بلاول بھٹوسرائیکیوں کو بخش دیں

بلاول بھٹوسرائیکیوں کو بخش دیں
 بلاول بھٹوسرائیکیوں کو بخش دیں

  


سرائیکی ڈیمو کریٹک پارٹی کے چیئرمین سرفرازنون کا ایک بیان پڑھ لیجئے…… ”ہم بلاول بھٹو زرداری کے اس بیان کی مذمت کرتے ہیں، ہم ایسے بیان سے شدید بے زاری کا اظہار کرتے ہیں، جس میں انہوں نے کہا ہے کہ جس طرح ماضی میں بنگلہ دیش بنا،اسی طرح سندھو دیش اور سرائیکی دیش بھی بن سکتے ہیں۔ ہم اس بیان کو پُرامن سرائیکی تحریک کے ایشو کو سبوتاژ کرنے کی سازش سمجھتے ہیں۔

ہم سرائیکی پُرامن ہیں اور اپنے وطن عزیز سے محبت کرتے ہیں اور سب سے زیادہ پاکستان کے لئے قربانیاں بھی ہم نے ہی دی ہیں۔ ہم وفاقِ پاکستان میں اپنی سرائیکی شناخت کا علیحدہ صوبہ سرائیکستان چاہتے ہیں، جس کے لئے ہم ہر جائز اور قانونی طریقے سے جدوجہد کرتے رہیں گے۔ ہم سرائیکی دوبارہ بلاول بھٹو زرداری کے ان الفاظ کی مذمت کرتے ہیں، اگرچہ ہمیں 70سال سے اس ملک میں حقوق نہیں دیئے گئے، مگر یہ وطن، یہ پاکستان ہمیں جان سے زیادہ پیارا ہے۔ پاکستان زندہ باد“…… یہ ایک ردعمل نہیں، بلکہ متعدد آوازیں ایسی اٹھی ہیں،جنہوں نے بلاول بھٹو زرداری کے اس بیان پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ اب صحیح معنوں میں اس بات کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے کہ بلاول بھٹو کو سیاسی بلوغت کی ضرورت ہے۔

ان کے منہ میں جو آتا ہے کہہ دیتے ہیں، حالانکہ ایک قومی جماعت کے چیئرمین ہونے کی حیثیت سے انہیں بہت سوچ سمجھ کر بات کرنی چاہیے۔ ذرا ذرا سی بات پر ملک ٹوٹنے کی کہانی سنانا شروع کر دینا انتہائی معیوب عمل ہے۔ حیرت ہے کہ بلاول بھٹو زرداری اپنی عمر سے بھی بیس سال پہلے کے واقعات کو بلا سیاق و سباق دہراتے ہیں اور انہیں اپنے آج پر منطبق کر دیتے ہیں۔ سقوطِ ڈھاکہ کے پیچھے کئی عوامل تھے۔ بھارت کا بھی بڑا ہاتھ تھا۔ ایک ہزار میل کی دوری بھی ایک سبب کہا جا سکتا ہے۔ اس سانحہ کو آج صرف اپنی سیاسی ناکامیوں اور کرپشن پر پردہ ڈالنے کے لئے اس طرح دہرانا جیسے پاکستان میں سب کجھ وہی ہو رہا ہے، جو اس دور میں ہوا اور یہ بھی کہ پاکستان کی کمزور حالت اسی دور جیسی ہے، جب ملک دو لخت ہوا، پرلے درجے کی حماقت ہی نہیں،غیر ذمہ داری بھی ہے۔

سندھ میں اگر گیارہ برس تک مسلسل حکومت کرنے کے بعد بھی پیپلزپارٹی وہاں کے مسائل حل نہیں کر سکی، بلکہ اُلٹا اسے برباد کر چکی ہے تو اس کا جواب یہ نہیں کہ آپ ملک توڑنے کی دھمکی دینے لگیں، بلکہ آپ کو جواب دینا چاہیے کہ ایسا کیوں ہوا؟ کیا یہ شرمناک بات نہیں کہ کراچی کو لوگ کچرا کنڈی کہنے لگے ہیں۔ کوئی اس کا والی وارث نہیں، ہمیشہ صوبائی حکومت ایسی باتوں کی ذمہ داری قبول کرتی ہے، مگر یہاں تو بے بسی کا اظہار کیا جاتا ہے۔ بروقت فنڈز کی کمی کا رونا رونے والے یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ خود کراچی سے جو اربوں روپے سندھ حکومت اور کارپوریشن کو حاصل ہوتے ہیں، وہی اگر کراچی پر صرف کر دیئے جائیں تو صورتِ حال کہیں بہتر ہو سکتی ہے، مگر یہاں تو اب سب کچھ بے نقاب ہو چکا ہے۔

