کیا یہ ”پارلیمانی جمہوریت“ ہے؟

کیا یہ ”پارلیمانی جمہوریت“ ہے؟
 کیا یہ ”پارلیمانی جمہوریت“ ہے؟

  


سیانے کہتے ہیں، معاشی استحکام کے لئے سیاسی استحکام لازم ہے، لیکن ہم لوگ کیسے ہیں کہ معاشی امور کے لئے مرے جاتے اور عوام کو زیر بار بھی کر رہے ہیں،لیکن سیاسی استحکام کی طرف نہ صرف یہ کہ توجہ نہیں دیتے،بلکہ خود ہی عدم استحکام کا باعث بھی بنتے ہیں،جمہوریت جس انداز کی بھی ہو یہ عوام کے لئے، عوام کی مرضی اور عوام کی رائے سے ہوتی ہے، اور جہاں تک پارلیمانی نظام کا تعلق ہے تو اس کی بڑی خوبی یہ ہے کہ اس کے ذریعے مطلق العنانیت کے دروازے بند کئے گئے ہیں،

جمہوریت اور خصوصی طور پر پارلیمانی جمہوریت میں تو حزبِ اقتدار اور حزبِ اختلاف کے درمیان مثالی تعلقات اس کی بنیاد ہیں، اس طرزِ جمہوریت والے ملک برطانیہ میں تو تحریری آئین بھی نہیں، لیکن وہاں یہی تعاون آگے بڑھنے کا ذریعہ ہوتا ہے،اس نظام میں زیادہ بردباری اور ذمہ داری کا بوجھ حزبِ اقتدار پر ہوتا ہے کہ اسے اپنے منشور کے مطابق پالیسیوں پر عملدرآمد کے لئے تعاون کی ضرورت ہوتی ہے،کیونکہ قانون سازی کا عمل صرف اکثریت پر ہی منحصر نہیں، اِس کے لئے مشاورت کی ضرورت ہوتی ہے، جو ایوان میں بحث کے ذریعے حاصل کی جاتی ہے۔

ہم اس وقت جن حالات سے دوچار ہیں وہ اندرونی مسائل اور بیرونی خطرات ہیں، اندرونی طور پر مہنگائی، بے روز گاری اور بیماریوں نے عوام کو بے حال کر رکھا ہے، روز بروز حالت خراب ہو رہی ہے اور بیرونی طور پر ہم سرحدوں پر جنگ کے خطرات سے دوچار ہیں، ازلی دشمن بھارت نے کشمیریوں کو محبوس کر رکھا ہے، ظلم وو حشت جاری ہے،42 روز ہو گئے، کشمیری خوراک، ادویات، روزگار اور آزادی سے محروم ہیں،پیلٹ گنوں، آنسو گیس، گولیوں اور لاٹھی چارج کا نشانہ بن رہے ہیں،پاکستان مضطرب ہے، عوام بھی بے چین اور پریشان ہیں، ہم بطور ملک ان کی سیاسی اور اخلاقی حمایت ہی کر سکتے اور کر رہے ہیں،اس سے بڑھیں گے تو جنگ ہو سکتی ہے اور دونوں متحارب ملک جوہری اہلیت کے مالک ہیں،تباہی کا صرف تصور ہی کیا جا سکتا ہے۔

مثال کے لئے ہیروشیما اور ناگا ساکی والی تاریخ اور نقصان یاد کیا جا سکتا ہے، تاہم بظاہر ہم سے زیادہ مودی اور بھارتی ہندو ازم تیز ہو رہا ہے اور اب نہیں تو کبھی نہیں والے حالات نظر آ رہے ہیں، ان کی افواج کے کمانڈر انچیف بپن راوت آزاد کشمیر پر حملے کی دھمکی دیتے تو ان کے سیاست دان ایٹمی اثرات سے تحفظ کے لئے علاج بتانا شروع ہو گئے کہ گائے کا گوبر پورے جسم پر ملیں، کنٹرول لائن پر ہر روز چھیڑ چھاڑ جاری ہے، ابھی گزشتہ دو دِنوں ہی میں پاکستان کے دو جانباز فوجی شہید ہو گئے ہیں۔

دُکھ یہ ہے کہ ان حالات کے باوجود ہمارے اندر مثالی اتحاد نہیں، یہاں گروہی سازش ہوتی ہے تو سیاسی سازشیں بھی پنپتی رہتی ہیں،کچھ زیر زمین ہیں تو بہت سی صاف نظر آ جاتی ہیں، اب تو سیاسی جماعتیں آپس میں نبرد آزما تو ہیں ہی،لیکن خود ان کے اندر بھی سب اچھا نہیں ہے، برسر اقتدار جماعت بھی ایسی حالت سے دوچار ہے، ابھی کل کی بات ہے کہ ڈاکٹر شہباز گل نے کہا ”جس کو وزیراعلیٰ سردار عثمان بزدار کا چہرہ پسند نہیں وہ تحریک انصاف چھوڑ کر چلا جائے اور دو چار لوگ سازش کر رہے ہیں“ان سازشیوں نے کہاں جانا تھا موصوف خود ہی تشریف لے گئے اور وزیراعلیٰ کے قریبی ذرائع کے مطابق یہ حدود سے تجاوز کر رہے تھے اور وزیراعلیٰ نے خود وزیراعظم سے شکایت کی تھی، باقی اللہ جانے۔ہم نے بوجوہ کبھی وزیراعلیٰ سردار عثمان بزدار کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی۔

