سکھ قتل عام بھولے نہیں، بی جے پی مداخلت سے باز رہے: اکالی دل

سکھ قتل عام بھولے نہیں، بی جے پی مداخلت سے باز رہے: اکالی دل
سکھ قتل عام بھولے نہیں، بی جے پی مداخلت سے باز رہے: اکالی دل

  


جموں (این این آئی) مختلف نمائندہ تنظیموں نے کہا ہے کہ آر ایس ایس او دیگر سکھ دشمن تنظیموں کی مداخلت سے جموں و کشمیر میں سکھوں کو انصاف سے مسلسل محروم رکھا جارہا ہے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مختلف سکھ تنظیموں شرومنی اکالی دل (امرتسر)، سکھ انٹیکنیکلچوئل سرکل، ئیونائیٹڈ سکھ کونسل، انٹرنیشنل سکھ فیڈریشن اور سکھ سٹوڈنٹس فیڈریشن کے نمائندوں نے جموں میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ بدقسمتی سے کچھ عناصر بھارتیہ جنتا پارٹی، آر ایس ایس اور دیگر بھارت نواز جماعتوں سے ملے ہوئے ہیں اور وہ سکھوں کے سیاسی، اقتصادی اور سماجی مسائل حل کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوئے ہیں۔

ایران نے پوری دنیا کے سامنے سعودی عرب کے خلاف ایسا کام کرڈالا کہ کوئی تصور بھی نہ کرسکتا تھا، انتہائی سنگین خطرہ پیدا ہوگیا

سکھ رہنماﺅں نے بی جے پی، آر ایس ایس اور دیگر جماعتوں کو خبردار کیا کہ وہ ان کے حقوق سلب نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی سیاسی جماعت کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ نام نہاد سکھ کنونشن کے نام پر سکھوں کے جذبات سے کھلواڑ کرے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ ریاستی گورودوارہ پر بندھک بورڈ، ضلع گوردوارہ پر بندھک کمیٹی اور دیگر سکھ تنظیموں کا اعتماد میں لئے بغیر ایسا کرنے سے باز رہا جائے۔ سکھ رہنماﺅں نے کہا کہ ہم آر ایس ایس کے ان ایجنٹوں اور دیگر سکھ دشمن طاقتوں کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ 1984ءمیں ریاسی کے علاقے تلواڑہ میں بے گناہ سکھوں کو زندہ جلایا گیا تھا جبکہ 14 بے گناہ سکھوں کو جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے کو 13 جنوی 1989ءکو انتہا پسندوں نے ہلاک کیا تھا اور آج تک اس حوالے سے کوئی ایف آئی آر درج کی گئی اور نہ انصاری کمیشن کی رپورٹ سامنے لائی گئی۔

انہوں نے کہا کہ سکھ طبقے کے ساتھ مسلسل ناانصافی نے جموں خطے کے سکھوں میں عدم تحفظ کا احساس پیدا کردیا ہے جبکہ چھٹی سنگھ پورہ میں 20 مارچ 2000ءکو 36 سکھوں کے قتل نے مزید شکوک و شبہات پیدا کئے ہیں۔

مزید : بین الاقوامی


loading...