صاف لگ رہا ہے کہ کراچی کی بُری حالت کو وفاق سے اربوں روپے اینٹھنے کے لئے اس حالت میں برقرار رکھا جا رہا ہے۔ شہریوں کی زندگی کو مشکلات میں ڈال کر جو کھیل کھیلا جا رہا ہے، اسے شرمناک ہی کہا جا سکتا ہے۔ حیرت ہے کہ بلاول بھٹو زرداری ملک ٹوٹنے جیسے بیانات تو دے رہے ہیں، مگر انہوں نے ایک بار بھی کراچی کے مسائل زدہ علاقوں کا دورہ کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی، حتیٰ کہ اس حلقے کا دورہ بھی نہیں کیا، جہاں سے وہ ایم این اے منتخب ہوئے ہیں۔ اب ایسے میں اگر وفاقی حکومت آرٹیکل 149 کے تحت کراچی کے حالات کو بہتر کرنے کے لئے کچھ کرنا چاہتی ہے تو بلاول بھٹو زرداری بجائے اس کی حمایت کے، انتہا پسندی پر اتر آئے ہیں اور سندھو دیش بننے کی دھمکی دے دی ہے۔

سندھ کا کارڈ چونکہ پیپلزپارٹی کی مخصوص سوچ کا اظہار بن چکا ہے، اس لئے بات میں شدت پیدا کرنے کے لئے سرائیکی دیش کا ٹانکا بھی لگا دیا گیا، حالانکہ جنوبی پنجاب میں کوئی ایک شخص بھی ایسا نہیں ملے گا، جو یہ کہے کہ ہمیں حقوق نہ ملے تو پاکستان سے علیحدہ ہو جائیں گے۔ اس بات کو تو یہاں ایک بڑی گالی سمجھا جاتا ہے۔ جنوبی پنجاب میں بلاول بھٹو زرداری کے اس بیان پر ایک ہلچل مچ گئی ہے اور یہاں کے سرائیکی قوم پرست اسے اپنے پُرامن اور جائز مطالبے کے خلاف گہری سازش قرار دے رہے ہیں۔

مَیں سمجھتا ہوں سیاستدانوں کو کم از کم دو باتوں پر مستقبل زبان بندی کر لینی چاہیے۔ اول مارشل لاء اور دوم ملک ٹوٹنے کا فضول بیانیہ۔ حیرت ہے کہ مثبت سوچنے کی بجائے منفی سوچنے کو بڑائی سمجھا جاتا ہے۔ مارشل لاء کو دفن ہوئے ایک دہائی سے زائد عرصہ ہو گیا ہے۔ تمام اداروں نے اپنی اپنی حدود میں رہنا سیکھ لیا ہے، جمہوریت پر شب خون مارنے کا قصہ تمام ہوا، مگر لوگ ہیں کہ اب بھی مارشل لاء کا ذکر ایسے کرتے ہیں، جیسے وہ دروازے پر کھڑا ہو۔ کوئی تو انہیں شٹ اپ کال دے، ان کا منہ بند کرے، جنہیں آج بھی مارشل لاء کے خواب آتے ہیں، جس نے آخری مارشل لاء لگایا تھا، وہ آج نشان عبرت بنا ہوا ہے۔

ملک میں واپس نہیں آ سکتا۔ اب کون ایسا راستہ اختیار کرے گا، تاہم اس سے بھی زیادہ قبیح معاملہ یہ ہے کہ جب کوئی ملک ٹوٹ جانے کی بات کرتا ہے۔ پاکستان کو آج بھی کانچ کا کھلونا سمجھنے والے شائد کور ذوق ہو چکے ہیں۔ دنیا پاکستان کی اہمیت اور استحکام کو سمجھ رہی ہے،مگر جب بلاول بھٹو زرداری جیسے نوآموز سیاسی رہنما یہ کہتے ہیں کہ بنگلہ دیش کی طرح کوئی دوسرا ملک بھی پاکستان میں بن سکتا ہے تو اس کی عقل کا ماتم کرنے کو جی چاہتا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کے پاس کیا سیاسی طور پر مقابلہ کرنے کے لئے اور کوئی دلیل نہیں رہ گئی کہ وہ گھوم پھر کر وفاق کو خطرات اور ملک کے ٹکڑے ہونے کی بات کرتے ہیں۔

