وزیر اعلیٰ بزدار کی کامیاب شاٹ مگر پنجاب میں کھچڑی پک رہی ہے 

وزیر اعلیٰ بزدار کی کامیاب شاٹ مگر پنجاب میں کھچڑی پک رہی ہے 

تجزیہ:ایثار رانا

بے شک شہباز گل اور پنجاب میں بڑے پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ سے وزیر اعلی بزدار کے مخالفین کو سخت دھچکا پہنچا ہے،اور یہ تاثر کمزور ہوا ہے کہ وہ جانے والے ہیں،،لیکن یہ بات بھی یقینی ہوگئی ہے کہ بہرحال پنجاب میں کھچڑی پک ضرور رہی ہے،اور اگر وزیر اعلیٰ بزدار نے ایک کامیاب شاٹ کھیلتے ہوئے اپنے بعض دوست نما دشمنوں سے جان چھڑا لی ہے لیکن میرا اندیشہ ہے معاملات جوں کے توں ہیں۔ورنہ وزیراعظم عمران خان اور کے رفقا کو بار بار یہ کہنے کی ضرورت نہ پڑتی کہ عثمان بزدار کہیں نہیں جارہے۔اگر ہم پنجاب میں ترقی اور خوشحالی کا جائزہ لیں تو اسے مایوس کن قرار دیا جاسکتا ہے۔گو پورے ملک کی ہی صورتحال ایسی ہے۔مہنگائی کا جن بدمعاشوں کی طرح گلیوں بازاروں اور گھروں میں اپنا قبضہ جما چکا ہے۔وزیراعظم کی اقتصادی ٹیم جو مرضی دعوے کرے لیکن بھوک ایک ایسی حقیقت ہے جو روز غریب کا منہ چڑاتی ہے۔میاں نوازشریف نے شہباز شریف کی پنجاب کارکردگی کے سر پہ مخالفین کو ناکوں چنے چبوائے۔شہباز شریف انکے سب سے بڑے محافظ تھے لیکن اب عمران خان عثمان بزدار کے سب سے بڑے محافظ ہیں۔اسے کہتے ہیں الٹی گنگا بہنا۔پنجاب میں پی ٹی آئی کے دو نہیں کئی دھڑے ہیں اور سب آپس میں برسرپیکار ہیں۔ایسے میں وزیراعلیٰ بزدار کے پاس مخالفین کیلئے سب سے بڑا ہتھیار کارکردگی تھا لیکن لگتا ہے وہ یہ ہتھیار کسی برے وقت پر استعمال کریں گے۔شہبا زگل کو بڑے بھونڈے انداز اور جلدی میں فارغ کیا گیا۔انکا یہ کہنا کہ جسے بزدار کی شکل پسند نہیں وہ پی ٹی آئی چھوڑ دے۔خود اس بات کی علامت ہے کہ بزدار کارکنوں میں پاپولر نہیں۔اگر یہ دعویٰ غلط ہے تو کوئی ایک مثال بتادیں کہ وزیراعلی کتنی بار کارکنوں سے ملے۔ان سے گورنر پنجاب چودھری سرور بہتر رہے جو کارکنوں سے ملتے رہتے ہیں۔ اطلاعات یہ بھی ہیں کہ وزیراعلی بزدار خلیج کے دورے سے واپسی پر ان ممالک کے پنجاب میں ترقیاتی کاموں میں مختلف معاہدوں کی نوید لے کے آئیں گے جو بطور وزیراعلیٰ انکا پہلا سولو کارنامہ ہوگا۔گو ان معاہدوں کی راہ کوئی اور ہموار کرکے آیا ہے۔وزیر اعلیٰ بزدار کے پاس تین ماہ کا وقت ہے جس میں انہوں نے خود کو اہل ثابت کرنا ہے ورنہ انہیں آخری وارننگ دی جاچکی ہے اور اگر کوئی یہ کہے کہ وزیراعظم عمران خان بار بار انکے ساتھ کھڑے ہونے اور انہیں برقرار رکھنے کی یقین دہانی کراچکے ہیں تو میں عرض کروں کہ اسد عمر کی فراغت سے چوبیس گھنٹے پہلے وزیراعظم نے یہی کہا تھا کہ اسد عمر کیساتھ ہیں اور وہ کہیں نہیں جارہے۔

تجزیہ ایثار رانا

مزید : تجزیہ


loading...