بر توکّل زانوائے اُشتر بہ بند!

بر توکّل زانوائے اُشتر بہ بند!
بر توکّل زانوائے اُشتر بہ بند!

  

میری خواہش تھی کہ قطر میں ہونے والے تاریخی بین الافغان امن مذاکرات پر کوئی کالم لکھوں کہ اس کا تعلق پاکستان کی سلامتی اور مستقبل میں پاکستانی عوام کی خوشحالی سے ہے۔پہلی دفعہ عبداللہ عبداللہ اور  ملا برادر کے درمیان انٹراافغان ڈائیلاگ ہو رہا تھا۔ امریکی وزیر خارجہ بھی روسٹرم پر کھڑے تقریر فرما رہے تھے اور ہمارے وزیرخارجہ بھی اسلام آباد میں بیٹھے کہہ رہے تھے کہ افغان مسئلے کے سٹیک ہولڈرز کو یہ موقع ہاتھ سے ضائع نہیں کرنا چاہیے۔میرا خیال ہے قریشی صاحب ٹھیک ہی کہہ رہے تھے کہ19،20 برس کے بعد افغانستان میں قیامِ امن کے امکانات پیدا ہو رہے تھے۔ حکومت اور طالبان ایک ہی جگہ اکٹھے تھے اورتمام فریق اس مسئلے کے حل میں پاکستان کی کنٹری بیوشن کو تسلیم کر رہے تھے۔

ایک دوسرے موضوع پر کالم لکھنے کی خواہش بھی تھی کہ ایل او سی پر کیا ہو رہا ہے اور ہندوستان کے آئندہ ارادے کیاہیں۔ یہ پاکستان کی بقا کا مسئلہ بھی تھا(اور ہے)اگلے ماہ افغانستان میں صرف 4000 امریکی فوجی باقی رہ جائیں گے۔وہ افغان حکومت کی کہاں تک پشتیبانی کریں گے اور اس صورتِ حال میں جب امریکہ میں الیکشن ہو رہے ہوں گے تو انڈیا، افغانستان میں کس کے ساتھ ہو گا اور کیا امریکی ٹروپس کے انخلاء کا کوئی اثر پاکستان کی مستقبل قریب کی سٹرٹیجک صورتِ حال پر بھی پڑے گا یا نہیں، اس پر کالم میں بحث کی جا سکتی تھی۔

کالم کا تیسرا موضوع انڈو چائنا تعلقات پر بھی ہو سکتا تھا اور میں لکھنا چاہ رہا تھا کہ اگر انڈیا اور چین میں کوئی ایسا سمجھوتہ ہو گیا جس کے نتیجے میں انڈو چائنا سٹینڈ آف،سٹینڈ ڈاؤن ہو گیا تو کیا اس کے کوئی مثبت اثرات CPECکی تعمیر پر بھی پڑیں گے یا نہیں پڑیں گے۔ مین لائن (ML-1) کامنصوبہ شروع ہو رہا ہے۔PC-1 تک نوبت آپہنچی ہے، بقول شیخ رشید منصوبے کے بعض تعمیری پہلوؤں پر بین الاقوامی ٹینڈر طلب کئے جا رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا انڈو چائنا کشیدگی یا امن کی فضا میں اس ریل پراجیکٹ پر کام کی رفتار تیز ہوگی یا اب تک کی طرح سست روی کا شکار رہے گی؟

ایک چوتھا موضوع یہ بھی میرے ذہن میں کلبلا رہا تھا۔اور وہ انڈو پاک انڈس واٹر ٹریٹی 1960ء کے مستقبل پر تھا۔اس دریائی آبی معاہدے کے دور رس منفی اثرات  انڈیا کی طرف سے پاکستان پر ظاہر ہونے شروع ہو گئے ہیں۔ حالیہ بارش کے سبب دریائے راوی، چناب اور جہلم میں انڈیا نے اپنے ڈیموں کے فلڈ گیٹ کھول کر پاکستان کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ویسے تو ہر سال ہی ایساہو رہا ہے لیکن امسال چونکہ بارشیں معمول سے زیادہ ہوئی ہیں، اسی لئے سیلابی کیفیت نے سارے پاکستان کو متاثر کیا ہے۔ لیکن میڈیا نے سارا فوکس کراچی اور سندھ پر رکھا ہے۔ کراچی کی اہمیت سے انکار نہیں لیکن ملک کے دوسرے حصوں میں طغیانِ آب نے جو جانی اور مالی نقصان کئے ہیں، ان کے  اندازے لگائے جا رہے ہیں، ان نقصانات میں انڈیا کی کنٹری بیوشن کیا اور کتنی ہے اس کا بیانیہ بھی نہ صرف ہمارے میڈیا پر، بلکہ دُنیا بھر کے میڈیا پر آنا چاہئے۔یورپ میں کئی دریا ایسے ہیں جو ایک سے زیادہ ممالک میں بہتے ہیں لیکن ان لوگوں نے ان پر ڈیم نہیں بنائے اور نہ سیلابی موسم میں ان کے  فلڈ گیٹس کھول کر ہمسایہ ملک کو نقصان پہنچایا ہے (اس کی تفصیل پھر کبھی سہی)…… لیکن انڈیا کے دریا چونکہ بالائی علاقوں سے بہہ کر پاکستان میں داخل ہوتے ہیں اِس لئے ان کے بہاؤ کے راستے میں انڈیا نے جگہ جگہ ڈیم بنا کر آبپاشی اور بجلی مہیا کرنے کی سبیلیں کر رکھی ہیں۔

