معیشت بحران سے استحکام کی طرف بڑھ گئی ہے، مشیر خزانہ

معیشت بحران سے استحکام کی طرف بڑھ گئی ہے، مشیر خزانہ
معیشت بحران سے استحکام کی طرف بڑھ گئی ہے، مشیر خزانہ

  


اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) مشیر خزانہ عبد الحفیظ شیخ نے کہاہے کہ حکومت صرف عوام کے فائدے کے لئے کام کررہی ، ملک کی معیشت بحران سے استحکام کی طرف بڑھ گئی ہے ، ٹیکس کے معاملے پر کوئی رعایت نہیں کی جائیگی ، نیشنل بینک اور سٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن کی نجکاری پر غور کرر ہے ہیں، غیر ملکی قرضہ نہ لینے کیلئے ریونیو بڑھانے کی کوشش کررہے ہیں۔

چیئر مین ایف بی آر کے ساتھ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مشیر خزانہ نے کہا کہ موجود ہ حکومت آئی تو اقتصادی اعشاریے پریشان کن تھے،حکومت نے کابینہ کی تنخواہیں کم کیں اور فوج کابجٹ منجمد کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرنٹ اکاﺅنٹ خسارے میں 70فیصد کمی لائے ہیں ، پچھلے سال کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ بہت تباہ کن تھا ، پچھلے سال کی نسبت بر آمدات میں اضافہ اور درآمدات میں کمی لائی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ معیشت مستحکم کرنے کیلئے اقدامات کئے گئے ہیں ۔ ہم نے دو بڑے فیصلے کئے ہیں کہ وہ ادارے جن کوپبلک سیکٹر کے لوگ نہیں چلا سکتے ۔ اس کو شفاف انداز میں نجی شعبے کے حوالے کیا جائے تاکہ ملک میں پیداوار بڑھ سکے ۔ انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ بجلی کے ڈسٹری بیوشن کمپنیوں اور بڑے اداروں ، نیشنل بینک ، سٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن کو نجی شعبے کے حوالے کرنے کی نظر سے دیکھا جارہاہے، دس کمپنیوں کی نجکاری کیلئے اشتہار دیئے گئے ہیں ۔ اس بات پر بھی غور کیا جارہاہے کہ بجلی کے گردشی قرضے پر بجلی چوری کم کے قابو پایا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آنیوالے سال میں اس بات پر پیش رفت ہوگی کہ حکومت کیسے اپنی آمدنی بڑھا سکتی ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہم نے جاز اور ٹیلی نار سے 70ارب روپے لئے ہیں اور ژونگ سے بھی 70ارب روپے کی توقع کررہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم سٹیٹ بینک کی آمدنی کوبھی چار سو ارب کے روپے کے نزدیک دیکھ رہے ہیں، ہم اس سال میں ایک ہزار ارب روپے سے زائد ٹیکس ریونیو دیکھ رہے ہیں ، اس سے حکومت کو سہولت ملے گی کہ وہ اپنے قرضے بھی کم کرسکے اور عوامی منصوبوں پر کام بھی کرسکے ۔

عبد الحفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ حکومت نے سٹیٹ بینک سے کوئی قرض نہیں لیا ، ہمار ے روپے کی قدر میں اضافہ ہوا ہے جس سے ہم کو 246ارب روپے کا فائدہ ہواہے ۔ اس مہینے ہمارے قرض میں 224ارب کا اضافہ ہواہے ، اس سے پتہ چلتاہے کہ ہمار ے ملک کی ترقی کی رفتار کس جانب جارہی ہے ؟ہم نے زراعت کوجو اہمیت دی ہے ، اس کے فوائد بھی آنے شروع ہوگئے ہیں ، اگر ہم پورے پاکستان کے اندر انقلاب لانا چاہتے ہیں جس سے عام لوگوں کی زندگی بہتر ہو تواس کے لئے ہیں زراعت میں بہتری لانا ضروری ہے ۔ہم سخت انداز میں اخراجات میں کمی لائے ہیں ، ٹیکس نیٹ میں 6لاکھ افراد کااضافہ ہواہے ، اس کو مزید بڑھارہے ہیں۔ معاشی اصلاحات کی وجہ سے معیشت میں استحکام آیا ہے ، ملکی ادارے بہتر انداز میں چلانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ ہم استحکام سے بڑھ کر پاکستان کے لوگوں کواس حکومت سے جو امیدہے ، وہ پورا کرنے جارہے ہیں۔ اس حکومت کا محور صرف پاکستان کے عوام ہیں ، ہم کسی کے لئے کام نہیں کررہے سوائے پاکستان کے عوام کے فائدے کے ۔ انہوں نے کہا کہ ایسا پروگرام لارہے ہیں جس سے بر آمد کندگان کوفوری ریفنڈ ملے گا،آئندہ سے ہر ماہ کی 16تاریخ کوٹیکس ریفنڈ ہوجایا کرے گا ، ہم سرمایہ کاروں کے ساتھ کھڑے ہیں لیکن جہاں ٹیکس دینے ہیں ، وہا ں کوئی سودے باز ی نہیں کی جائیگی ۔مہنگائی کی شرح اس سے کم ہے جس کی توقع کی جارہی تھی ، حکومت مہنگائی کو کم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ انہوں نے کا کہ احتساب اس انداز سے چاہتے ہیں کہ کاروباری طبقہ متاثر نہ ہو۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم ہوئی ہیں تو ہم نے بھی کی ہیں اور کم ہونگی کو اس کا فائدہ بھی عوا م کودیاجائیگا۔ حکومتی پالیسیوں کے نتائج آہستہ آہستہ سامنے آئیں گے ۔

مزید : اہم خبریں /قومی


loading...