چھوٹے اہلکاروں کو قربانی کا بکرا بنانے کا تاثرختم کردیں گے ،تمام کرپٹ افسروں اور اہلکاروں کے خلاف بلا امتیازاکارروائی ہوگی ،چیف جسٹس ہائی کورٹ

چھوٹے اہلکاروں کو قربانی کا بکرا بنانے کا تاثرختم کردیں گے ،تمام کرپٹ افسروں ...
چھوٹے اہلکاروں کو قربانی کا بکرا بنانے کا تاثرختم کردیں گے ،تمام کرپٹ افسروں اور اہلکاروں کے خلاف بلا امتیازاکارروائی ہوگی ،چیف جسٹس ہائی کورٹ

  


لاہور(نامہ نگار خصوصی )چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ نے کہا کہ عدلیہ میں جس کی شہرت اچھی نہیں ہے وہ اس ادارے کا حصہ نہیں رہے گا۔ کرپشن کے معاملات میں صرف چھوٹے اہلکاروں کو قربانی کا بکرا بنانے کا تاثرختم کردیں گے ،بدعنوانی میں ملوث تمام افسروں اور اہلکاروں کے خلاف بلا امتیازاوریکساں سلوک ہوگا ۔عدالت عالیہ کی نوکری اللہ رب العزت کا انعام ہے،یہاں کی تنخواہیں اور مراعات دیگر صوبائی اداروں سے زیادہ ہیں اس لئے ہمارا فرض بنتاہے کہ اس ادارے کی سربلندی کے لئے کام کریں۔

چیف جسٹس نے عدالت عالیہ کے افسران اور سٹاف سے عید ملن کے موقع پر پنجاب جوڈیشل اکیڈمی میں خطاب کرتے ہوئے سٹاف کو خوشخبری سنائی کہ عدالت عالیہ کے تمام مالی معاملات کو صوبائی حکومت کی اعلیٰ سطحی کمیٹی کے سامنے رکھا گیا تھا جسے پنجاب حکومت نے جائز قرار دیتے ہوئے قبول کر لیا ہے۔اس موقع پر عدالت عالیہ کے سینئر ترین جج مسٹر جسٹس شاہد حمید ڈار، رجسٹرار سید خورشید انور رضوی، ممبر انسپکشن ٹیم سردار طاہر صابر، سینئر ایڈیشنل رجسٹرار عطاالرحمن اور سیکرٹری ٹو چیف جسٹس شاہد شفیع بھی موجودتھے۔

لوگ ہر دس منٹ کی گفتگو میں سات بار ہنستے ہیں:تحقیق

چیف جسٹس سید منصور علی شاہ نے کہا کہ افسران اور ملازمین غیر ضرور ی طور پردفاتر میں نہ رکیں۔ وقت کی پابندی کریں، ٹائم پر آفس آئیں اور وقت پر گھر جائیں، فیملی کے ساتھ وقت گزاریں اور اگلے روز کے لئے ہشاش بشاش ہوکر آفس آئیں اور سارا دن دل لگاکر کام کریں،چیف جسٹس نے کہا کہ مجھے مختلف پیغامات موصول ہوئے ہیں جن میں گلہ کیا گیا ہے کہ صرف چھوٹے ملازمین کو قربانی کا بکرا بنایا جارہا ہے ۔

وہ وقت جب پاکستان کو ایٹمی دھماکوں سے روکنے کیلئے مسافر جہاز ہائی جیک کر لیا گیا،سازش کو ناکام کیسے بنایا گیا جان کر آپ بھی فخر کریں گے

چیف جسٹس نے کہا کہ سسٹم کو چلنے دیں کسی کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک نہیں ہوگا جو بھی کرپشن اور ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی میں ملوث پایا گیا اس کے خلاف بلا امتیاز کارروائی ہوگی ۔ ایڈیشنل رجسٹرار سے لے کر مالی تک تمام ملازمین اس ادارے کا اہم حصہ ہیں، گریڈ کوئی معنی نہیں رکھتے ، آپ کا کام اور قابلیت آپ کو معتبر اور ممتاز بناتے ہیں۔چیف جسٹس نے سٹاف سے کہا کہ آپ اس ادارے کی خدمت کرتے ہیں اور اس ادارے کا فرض بنتا ہے کہ تمام ملازمین کی فلاح کے لئے ہر ممکن اقدامات کریں۔ چیف جسٹس نے کہا ہم اس ادارے اور سسٹم کو بہتری کے لئے بہت کچھ کر رہے ہیں لیکن سٹاف کے تعاون کے بغیر کچھ بھی ممکن نہیںہے،اس لئے آپ کی ذمہ داری ہے کہ اپنے آس پاس موجود غلط عناصر کی نشاندہی کریں اور ایسے لوگوں کی حوصلہ شکنی کریں جو اس ادارے کےلئے شرمندگی کا باعث بنتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صرف ادارے کی ترقی کے بارے میں ہمیں سوچنا ہے اور اس کی عزت و وقار میں اضافے کا باعث بننا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اپنی سوچ کو مثبت رکھیں، میرے چیمبر کے دروازے تمام ملازمین کےلئے کھلے ہیں، آپ اگر اپنے گلے شکوے مجھے بتائیں آپ کی باتوں اور تجاویز کو زیر غور لایا جائے گا۔چیف جسٹس نے ملازمین سے کہا کہ صرف اللہ تعالیٰ سے ڈریں، افسران سے ڈرنے کی ضرورت نہیں، اپنا کام پوری ایمانداری سے سرانجام دیں اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھیں۔

ستمبر کے گزرنے کے ساتھ ہی دنیا کا بھی خاتمہ؟ مذہبی رہنماءبھی میدان میں آ گئے، تہلکہ خیز پیشنگوئی کر ڈالی

چیف جسٹس نے کہا کہ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر عدالت عالیہ کی تمام برانچوں میں کیمروں کی تنصیب کی جارہی ہے۔چیف جسٹس کے خطاب پر لاہور ہائی کورٹ کے سٹاف نے بھرپور اظہار مسرت کیا اور فاضل چیف جسٹس کو یقین دلایا کہ وہ بھرپور محنت ، لگن اور ایمانداری سے کام کریں گے اور لاہور ہائی کورٹ کو پاکستان کا بہترین ادارہ بنانے کےلئے ہر ممکن کوشش کریں گے۔چیف جسٹس نے افسران اور ملازمین کو عید الاضحی کی مبارکباد دی اور مٹھائی کے تحفے بھی دیئے۔

مزید : لاہور


loading...