شیطان پیروں کے درپر جانے والوں کی شرمناک کہانیاں

شیطان پیروں کے درپر جانے والوں کی شرمناک کہانیاں
شیطان پیروں کے درپر جانے والوں کی شرمناک کہانیاں

  


مجھے یوں اولاد ملی

اولاد سے محروم لوگ دردر سے دوا ءکے لئے بھاگتے روپیہ پیسہ بہاتے اور اپنی عزتیں بھی گنوا بیٹھتے ہیں ۔اس لئے کہ انہیں ایک کھلونا مل جائے،زندگی کی آس اور سہارا مل جائے۔پاکستانی معاشرے میں ایسے بہت سے شیطان نما انسان موجود ہیں جو نامراد عورتوں کی جھولی اولاد سے بھرنے کے دعوے کرتے اور انہیں اپنی ہوس کا نشانہ بناتے ہیں۔چند روز پہلے ایک مولانا صاحب سے ملاقات ہوئی۔اس موضوع پر بات ہوئی تو استغفراللہ پڑھتے ہوئے بتانے لگے ” بحثیت مسلمان ہم اتنے گرچکے ہیں کہ نیکی اور بدی ، حلال اور حرام میں تمیز کرنا دانستہ چھوڑ چکے ہیں اور کوئی سمجھانا بھی چاہئے تو اسے آنکھیں دکھاتے ہیں ۔یہ انسان کی حد سے بری ہوئی نفسانی خواہشوں کا نتیجہ ہے ،اسے آپ معاشرتی مجبوریاں بھی کہہ سکتے ہیں کہ جب کوئی کسی انسان کا جینا حرام کردے اور اسے کسی محرومی پر طعنے دیتا رہے تو ایسا فرد ضبط کھوکر اپنے ادھورے پن کو پانے نکل جاتا ہے اور اکثر اوقات وہ اس موقع پر ایمان کی قوت کھو بیٹھتا اور بدی کو اپنی کوکھ میں پال لیتا ہے۔ایسی عورتیں جو اولاد سے محروم ہوں انہیں نام نہاد اور مشرکانہ عقیدہ رکھنے والے جاہل پیراپنی ہوس کا نشانہ بناتے ہیں ۔مجھے ایک صاحب نے پنڈی سے فون کیا ہے اور سوال پوچھا ہے کہ مولانا صاحب ہمیں ایسا فتویٰ مل سکتاہے کہ جس سے حرام اولاد کو حلال تصور کرلیا جائے؟ اس شخص کا کہنا ہے کہ وہ پانچ سال سے اولاد سے محروم تھا۔میڈیکل کرانے پر معلوم ہوا کہ وہ اولاد پیدا نہیں کرسکتا جبکہ اسکی بیوی میں صلاحیت موجود ہے۔لہذا وہ ایک ایسے پیر کے پاس گئے جس نے اس عورت کے ساتھ اختلاط کیا اور پھر وضع حمل کے بعد اس سے بیٹا پیدا ہوا ۔اب وہ شخص مجھ سے پوچھ رہا ہے کہ اس صورت میں اس لڑکے کا باپ کون ہے۔میں نے اسکو شرعی مسئلہ بتایا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ تم ڈی این اے سے چیک کرالوں۔ میڈیکل سائنس بہت بڑی نعمت ہے۔تمہارا شک اور حقیقت سامنے آجائے گی۔بدبخت بولا کہ میرے پاس اتنے پیسے کہاں کہ ڈی این اے کراتا پھروں۔آپ مجھے کوئی فتویٰ دیں یا استخارہ کرکے بتادیں کہ اس لڑکے کا والد میں ہی ہوں ۔کیونکہ ایک غریب انسان کو آس چاہئے ہوتی ہے جینے کی۔اس کی کہانی بڑی عجیب ہے ۔آپ کبھی خود اسکی زبانی سنیں تو دنگ رہ جائیں کہ ہم انسانوں کیا کررہے ہیں“

میں نے مولانا سے اس شخص کا نمبر لیا اور پھر اس کو مولانا کا حوالہ دیکر پوچھا کہ اولاد پانے کے لئے انہوں نے کیا کھویا ہے۔

