’3ارب ایٹم بموں سے بھی زیادہ طاقتور یہ چیز تیز رفتار سے زمین کی جانب آرہی ہے‘ ماہرین فلکیات نے انتہائی تشویشناک وارننگ جاری کر دی

’3ارب ایٹم بموں سے بھی زیادہ طاقتور یہ چیز تیز رفتار سے زمین کی جانب آرہی ہے‘ ...
’3ارب ایٹم بموں سے بھی زیادہ طاقتور یہ چیز تیز رفتار سے زمین کی جانب آرہی ہے‘ ماہرین فلکیات نے انتہائی تشویشناک وارننگ جاری کر دی

  


واشنگٹن (نیوز ڈیسک) ایک ایٹم بم کی تباہی کا تصور کرکے ہی انسان کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں لیکن تصور کیجئے کہ اگر تین ارب ایٹم بموں کی بوچھاڑ بیک وقت زمین پر ہوجائے تو تباہی و بربادی کا عالم کیا ہوگا۔ یہ خوفناک تصور سائنسدانوں کی ایک حالیہ وارننگ کے بعد ہمیں کرنا ہی ہو گا، جس میں خبردار کیا گیا ہے کہ 10 میل قطر کی ایک خلائی چٹان زمین کی جانب بڑھ رہی ہے۔

اخبار ڈیلی سٹار کی رپورٹ کے مطابق یہ خطرہ چین کے شہر نان جنگ میں واقع پرپل ماﺅنٹین رسدگاہ کے سائنسدان یاﺅ ہائے بن نے دریافت کیا ہے۔ گزشتہ ہفتے خلائی دور بین سے بنائی گئی اس چٹان کی تصاویر بھی منظر عام پر آچکی ہیں۔ چینی اکیڈمی آف سائنس کا کہنا ہے کہ یہ چٹان ان 1640 اجسام میں سے ایک ہے جن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ زمین کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

ایٹم بم کے دھماکے میں زندہ کس طرح بچاجاسکتا ہے؟ بے حد سادہ، انتہائی ضروری معلومات

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس چٹان کا موجودہ مدار زمین کے مدار کو قطع نہیں کرتا لیکن اگر خلائی چٹان کے راستے میں ذرہ برابر بھی تبدیلی ہوئی تو یہ زمین کے ساتھ ٹکرا سکتی ہے۔ اس ٹکراﺅ کا نتیجہ یہ ہوگا کہ گویا زمین پر تین ارب ایٹم بم پھٹ گئے ہوں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ٹکراﺅ کے نتیجے میں کرہ ارض پر موجود ہر زی روح لقمہ اجل بن جائے گا اور زمین ایک ایسے برفانی دور میں داخل ہوجائے گی جو کروڑوں سال تک جاری رہے گا۔

دوسری جانب خلائی تحقیق کے امریکی ادارے ناسا کا کہنا ہے کہ یہ چٹان اور اس جیسے دیگر اجسام زمین کی جانب بڑھ ضرور رہے ہیں لیکن ان میں سے کسی کا بھی زمین کے ساتھ ٹکرانے کا امکان اگلے کئی سو سال تک نہیں ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...