خواتین کے خلاف جرائم گورنر پنجاب قانون سازی کے لئے آگے بڑھیں 

خواتین کے خلاف جرائم گورنر پنجاب قانون سازی کے لئے آگے بڑھیں 

  

پنجاب کے گورنر چودھری محمد سرور نے کہا ہے کہ خواتین کے ساتھ بداخلاقی کرنے والوں کی سزا پھانسی ہونی چاہئے، خاتون زیادتی کیس سے سب کے سر شرم سے جھک گئے ہیں، خواتین سے زیادتی دہشت گردی ہے، تفتیش ہونی چاہئے کہ موٹروے پر پولیس کیوں تعینات نہیں کی گئی،جب تک سزا اور جزا کا نظام نہیں آئے گا معاملات  ٹھیک نہیں ہوں گے، ہماری تفتیش اور پراسیکیوشن بہت کمزور اور بوسیدہ ہے، ہر ادارے میں اصلاحات کی ضرورت ہے، سی سی پی او کو الفاظ کا چناؤ صحیح کرنا چاہئے تھا،وہ پنجاب انسٹیٹیوٹ آف لینگویج اینڈ کلچر میں تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔

گورنر صوبے کا آئینی سربراہ ہے،آئین میں اس عہدے کی حدود اور اختیارات متعین ہیں تاہم صوبوں کے گورنر اپنے اپنے صوبے میں کبھی کبھار ان حدود سے تجاوز کرتے نظر آتے ہیں اور کچھ نہیں تو ایسی بیان بازی جاری رکھتے ہیں جو اُن کے منصب سے لگا نہیں کھاتی، تاہم پنجاب کے گورنر اگر خواتین کے ساتھ بداخلاقی کے مرتکبین کو  سزائے موت دلوانے کے حق میں ہیں تو اُنہیں چاہئے کہ وہ یہ معاملہ صوبے کے چیف ایگزیکٹو (وزیراعلیٰ) کے ساتھ اٹھائیں اور پھر مل کر ایسی قانون سازی کے لئے کوشش کریں، جس کے ذریعے خواتین کے ساتھ بد اخلاقی کے مرتکبین کو موت کی سزا دی جا سکے، صرف ایک آدھ بار کسی تقریب میں اظہارِ خیال کر دینے یا کسی نیوز چینل پر گفتگو کر دینے سے تو سزائے موت کے حق میں راہ ہموار نہیں ہو گی،کیونکہ ان کی پارٹی کے اندر بھی ایسے لوگ موجود ہوں گے، جو اُن کی رائے سے اختلاف کریں گے اور نہیں چاہیں گے کہ ایسا ہو، تاہم ایک بہت بڑا طبقہ ایسا موجود ہے،جس کا یہ خیال ہے کہ جب تک ایسے جرائم پرموت جیسی سخت سزائیں نہیں دی جائیں گی اس وقت تک نہ تو ایسے سنگین جرائم رُک سکیں گے اور نہ ہی قانون کا خوف اور احترام پیدا ہو گا۔

موٹروے پولیس پر خاتون سے زیادتی کے واقعہ پر چونکہ میڈیا کی توجہ مرکوز ہو گئی اور سوشل میڈیا بھی متحرک ہو گیا اِس لئے پولیس کو اس کیس پر فوکس کرنا پڑا ورنہ اس افسوسناک واقعے کے بعد ایسے واقعات رُک تو نہیں گئے اور روزانہ پولیس کے پاس ایسے واقعات کی شکایات بھی آ رہی ہیں، مقدمات بھی درج ہو رہے ہیں اور ان مقدمات کی بنیاد پر خبریں بھی شائع ہو رہی ہیں،لیکن اِن واقعات پر نہ تو پولس اتنی توجہ دے رہی ہے، جس کے وہ مستحق ہیں اور نہ ہی میڈیا اس طرف توجہ کر رہا ہے،حالانکہ جرم کی نوعیت یکساں ہے،بلکہ بعض صورتوں میں تو زیادہ سنگین بات ہے،گھر میں گھس کر  خاتون سے گینگ ریپ کا معاملہ تونسہ کے گاؤں میں بھی ہو چکا ہے،وزیراعلیٰ نے چوبیس گھنٹوں میں رپورٹ طلب کی تھی، رپورٹ بھی اُنہیں مل چکی ہو گی لیکن یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ اس معاملے میں کیا کارروائی ہوئی، موٹر وے کیس میں پولیس نے ایک ملزم کو گرفتار کیا ہے جس نے اعتراف جرم بھی کر لیا ہے، تاہم مرکزی ملزم ابھی تک گرفتار نہیں ہو سکا۔