” صرف اک میں ہی اس خواہش میں نہیں مارا گیا“ وہ آہ بھر کو بولا” میں تو سولی پر لٹک رہا ہوں اورمرجانے کے لئے بے بس ہوں ۔جب ہماری اولاد نہیں ہورہی تھی تو مجھے ایک دوست نے بتایا کہ کوٹلی آزاد کشمیر کے قریب ایک پہاڑ کی چوٹی پر دو پیروں کا بسیرا ہے۔اک دنیا ان سے فیض پانے وہاں جاتی ہے اور اولاد لیکر آتی ہے۔میں بڑا خوش ہوا۔اس پہاڑ پر جانے کا کوئی پکا راستہ یا سڑک نہیں ہے۔پیروں کا حکم ہے کہ جسے مراد لینی ہے وہ پہاڑی خانقاہ تک پیدل پہنچیں۔میں اپنی بیوی کے ساتھ سہ پہر تک وہاں پہنچا تو پہاڑ پر پہنچتے ہوئے ہم دونوں بہت نڈھال ہوچکے تھے۔سانس سے سانس نہیں مل پارہی تھی۔خانقاہ پہنچنے پر پیروں نے ہمارا استقبال کیا اور خود اپنے ہاتھوں سے پانی پلایا۔دونوں پختہ عمر کے تھے اور ہٹے کٹے۔چٹے گورے،لمبی لمبی زلفیں،داڑھیاں بھی بڑی ہوئیں ،گلے میں مالائیں ۔خانقاہ بڑی صاف ستھری اور پتھرسے بنے حجرہ نما کمروں پر مشتمل ہے۔میرے علاوہ بھی کئی مرد اور عورتیں وہاں آئے ہوئے تھے۔معلوم ہوا کہ پیر اولاد ہی نہیں جادو ٹونے کا بھی علاج کرتے ہیں اور دوائیاں بھی دیتے ہیں۔ان میں سے صرف ایک ہم تھے جو اولاد لینے آئے تھے۔شام ہونے والی تھی ۔پیروں نے ہمیں دلاسہ دیااورکہا کہ اب تم لوگ تھکے ہوئے آئے ہو تو آرام کرو،کل صبح سویرے واپس چلے جانا۔ہم نے بھی یہی مناسب سمجھا کیونکہ رات کے وقت ڈیڑھ گھنٹے تک پہاڑ سے نیچے اترنے کا سفر آسان نہیں تھا۔پیروں نے کھانے کے واسطے دال گوشت دیا اور ساتھ پینے کے لئے شربت۔نہ جانے اس کھانے اور شربت میں کیا تھا کہ ہم سب پر غنودگی چھا گئی اور سب ڈھیر ہوگئے۔البتہ مجھے قدرے ہوش تھا۔میری آنکھیں کھل نہیں پارہی تھیں لیکن زور لگانے پرپلکیں تھوڑی سی کھل جاتیں۔میں نے دیکھا کہ دونوں پیر اندر آئے اور دو عورتوں کو اٹھا کر لے گئے۔ان میں سے ایک میری بیوی تھی۔میں اٹھنا چاہا لیکن نشہ اتنا غالب تھا کہ میں بھی بے سدھ ہوکر سومرگیا۔

صبح آنکھ کھلی تو پیروں نے ہمیں ناشتہ دیا اور ساتھ ہی دواءکی ایک پڑیا اور مجھے کہا” دودھ کے ساتھ روزانہ ایک بار صرف تنکا برابر پوڈر لیکر نہار منہ کھانا ہے اور پھر ایک ہفتے بعد اپنی بیوی کے پاس جانا ہے“۔ میں نے دوا لی اور واپسی پر پہاڑسے اترتے ہوئے بیوی سے پوچھا ” تم تو بڑی بے خبر ہوکر سوئی تھی،پھر بھی تھکی تھکی لگ رہی ہو“

اس نے مردہ نظروں سے میری جانب دیکھا اور خاموش رہی۔پھر میں نے بھی کچھ نہیں پوچھالیکن میرے دل میں شک اور ذلت کا بیج پیدا ہوگیا تھا۔میں نے پیروں کی ہدایت پر عمل کیااور پھر ایک مہینے بعد میری بیوی کو حمل ٹھہرگیا۔ہم دونوں بہت خوش ہوئے ۔اس وقت میں بالکل بھول گیا بلکہ جب ہمارا بیٹا پیدا ہوا تب تو خوشی سے ہم دونوں بہت خوش تھے۔لیکن میں دیکھ رہا تھا کہ میری بیوی کی آنکھوں میں خوشی کے باوجود ویرانی سی اور دکھ کا سایہ ہے۔بیٹے کی پیدائش کے پانچ مہینے بعد میں الماری دیکھ رہا تھا کہ اچانک میرے ہاتھ وہ رپورٹ لگ گئی جس میں لکھا تھا کہ میں کبھی باپ نہیں بن سکتا تھا۔رپورٹ پڑھتے ہی میرے اند تلاطم مچا اور میں بہت پریشان ہوگیا اور میں نے اپنی بیوی کو رپورٹ دکھاتے ہوئے کہا” تم جانتی ہو اس رپورٹ کے مطابق میں باپ نہیں بن سکتا،کیا پیر کی دوا کھانے سے ہمارا بیٹا پیدا ہوا ہے؟“

اسکی آنکھوں سے آنسو پھوٹ پڑے” تم اگر اس رات جاگ بھی جاتے تو کیا کرتے ۔وہ تمہیں مارکر کھائی میں پھینک دیتے ۔پیر مجھے اپنے حجرے میں لے گئے اور اٹھا کر کہا کہ تم کو اولاد لینی ہے تمہارے لئے یہ دوا تیار کی ہے ،اسکو پی لو۔میرے ساتھ ایک عورت تھی۔ اسکو بھی انہوں نے دوا پلائی اور ایک پیر اسکو دوسرے حجرے میں لے گیا۔دوا پیتے ہی میرے بدن میں آگ سی لگ گئی،کانوں سے دھواں نکلنے لگااور مجھ پر مستی چھا گئی۔مجھے اس وقت تمہاری ضرورت تھی لیکن تم میرے پاس نہیں تھے،صرف وہ بے غیرت پیر میرے پاس تھا۔وہ رات بھر مجھے اولاد دینے کی لوریاں دیتا اور کہتا رہا تمہارا مرد ہیجڑہ ہے ہیجڑہ .... اب مجھ سے اورکیا پوچھناچاہتے ہو........تمہیں تواولاد مل گئی ہے۔دنیا کو منہ دکھانے کے قابل ہوگئے ہومیں تو برباد ہوگئی ہوں....اللہ کو منہ کیسے دکھاو¿ں گی“ وہ بیٹے سے پیار بھی بہت کرتی ہے اور روتی بھی ہے ۔وہ تو اس کی حقیقی ماں ہے ۔اس میں اس کا قصور کیا ہے۔قصور تو میرے جیسے مردوں کا ہے جو پیروں کی عقیدت میں اندھے ہوجاتے اور اپنی بیویوں کی کوکھ میں گناہ پالتے ہیں“

مزید : بلاگ


loading...