سرائیکی دیس تو رہا ایک طرف بلاول بھٹو زرداری اگر سندھو دیش کا نعرہ لے کر اندرون سندھ جائیں گے تو عوام انہیں بُری طرح مسترد کر دیں گے۔ ذاتی سیاسی فائدوں کے لئے ملک سے علیحدگی کی بات کرنے والے عوام کا دل نہیں جیت سکتے۔جھگڑا کراچی پر اختیارات کا ہے تو پیپلزپارٹی اپنی خامیاں دور کرے۔ کراچی کو حالات کے رحم و کرم پر نہ چھوڑے۔ کیا کسی ملک میں ایسا ہو سکتا ہے کہ ملک کے سب سے بڑے شہر کو لاوارث چھوڑ دیا جائے۔

پنجابی کا ایک محاورہ ہے…… ”کھیڈاں گے نہ کھیڈن دیاں گے“…… پیپلزپارٹی کراچی میں آج کل اس پر عمل کر رہی ہے۔ ڈھٹائی کی آخری حدوں کو چھوتی ہوئی نااہلی کا دفاع کرتے ہوئے ایک طرف اٹھارویں ترمیم کے ذریعے صوبوں کی خود مختاری کا ڈھنڈورا پیٹتی ہے اور دوسری طرف جب ذمہ داری کی بات آئے تو کبھی کارپوریشن اور کبھی سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کے کھاتے میں ڈال کر بری الذمہ ہو جاتی ہے، حالانکہ اندھے کو بھی پتہ ہے کہ یہ سب ادارے صوبائی حکومت کی ماتحتی میں کام کرتے ہیں۔

لگتا یہی ہے کہ سندھ حکومت جان بوجھ کر کراچی کے مسائل حل کرنا نہیں چاہتی، تاکہ وفاقی حکومت پر دباؤ بڑھے اور وہ صوبائی حکومت کو فنڈز جاری کرنے پر مجبور ہو جائے۔مقصد اگر صرف کراچی کے مسائل حل کرنا ہوتا تو نظر آتا کہ اس سمت میں کام ہو رہا ہے۔ یہ مقصد تو ہے ہی نہیں، اس لئے مسائل بڑھانے پر ہر ممکن توجہ دی جا رہی ہے۔

اب ایسے میں اگر وفاقی حکومت نے 149کے تحت کراچی کے مسائل کو حل کرنے کی ایک راہ نکالی ہے تو اس پر سندھ حکومت کو اپنا تعاون پیش کرنا چاہیے۔ وفاقی حکومت جو ڈائریکشن دے، اس پر عمل کرنا چاہیے،کیونکہ آئین یہی کہتا ہے، لیکن اس کی بجائے بغاوت کی راہ اختیار کرنا اور کراچی کے مسئلے کا کوئی حل بھی نہ دینا منفی سوچ کی آئینہ داری کرتا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کو کسی نے نہیں بتایا کہ پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی گزر چکا ہے۔

سندھ کارڈ بھی باقی نہیں رہا اور پاکستان ٹوٹنے کی کہانیاں بھی قصہ پارینہ ہو چکی ہیں۔ کھینچ کھانچ کر ایسی کہانی بنانے کی کوشش وہی نتائج دے سکتی ہے، جو بلاول بھٹو زرداری کے اس بیان کے نکلے ہیں،جنوبی پنجاب اور سرائیکی خطے کے عوام نے نہ صرف سرائیکی دیش کی اصطلاح پر احتجاج کیا ہے، بلکہ اسے سرائیکی عوام کی حب الوطنی پر ایک حملہ قرار دیاہے۔ اب عوام جان چکے ہیں کہ ایسے نعرے صرف سیاسی مفاد کے لئے لگاتے جاتے ہیں، جن کا مقصد حکومت اور اسٹیبلشمنٹ پر دباؤ بڑھانا ہوتا ہے۔

کشمیری پاکستان میں ضم ہونے کے لئے ترس رہے ہیں، قربانیاں دے رہے ہیں، لیکن ادھر بلاول بھٹو زرداری معمولی واقعات پر پاکستان کے (خدانخواستہ) حصے بخرے ہونے کی شرمناک پیش گوئیاں کر رہے ہیں۔ کیا یہ بلاول بھٹو زرداری کی بچگانہ سوچ نہیں؟…… ان کی اس سوچ پر سرائیکی قوم پرست رہنما اگر یہ کہتے ہیں کہ بلاول بھٹو زرداری سندھ کی سیاست کریں، سرائیکی خطے کو بخش دیں تو کیا غلط کہتے ہیں؟

مزید : رائے /کالم


loading...