دور ہو سکیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہم حکومت کے اخلاص اور اختیار کو بھی شک کی نظر سے دیکھ رہے ہیں، اس لیے اگر ہم سمجھیں کہ حکومت بااختیار بھی ہے اور پھر ہم ان کے ساتھ مذاکرات کریں تو یہ فائدہ مند ہوں گے،اعتماد سازی کے لیے حکومت کے اقدامات کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر حکومت قبائلی علاقوں سے فوج کو نکالتی ہے اور ہمارے قیدیوں کو چھوڑتی ہے تو تب ہم سمجھیں گے کہ یہ حکومت بااختیار بھی ہے اور مخلص بھی ہے،ایک سوال پر اگر حکومت کے لیے اس طرح کے اقدامات کرنا ممکن نہ ہوا تو اس کے علاوہ کوئی اور راستہ ہو سکتا ہے، شاہد اللہ شاہد نے کہا کہ ہماری نظر میں تو کوئی ایسی دوسری مثال موجود نہیں ہے جس پر ہمارے تمام ساتھی متفق ہو سکتے ہیں، اس سے پہلے اس حکومت نے ہمیں دھوکے دئےے ہیں اور اب دوسری بار ہم دھوکے میں نہیں آنا چاہتے۔ادھر پاکستان کی وفاقی وزارت داخلہ کے ترجمان عمر حمید نے کہا ہے کہ تاحال مذاکرات کے بارے میں طالبان کی جانب سے حکومتِ پاکستان سے کوئی باقاعدہ رابطہ نہیں کیا گیا ہے۔ طالبان کی جانب سے امن مذاکرات شروع کرنے کے لیے یہ مجوزہ شرائط ایسے وقت میں پیش کی گئی ہیں جبکہ طالبان نے اتوار کو ہی پاکستانی فوج کے ایک میجر جنرل کو ریموٹ کنٹرول بم دھماکے میں ہلاک کرنےکی ذمہ داری قبول کی ہے۔

مزید :

قومی -اہم خبریں -