ڈاکٹر طاہر القادری نے ایک بار پھر سیاست چھوڑ دی،پارٹی کو فکری رہنمائی دیتے رہیں گے

ڈاکٹر طاہر القادری نے ایک بار پھر سیاست چھوڑ دی،پارٹی کو فکری رہنمائی دیتے ...

تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

ڈاکٹر طاہر القادری حیران کرنے کی بھر پور صلاحیتوں سے مالامال ہیں اور ایک بار پھر انہوں نے اس کا مظاہرہ کرتے ہوئے سیاست چھوڑ دی ہے، ویسے دیکھا جائے تو سیاست میں  ان کی کل کمائی قومی اسمبلی کی ایک نشست اور احتجاجی سیاست میں دو دھرنے ہیں جو اگرچہ اپنے تام جام کی وجہ سے تو متاثر کن تھے، لیکن دونوں دھرنوں کا ملکی سیاست پر کوئی خاص اثر مرتب نہیں ہوا۔ انہوں نے پاکستان عوامی تحریک کے نام سے اپنی سیاسی جماعت 1989ء میں بنائی تھی لیکن دو الیکشن لڑنے کے بعد انہوں نے یہ بھاری پتھر چوم کر رکھ دیا، کیونکہ سینکڑوں امیدوار کھڑے کرنے کے باوجود ان کا کوئی امیدوار انتخابات میں کامیاب نہیں ہوا تھا، غالباً مایوسی کے عالم میں یا کسی اور وجہ سے انہوں نے سیاست کو خیر باد کہہ دیا اور اپنی تمام تر صلاحیتوں کو دینی کاموں کے لئے وقف کردیا، لیکن دختررز کی طرح سیاست بھی آسانی سے نہیں  چھٹتی۔ اس لئے کچھ عرصے کے بعد وہ دوبارہ میدان سیاست میں کود پڑے، اس عرصے میں انہیں اپوزیشن جماعتوں کے سیاسی اتحاد کی سربراہی کا موقع بھی ملا، جس میں بینظیر بھٹو  کی پیپلز پارٹی بھی شامل تھی اور بابائے اتحاد نوابزادہ نصراللہ کی جماعت بھی اس کا حصہ تھی، لیکن تھوڑے ہی عرصے کے بعد انہوں نے اس اتحاد کی سربراہی کو خیر باد کہہ دیا اور اپوزیشن جماعتوں سے اپنے راستے الگ کرلئے۔ 2002ء کا الیکشن وہ پہلا الیکشن تھا جس میں وہ لاہور کے ایک حلقے سے  قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے، اس الیکشن میں موجودہ وزیراعظم عمران خان کو بھی میانوالی سے ایک نشست مل گئی تھی، اس لحاظ سے دونوں جماعتوں کا پارلیمانی وزن برابر تھا۔ ان انتخابات کی ایک خوبی یہ تھی کہ ان کے نتیجے میں تقریباً تمام ہی جماعتوں کے سربراہ منتخب ہو کر قومی اسمبلی میں پہنچ گئے تھے، انہی انتخابات کے نتیجے میں میر ظفراللہ جمالی پہلی مرتبہ وزیراعظم منتخب ہوئے، لیکن انہیں منتخب کرانے کے لئے پیپلز پارٹی کے دو ٹکڑے کرنے پڑے۔ یہ کہانی طویل ہے اور تفصیل سے بیان نہیں ہوسکتی۔ تاہم اتنا بتا دینا ضروری ہے کہ میر ظفراللہ جمالی سے پہلے وزارت عظمیٰ کی پیشکش پیپلز پارٹی کے وائس چیئرمین مخدوم امین فہیم کو ہوئی تھی جو جام اقتدار کو بڑھ کر تھامنے میں کوتاہ دست ثابت ہوئے اور قرعہ فال میر ظفراللہ جمالی کے نام نکل آیا، جو باوری صدر پرویز مشرف کو ”باس“ کہتے نہیں تھکتے تھے، لیکن باس نے ان کی وزارت عظمیٰ ختم کرکے اس پر شوکت عزیز کو بٹھادیا۔ اب وہ شوکت عزیز کو سازشی کہتے ہیں اللہ جانے کیا وجہ ہوئی کہ جس شخص کو وہ بڑے چاؤ کے ساتھ دساور سے لائے تھے اور پہلے وزیر خزانہ اور پھر وزیراعظم بنایا تھا، اقتدار کے خاتمے کے بعد وہ ان کے دل سے اتر گیا۔

