حکومت پنجاب بھی تحریک انصاف کے ساتھ ’مل ‘گئی

حکومت پنجاب بھی تحریک انصاف کے ساتھ ’مل ‘گئی
حکومت پنجاب بھی تحریک انصاف کے ساتھ ’مل ‘گئی

  

نمل نامہ (محمد زبیراعوان)ایک وفاقی وزیرکی بارشوں کی دعا قبول ہوئی اور ”سونامی “جیسی صورتحال میں عمران خان کے دھرنے کی میڈیا کوریج اورکارکنان کی شرکت محدود ہوئی ، پنجاب اور وفاق میں مسلم لیگ ن کی حکومتوں کو نئی منطق سوجھی اوردھرنے دینے والی دونوں جماعتوں کے کارکنان کی پکڑ دھکڑ شروع کردی۔ کسی کو دفعہ 144کی خلاف ورزی کے نام پر گرفتارکیاگیا تو کسی کو ڈبل سواری پر ، مختلف نجی سیل میں رکھنے ،تشددو اپنے روایتی ”طریقہ واردات“ کے بعد عدالتوں میں پیش کیے جہاں سے بیشتر کی رہائی کے احکامات ملے ۔ اس ساری کارروائی پر سوالیہ نشانات کے ساتھ پنجاب پولیس کے اہلکاراپنے ” فرائض منصبی “اداکرتے رہے ، گرفتاریوں کے خوف سے تحریک انصاف کے کارکنان نے ایک مرتبہ پھر دھرنوں میں پہنچنے کیلئے ہاتھ پاﺅں مارنے شروع کردیئے ہیں جس کی وجہ سے دھرنوں کی رونق پھر بحال ہوناشروع ہوگئی ہے اور ڈی جے بٹ کی واپسی پر ڈی چوک میں گانے وترانے بھی سنائی دیئے ۔

ضلعی انتظامیہ سے وابستہ اوراپنے محلے کے ”ڈی سی او“ نے بتایاکہ سبزہ زار پولیس رات گئے اُس کے پڑوس میں پہنچ گئی جہاں دروازے پر دستک سے خاتون خانہ کی آنکھ کھلی ، پوچھنے پر پولیس کی آمد کی اطلاع ہوئی جس پر خاتون خانہ چونک گئیں اور بتایاکہ رات کے اس پہر گھر میں کسی مرد کی عدم موجودگی کی وجہ سے وہ دروازہ نہیں کھول سکتیں اوراِسی تکرار کے دوران پنجاب پولیس کے شیردل جوان گھر کے ساتھ سیڑھی لگاکر دوسری طرف سے اندر داخل ہوچکے تھے ، خاتون خانہ بھاگتی ہوئی اِسی ملازم کے گھر پہنچی اور ساری صورتحال سے آگاہ کیا ۔اِس شخص کے پہنچنے سے پہلے ہی اہلکاروں نے بیڈروم ، غسل خانے اور الماریاں چھان مارے لیکن کوئی مرد ہتھے نہ چڑھاجس پر پولیس کو واپسی کی راہ لینی پڑی ۔

اس تلاشی میں اہلکار خواتین کے زیراستعمال الماریوں کی تلاشی کے دوران قابل اعتراض جملے بھی کستے رہے لیکن رات کی تاریکی میں پولیس کی گھر میں موجودگی کی وجہ سے سہمی ہوئی سبزہ زار کی ’’مریم‘‘  کچھ نہ کرسکیں ، پولیس کے وفاق اور صوبے میں شروع ہونیوالے کریک ڈاﺅن کاتحریک انصاف کو فائدہ پہنچنے کے ساتھ ساتھ مسلم لیگ ن کو بھی نقصان پہنچا۔ایک طرف کارکنان نے گرفتاریوں سے بچنے کے لیے دھرنوں میں پہنچنا شروع کردیاتو دوسری طرف عام شہری بھی مسلم لیگ ن کے ’جارحانہ ‘انداز پر نالاں ہیں لیکن خدشہ ہے کہ ایک مرتبہ پھر وزیراعلیٰ پنجاب کا ممکنہ طورپر بیان سامنے آسکتاہے کہ وہ سیلاب متاثرین کے لیے دن رات تگ و دو میں مصروف تھے اور یہ سارا کام پولیس رات کے اندھیرے میں کررہی تھی ، وہ تحقیقات کا حکم دے چکے ہیں بلکہ ایک کمیشن بنانے کا سوچ رہے ہیں ، وہ آزادی اظہار رائے پر یقین رکھتے ہیں اور کارکنان کی گرفتاریوں میں ملوث عناصر کو سخت سے سخت سزائیں نہ دلائیں تو اُن کا نام بھی شہباز شریف نہیں ۔۔ ۔ کیونکہ ماڈل ٹاﺅن واقعے کا بھی وزیراعلیٰ کو تاخیر سے علم ہواتھا اور پھر اُنہوں نے ”ہنگامی“ اعلانات و فیصلے صادر فرمادیئے تھے ۔

مزید : بلاگ