’وقت آگیا کہ ایران پر حملہ کیا جائے‘سعودی آئل ریفائنری پر حملے کے بعد امریکی سینیٹرکا مطالبہ ، اہداف کی نشاندہی بھی کردی

’وقت آگیا کہ ایران پر حملہ کیا جائے‘سعودی آئل ریفائنری پر حملے کے بعد ...
’وقت آگیا کہ ایران پر حملہ کیا جائے‘سعودی آئل ریفائنری پر حملے کے بعد امریکی سینیٹرکا مطالبہ ، اہداف کی نشاندہی بھی کردی

  


واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن)سعودی آئل ریفائنری پر حملے کے بعد سینیٹر لنڈسے گراہم نے ایران پر حملے کا مطالبہ کردیا اور حکومت کو تجویز دی ہے کہ ایرانی رجیم کی کمر توڑنے کیلئے ان کی آئل ریفائنریز کو نشانہ بنایا جائے۔

امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم نے ٹوئٹر پر اپنے بیان میں کہا کہ ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی آئل ریفائنریز پر حملہ اس بات کی ایک اور مثال ہے کہ ایران کس طرح مشرقِ وسطیٰ میں بے امنی کو فروغ دے رہا ہے۔ ایرانی رجیم کو قیام امن میں کوئی دلچسپی نہیں ہے، یہ لوگ ایٹمی ہتھیار اور علاقائی برتری کیلئے کوشاں ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کرتے ہوئے کہا اب وقت آگیا ہے کہ امریکہ ایران پر حملے کی منصوبہ بندی کرے اور اگر وہ اپنی خلاف ورزیاں اور ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش جاری رکھتا ہے تو اس کی آئل ریفائنریز پر حملے کیا جائیں۔

سینیٹر لنڈسے گراہم کا کہنا تھا کہ ایران اس وقت تک باز نہیں آئے گا جب تک کہ اس کے اقدامات کا منہ توڑ جواب نہیں دیا جائے گا۔ ایران کی آئل ریفائنریز پر حملے کرکے انہیں سبق سکھایا جاسکتا ہے اور اس سے ایرانی رجیم کی کمر بھی توڑی جاسکتی ہے۔

ہفتہ کے روز سعودی عرب کی تیل کمپنی آرامکو آئل فیلڈ زکے 15 تیل کے کنووﺅں پر 10 ڈرونز نے حملہ کیا تھا جو کہ ” اباقق “ اور ” خورس “ کے مقام پر واقع ہیں۔ حملوں کے نتیجے میں 57 لاکھ بیرل یومیہ خام تیل کی سپلائی متاثر ہوئی اور سعودی عرب کی پیداوار نصف رہ گئی۔ اوپیک کے اگست میں جاری ہونے والے اعدادو شمار کے مطابق سعودی عرب کی یومیہ خام تیل کی پیداوار 98 لاکھ بیرل ہے۔

سعودی آئل فیلڈز پر حملوں کا الزام یمن کے حوثی باغیوں نے قبول کیا ہے تاہم امریکہ نے ان کا اعتراف جرم مسترد کرتے ہوئے اس کا الزام ایران پر عائد کیا ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب پر 100 کے قریب ڈرون حملوں میں ایران ملوث ہے ، ایران کے صدر اور وزیر خارجہ ایسا ظاہر کر رہے ہیں کہ وہ سفارتکاری میں مصروف ہیں۔ ایران نے اب دنیا کی انرجی سپلائی پر براہ راست حملہ کیاہے جو کہ اس سے قبل پہلے کبھی نہیں ہوا تھا ، اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے کہ یہ حملہ یمن سے کیا گیا ہے۔

مزید : بین الاقوامی


loading...