اگرچہ درون خانہ ایسی باتیں ہیں جن کا ہمیں بھی علم ہے،تاہم اب وقت ہے کہ قارئین کو آگاہ کیا جائے کہ سردار عثمان بزدار وزیراعظم کی پسند ہیں،لیکن ان کو اپنے والد کی دُعائیں بھی ہیں کہ وہ بھی صوبائی اسمبلی کے رکن اور پھر مسلم لیگ(ق) میں ”پسند والوں“ کی مرضی سے تھے اور اسی پس منظر اور مرحوم والد کی تھوڑی کوشش سے یہ نظروں میں آئے،اب صورت حال یہ ہے کہ سردار عثمان بزدار کو اگر وزیراعظم کی حمایت حاصل ہے تو سیاسی قوت کا منبع مسلم لیگ(ق) ہے،چودھری برادرن پوری طرح ان کے ساتھ اور پیچھے ہیں اور چودھری برادران کی اہمیت سے کون واقف نہیں کہ وہ منصوبہ سازوں کے بھی منظور نظر ہیں اور عمران خان کی وزارتِ عظمیٰ کے لئے بھی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔

ان حالات میں افسوسناک پہلو پارلیمان ہے کہ حزبِ اقتدار اور حزبِ اختلاف والے اہمیت کا احساس اور ذکر کرتے ہیں،عمل نہیں کرتے، پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں جو ہوا وہ مناسب نہیں تھا کہ صدر نے ابتدائی کلمات میں کشمیریوں کی حالت ِ زار کا ذکر اور پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا،اس موقع پر ہنگامہ اور شورو غل مناسب نہیں تھا، اب اگر یہ درست نہیں تھا تو سپیکر محترم کا عمل بھی غیر دانشمندانہ ہی کہلائے گا کہ جنہوں نے زیر حراست اراکین کے پروڈکشن آرڈرز جاری نہ کئے،ایسا ہوتا تو اجلاس سے قبل سپیکر حزبِ اختلاف سے بات کر کے کارروائی کے حوالے سے امور طے کر سکتے تھے اور اس ہنگامہ آرائی سے بچا جا سکتا تھا،لیکن ایسا نہ ہوا شاید سپیکر دباؤ کا شکار ہیں۔

پارلیمانی جمہوریت ہی کے حوالے سے ہم عرض کریں گہ قائد حزبِ اقتدار کا رویہ مناسب نہیں وہ اپنی اَنا کے مطابق ”کرپشن کے ملزموں“ کو قابل گردن زدنی جانتے اور ان سے بات کرنا شاید ”توہین“ سمجھتے ہیں، بدقسمتی یا خوش قسمتی سے کرپشن کے الزامات کا سامنا کرنے والے معزز ایوان کے رکن ہیں اور ابھی تک ملزم اور زیر حراست ہیں کہ ان کو سزا نہیں ہوئی، ایسی صورت میں وہ ”اس وقت تک بے گناہ ہیں، جب تک مجاز عدالت ان کو گناہ گار قرار نہیں دے دیتی“ اِس لئے ان کا حق ہے کہ اپنے اپنے علاقوں کی نمائندگی کریں،اور پھر وزیراعظم کو بھی جمہوری روایات کا احترام کرنا چاہئے،حزبِ اختلاف کو قومی مسائل کے حل کی مشاورت کے لئے خود دعوت دینا اور ان سے بات کرنی چاہئے، چاہے تکلفاً ہی ہو، کہ وہ امریکی صدر نہیں ہیں، جب تک ایسا نہیں ہو گا صورتِ حال بہتر نہیں ہو گی۔

بات مکمل کرنے سے پہلے یہ عرض کر دیں کہ کراچی کے حوالے سے بہت کچھ شروع ہو گیا۔ ایم کیو ایم مبینہ طور پر ریشہ دوانیوں میں مصروف ہے کہ پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف میں لڑائی اور محاذ آرائی ان کے لئے مفید ہے اور وہ کوئی موقع خالی نہیں جانے دیتے،انہی حالات میں بلاول بھٹو زرداری مشتعل ہوئے،وہ نوجوان ہیں اور پیپلز پارٹی کے مستقبل کے قائد بھی ہیں۔ان کو بہت متحمل اور بردبار ہونا چاہئے۔مشتعل ہو کر انہوں نے جو باتیں کیں وہ مناسب نہیں ہیں، حالات پر توجہ دلانے کے لئے الفاظ کا بہت بہتر چناؤ ہو سکتا تھا،جو انہوں نے نہیں کیا،ان کو ہر صورت احتیاط کرنا ہو گی کہ وہ اس جماعت کے سربراہ ہیں،جو ملک کی قیادت کی دعویدار ہے، شاہ محمود قریشی نے اچھا کیا کہ احسن طریقے سے یاد دلایا اور حب الوطنی پر اعتراض کو یہ کہہ کر ختم کر دیا کہ ”ہم ان (بلاول) کو محب وطن سمجھتے ہیں،تاہم انہوں نے جو باتیں کیں وہ مناسب نہیں تھیں“۔ہم نے اجمالاً ہی سہی، حالات کا ذکر کیا، حالانکہ مزید گنجائش اور بہت گنجائش موجود ہے، ابھی ہم نے افغانستان، طالبان اور سی پیک کے ذکر سے اجتناب کیا ہے براہِ کرم! سب لوگ خود سمجھ جائیں۔

مزید : رائے /کالم


loading...