ہر جگہ ایک لاش کیوں ہے؟؟

ہر جگہ ایک لاش کیوں ہے؟؟
ہر جگہ ایک لاش کیوں ہے؟؟

  


موت برحق ہے اور زندگی اٹل حقیقت, پھر چاہے آپ زندہ لاش ہوں یا قہقہے لگاتے نظر آئیں? کہتے ہیں زیادہ خوش انسان بھی ایک دن اداس ہوجاتا ہے اور ہمیشہ غمگین رہنے والا بھی مایوس۔۔اسی لئے امید کی گود میں سر رکھ کر کچھ دیر سوچنا اور پھر زندہ دلی سے جینے میں ہی بہتری ہے ۔اعتدال اور ظرف بڑی سے بڑی مشکل کو حل کر دیتا ہے ۔ آئے دن خبر آتی ہے فلاں گھر سے پھندہ لگی لاش برآمد۔۔۔ فلاں فیکڑی سے دو دن پرانی نوجوان کی لاش ملی ہے، ارے دیکھو کوڑے سے ڈھیر میں بھی لاش ہے ۔ وہ پنکھے سے لٹکی لاش کو تو اتارو۔۔

اب یہ سکول کے بیت الخلاء میں لاش کہاں سے آگئی؟؟ پروفیسر صاحب کی گھر سے لاش ملی ہے؟اچھا وہ سابق ایم پی اے کا کیا ہوا؟اسکے گھر سے بھی لاش ملی ہے ۔۔۔ یا خدایا یہ اتنی لاشوں کو کیسے اٹھاؤں ؟؟ ایس ایچ او صاحب بتائیں یہ کیا ہوا ہے ؟ میڈم خودکشی ہے ۔۔۔۔۔ آہ! یعنی نہ طبی موت آئی نہ کسی نے گلا گھونٹا۔۔ زندگی ان پر کیوں اتنی مشکل ہوئی کہ سانسیں بند ہوئیں نہیں مگر کر لی گئیں ۔۔۔ ہائے ان لاشوں کا تعفن شہر بھر میں پھیل رہا ہے ۔ ان کی قبروں سے اتنی بدبو کیوں آرہی ہے ؟؟ْ ہاں میں نے پڑھا تھا خودکشی حرام ہے ۔۔۔ مایوسی بھی تو اسی لئے گناہ ہے ۔۔ پھر یہ دلبرداشتہ ہونا کیا ہوتا ہے؟ کوئی بڑی سے بڑی غلطی کیا کر سکتا ہے؟ ہر غلطی کی سزا قانون میں موجود ہے جس کے پورا ہونے پر پھر سے جینے دیا جاتا ہے اور ہر مشکل کا حل ہوتا ہے جیسے ہر تالے کی چابی،، پھر یہ تالا ہمیشہ کے لئے بند کرنا کہاں سے سیکھا؟

لیکن ہاں دوسرا رخ یہ بھی ہے کہ معاشرتی رویوں کی تلخی ہم سب کی بنائی ہوئی ہے۔ بلنگ اسکی بہترین مثال ہے ۔خودکشی بہادر لوگ نہیں،بزدل کرتے ییں کیونکہ وہ زندگی کے کسی بھی موڑ پر ہار تسلیم ہی نہیں کر پاتے اور بزدلی کی بدترین مثال قائم کر دیتے ییں ۔۔

سائنٹفک دلیل سے بات کریں تو یہ ایک ایسی کیفیت ہے جس میں جذبات یا تو مر جاتے ہیں یا پھر اس قدر انتہا پر ہوتے ہیں کہ اندھیرے کا یقین کر کے روشنی کو ٹھکرا دیتے ہیں ۔۔بس پھر. جب دھڑکنوں کا شور اتنا تیز ہو کہ کانوں کے پردے پھٹ جائیں اور وہ آواز باہر بھی نہ آسکے تو اسے خودکشی کہتے ہیں ۔ 12 ستمبر کو یہ دن عالمی طور پر منایا تو جاتا ہے لیکن شاید ہی کسی کو خبر ہو ۔۔کیونکہ اس حالت کا درد بتانے والا تو چل بسا۔۔۔۔خاموشیوں کا یہ قہر کب ٹوٹے گا ؟ ایک سیمینار کسی مہذب یونیورسٹی کے برگر بچوں میں ہوتا ہے جو بس یہ کہہ کر اٹھ جاتے ہیں "اٹس سو بورنگ" اور پھر وہ فلاں ہاسٹل کے کمرے سے ملنے والی لاش انہی کے کسی دوست کی ہوتی ہے جس کی خاموشی کو انہوں نے یوں ہی ٹال دیا تھا ۔۔ ہمیں خودکشی کے بڑھتے ہوئے رجحان پر بات کرنے کی ضرورت ہے ۔ دوڑتی بھاگتی سڑکوں میں ایک ٹھہراؤ بنانا پڑے گا جہاں اچانک بریک لگانا پڑے تو حادثہ نہ ہو بلکہ سپیڈ بریکر کا پہلے ہی علم ہو ۔۔۔ عالمی دن رکھنے سے کچھ نہیں ہوگا کوئی مہم چلائیں، لاشیں بننے سے بچائیں۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید : بلاگ


loading...