چند برس قبل قصور میں ایک بدقسمت بچی کے ساتھ بداخلاقی کے بعد قتل کا معاملہ پیش آیا تھا، تو بھی میڈیا، پولیس اور دوسرے اداروں نے اس پر توجہ مرکوز کر دی،نتیجہ یہ ہوا کہ ملزم کو موت کی سزا سنا دی گئی اور وہ پھانسی چڑھ گیا،لیکن سوال یہ ہے کہ اس کے بعد اسی نوعیت کے اور اتنے ہی سنگین جو واقعات ہوئے اُن کے مجرم کیوں گرفتار نہ ہو سکے اور اُنہیں وہ سزا کیوں نہ ملی جو زینب کیس کے ملزم کو ہوئی، ایسے بہت سے کیسوں میں تو ملزم گرفتار ہی نہیں ہوسکے، جہاں گرفتاریاں ہو گئیں  وہاں بھی اب تک سزائیں نہیں ہو سکیں۔گورنر پنجاب نے تفتیش اور پراسیکیوشن سسٹم میں کمزوریوں اور کوتاہیوں کی بات کی ہے،لیکن وہ صوبے کے آئینی سربراہ ہیں اُن کا کام محض کمزوریوں کی نشاندہی نہیں ہے،انہیں چاہئے کہ وہ عملی اقدامات کے لئے آگے بڑھیں اور جب تک وہ اس عہدے پر ہیں کوئی ایسا کارنامہ انجام دے جائیں جسے اُن کے بعد یاد رکھا جائے۔ہمیں یہ احساس ہے کہ ان کی ذمہ داریوں کا دائرہ آئین نے متعین کر رکھا ہے،لیکن وہ اگر صاف پانی جیسا منصوبہ اپنے دائرہ کار میں لے آئے ہیں اور اُن کی خواہش ہے کہ وہ صوبے کے عوام کو ہر قیمت پر صاف پانی مہیا کر کے رہیں گے تو پھر اُنہیں خواتین سے بداخلاقی کے مجرموں کو سزائے موت دلوانے کے لئے اپنی کوششوں اور صلاحیتوں کے اظہار کا آغاز کر دینا چاہئے،چونکہ انہوں نے خود ہی ایک رائے ظاہر کر دی ہے اور وہ کوئی عام آدمی بھی نہیں ہیں، جو صرف اظہارِ رائے ہی کر سکتا ہو اُنہیں اِس سلسلے میں عملی اقدامات کا آغاز بھی کر دینا چاہئے اور فوری طور پر کر دینا چاہئے، یہی حالات ہیں جن میں ایسی قانون سازی تیزی کے ساتھ مکمل کی جانی چاہئے۔ اگر یہ معاملہ ٹھنڈا ہو گیا اور  معاملے پر فوکس نہ رہا تو پھر یہ بھی بہت سے دوسرے معاملات کی طرح دب جائے گا اور ایک بھولی بسری کہانی ہو جائے گا۔

ہمارے معاشرے میں جرائم جس طرح پھیل رہے ہیں اور جرائم پیشہ گروہ جس طرح بڑھ رہے ہیں اور جس طرح جرم اور سیاست میں فاصلے مٹ رہے ہیں گورنر صاحب کو اس کا پورا ادراک ہے،اصل بات تو یہ ہے کہ وہ اپنی سوچ کو عملی جامہ پہنانے کے لئے آگے بڑھیں، اور پنجاب کی حکومت کو اس بات پر قائل کریں کہ وہ اِس سلسلے میں قانون سازی کے لئے اقدامات کرے اور کم سے کم مدت میں قانون بنا کر اسمبلی سے منظور کرائے،جب تک ایسا نہیں ہو گا،جرائم کی سنگینی کے باوجود جرائم پیشہ گروہوں کو قابو کرنا مشکل ہو گا۔موٹروے کا کیس تو حکومت کے لئے ٹیسٹ کیس بن چکا ہے،لیکن اگر ایسے جرائم کے آگے بند نہ باندھا گیا تو اس ایک کیس کے ملزم تلاش کر لینا یا پھر انہیں سزا دلوا دینا کافی نہیں ہو گا،اصل ضرور ت تو یہ ہے کہ جو دوسرے ایسے کیس ہو رہے ہیں اُن پر بھی اتنی ہی جاں سوزی سے توجہ دی جائے اور جزا و سزا کا ایسا نظام وضع کیا جائے جس میں مجرم جرم کرنے کے بعد سزا سے نہ بچ سکیں اور وہ جرم کر کے مطمئن نہ ہو جائیں کہ قانون ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا۔

مزید :

رائے -اداریہ -