برطانیہ سے واپس آنے والی نوجوان بیٹی کو شرمناک حرکت پر سعودی باپ نے پنجرے میں قید کردیا، برطانوی عدالت میں کیس کی سماعت شروع ہوئی تو لڑکی نے جج کو ایسا خط لکھا دیا کہ اُس نے کبھی تصور بھی نہ کیا تھا، لڑکی نے شکایت نہ کی بلکہ۔۔۔

برطانیہ سے واپس آنے والی نوجوان بیٹی کو شرمناک حرکت پر سعودی باپ نے پنجرے میں ...
برطانیہ سے واپس آنے والی نوجوان بیٹی کو شرمناک حرکت پر سعودی باپ نے پنجرے میں قید کردیا، برطانوی عدالت میں کیس کی سماعت شروع ہوئی تو لڑکی نے جج کو ایسا خط لکھا دیا کہ اُس نے کبھی تصور بھی نہ کیا تھا، لڑکی نے شکایت نہ کی بلکہ۔۔۔

  


لندن (مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی عرب میں مبینہ طور پر والد کے گھر میں قید نوجوان سعودی لڑکی کی بازیابی کے لئے برطانیہ میں جاری مقدمے نے انتہائی غیر متوقع رُخ اختیار کرلیا ہے۔ لڑکی کی درخواست پر برطانوی ہائی کورٹ نے اس کی بازیابی کا حکم دیا تھا اور اس کے لئے تمام انتظامات بھی کئے جارہے تھے کہ اس کی جانب سے عدالت کو ایک ای میل موصول ہوگئی جس میں کہا گیا ہے کہ وہ اپنے والد کے خلاف تمام الزامات واپس لیتے ہوئے کیس کو ختم کرنا چاہتی ہے۔

اب ایک جانب مدعی لڑکی نے مقدمہ ختم کرنے کا مطالبہ کردیا ہے تو دوسری جانب برطانوی ہائی کورٹ کے جج مسٹر جسٹس ہولمن نے مقدمہ ختم کرنے سے انکار کردیا ہے۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق 21 سالہ آمنہ الجعفری کے ای میل اکاﺅنٹ سے ایک ای میل موصول ہوئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ وہ اپنے والد کے خلاف تمام الزامات واپس لے کر مقدمہ ختم کرنا چاہتی ہیں۔ جسٹس ہولمن کا کہنا ہے کہ وہ اس مرحلے پر آمنہ الجعفری کو اکیلا چھوڑ نہیں سکتے۔ انہیں خدشہ ہے کہ آمنہ کے ای میل اکاﺅنٹ سے کسی اور شخص نے ای میل بھیجی ہے۔

یہ خاتون بارات لے کر اپنے سسرال پہنچ گئی،وجہ ایسی کہ آپ بھی اس کی ہمت کو داد دیں گے

معاملے کی تہہ تک پہنچنے کے لئے آمنہ الجعفری کی وکیل این میری ہچنسن سعودی عرب جانے کی تیاری کررہی ہیں تاکہ اس سے ملاقات کرکے اصل حقائق جان سکیں۔ برطانوی عدالت کی جانب سے آمنہ الجعفری کے والد کو بھی حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنی بیٹی کی ملاقات اس کی وکیل کے ساتھ کروائیں تاکہ اصل معاملہ سامنے آسکے۔

واضح رہے کہ آمنہ الجعفری نے اس سے پہلے موقف اختیار کیا تھا کہ اس کے والد نے اسے ایک امریکی طالبعلم کے ساتھ قابل اعتراض حالت میں دیکھنے کے بعد گھر میں قید کردیا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ والد نے اسے پنجرے میں بند کر رکھا تھا اور اسے بھوک، پیاس اور دیگر شدید اذیتوں سے بھی دوچار کیا جارہا تھا۔ برطانوی عدالت نے آمنہ الجعفری کی درخواست پر مقدمے کی سماعت کا آغاز کیا تھا اور مسٹرجسٹس ہولمن نے ڈیڑھ ماہ کے دوران آمنہ کو برطانوی عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا تھا، تاہم جب عدالت ان کی حاضری کی توقع کر رہی تھی تو ان کی جانب سے یہ ای میل موصول ہوگئی کہ وہ تمام الزامات واپس لے کر مقدمہ ختم کرنا چاہتی ہیں۔

مزید : بین الاقوامی


loading...