ڈاکٹر طاہر القادری قومی اسمبلی کے رکن تو منتخب ہوگئے، لیکن ان جیسا سکالر اسمبلی ہال میں سطحی، بے کیف اور بور تقریریں سننے کے لئے تو نہیں گیا تھا، ان کا خیال تھا کہ نشست اگرچہ ان کے پاس ایک ہی ہے لیکن جنرل پرویز مشرف کی نگاہ ناز کے صدقے کیا نہیں ہوسکتا۔ چنانچہ انہوں نے کچھ عرصے انتظار کیا اور جب اقتدار کی صراحی کا کوئی جرعہ بھی ان کے حصے میں نہ آیا تو انہوں نے استعفا دیدیا اور تصنیف و تالیف کا کام اطمینان سے کرنے کے لئے بیرون ملک چلے گئے۔ کینیڈا کی شہریت لے لی اور اب دنیا بھر میں کینیڈی شہری کی حیثیت سے سفر کرتے ہیں۔ 

اگرچہ وہ سیاست میں غیر متحرک ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان کی شہریت بھی چھوڑ چکے تھے لیکن انہیں پاکستان کی ہنگامہ خیز سیاست کبھی کبھار یاد آتی تو وطن کا رخ کرتے۔ چنانچہ انہوں نے پیپلز پارٹی کے دور میں چار روز تک اسلام آباد میں دھرنا دیا جس کا خاتمہ ایک معاہدے کی صورت میں ہوا۔ جس کے بارے میں معلوم نہیں کہ اب وہ ردی کی کس ٹوکری میں پڑا ہے، لیکن ان کا اصل دھرنا تو وہ تھا جو انہوں نے نوازشریف کی حکومت کے خلاف عمران خان کے ساتھ مل کر دیا۔ اس فرق کے ساتھ کہ عمران خان 126دن تک ڈٹے رہے اور ڈاکٹر صاحب 74دن بعد ہی اسلام آباد سے اٹھ آئے۔ دھرنا تو ناکام ہوگیا، لیکن پاکستان عوامی تحریک کی سیاسی سرگرمیاں وقتاً فوقتاً جاری رہیں۔ آخری بار انہوں نے لاہور کے مال روڈ پر جلسہ کیا جس سے عمران خان اور آصف زرداری نے بھی خطاب کیا۔ اس جلسے سے پاکستان عوامی تحریک نے کیا حاصل کیا، کسی کو آج تک معلوم نہیں ہوسکا۔ البتہ 2018ء کے الیکشن کا موسم آیا تو انہوں نے الیکشن لڑنے یا نہ لڑنے کا کام پارٹی پر چھوڑ دیا اور خود اپنے انتخاب کردہ وطن روانہ ہوگئے۔  اب انہوں نے ایک بار پھر سیاست چھوڑ دی ہے اور اعلان کیا ہے کہ وہ موروثیت کے مخالف رہے ہیں اس لئے پارٹی چلانے کی ذمے داری سپریم کونسل کے سپرد کردی ہیں جس کی چیئرمین شپ سے وہ الگ ہوگئے ہیں، تاہم اب یہ منصب ان کے صاحبزادے ڈاکٹر حسن محی الدین کے سپرد ہوگیا ہے، پارٹی کے باقی عہدیدار بھی درجہ بدرجہ موجود رہیں گے۔ اب دیکھنا ہوگا کہ جو پارٹی ڈاکٹر صاحب کی موجودگی میں کوئی بڑا سیاسی کارنامہ انجام نہیں دے سکی ان کے بغیر کوئی ایسا دھماکہ کرسکے گی جسے یاد رکھا جاسکے۔ فی الحال تو دھرنے کا بھی امکان نہیں، کیونکہ اس کے لئے پہلے زمین ہموار کرنا پڑتی ہے جس میں ابھی بہت اونچ نیچ ہے۔ ان کے ایک دھرنے کا لوگوتھا ”سیاست نہیں، ریاست بچاؤ“ کیا کسی وقت پھر یہ نعرہ کام آئے گا؟

سیاست چھوڑ دی

مزید : تجزیہ


loading...