ان ڈیموں کی وجہ سے پاکستان کو دہرا نقصان ہوتا ہے۔ ایک تو ہمارے دریاؤں میں (بالخصوص چناب اور جہلم میں) پانی کم ہو رہا ہے اور جب اس کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے،اس میں زیادہ کمی ہو جاتی ہے اور جب مون سون کا  موسم آتا ہے اور دریا بپھرے ہوتے ہیں تو ان کا فالتو پانی پاکستان کی طرف چھوڑ کر ہماری فصلوں،شہروں،سڑکوں اور آبادیوں کو بہت نقصان پہنچایا جاتا ہے۔ پاکستان کے پاس اس کا کوئی علاج نہیں، کیونکہ زمین کی گسترش (Layout) شمال مشرق سے جنوب مغرب کی طرف ہے۔ انڈیا کے شمالی صوبوں میں جو دریا بہتے ہیں وہ جب موسمِ برسات میں پاکستان میں داخل ہوتے ہیں تو تباہی مچا دیتے ہیں،یعنی دریاؤں کے پانی کی کمی بیشی کا دہرا نقصان پاکستان کو ہوتا ہے۔ پاکستان اس لئے مجبور ہے کہ ہم جغرافیہ تبدیل نہیں کر سکتے۔ اپنے مٹھن کوٹ کو اٹھا کر ممبئی نہیں لے جا سکتے اور کراچی کے ڈیلٹا کو مدراس (چنائی) نہیں پہنچا سکتے۔ہاں ایک درماں درد کا یہ ہے کہ ہم اپنے دوست چین کو درخواست کر سکتے ہیں کہ وہ ان دریاؤں کو انڈیا کے خلاف اس طرح ریگولیٹ کرے جس طرح انڈیا نے چناب اور جہلم کو پاکستان کے خلاف ریگولیٹ کیا ہوا ہے…… ملک کی تقسیم سے پہلے ایسا نہیں تھا اور ہم صدیوں سے بہتے ان دریاؤں سے یکساں مستفید ہو رہے تھے……

میری خواہش تھی کہ قارئین کو یہ بتاؤں  کہ چین،کس طرح پاکستان کی مدد کر رہا ہے اور دریائے برہم پتر پر11ڈیم بنا کر انڈیا کے ساتھ وہی سلوک کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جو انڈیا نے پاکستان کے ساتھ کیا ہے۔لیکن قارئین محترم! ان ”خواہشات“ کے علی الرغم مَیں اس سانحہئ موٹروے پر لکھنا چاہ رہا ہوں جو ایک ہفتے سے میڈیا کا موضوع بنا ہوا ہے اور پاکستان کے ہر طبقہ  ئ آزادی کو اس نے اپنی گرفت میں لے رکھا ہے، حالانکہ کوئی علاقائی (ریجنل) اہمیت کا مسئلہ نہیں، صرف مقامی (لوکل) مسئلہ ہے جس کا تعلق مقامی امن و امان سے ہے۔

آج پورا ہفتہ ہو گیا ہے۔ ملزمان ابھی  تک مفرور ہیں۔ ایک ملزم(وقار الحسن) کے بارے میں خبریں آ رہی ہیں کہ اس نے خود کو پولیس کے سامنے سرنڈر کر دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ بے گناہ ہے۔اس کا DNA  ٹیسٹ کروایا جائے…… دوسرا اور اصل ملزم اپنی بیوی کے ہمراہ ابھی تک مفرور بتایا جا رہا ہے اور خبر نہیں کہ وہ کب پکڑا جائے گا۔اگر اس کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی جا سکتی تھی تو وزیراعلیٰ کو 12ستمبر کو پریس کانفرنس کرنے کی ضرورت  کیا تھی؟ آئی جی، صوبائی وزیر اطلاعات اور دوسرے متعلقہ تفتیشی افسروں کی پوری ایک پلاٹون کو اس پریس کانفرنس میں بیٹھ کر اپنی ناکامی کو تسلیم کرنے کی کیا تُک تھی؟اب ایک ملزم کی گرفتاری کی اطلاعات ہیں جس کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ اس نے اقرار جرم کر لیا ہے۔

ایک دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا یہ سانحہ موٹروے اپنی نوعیت کا پہلا سانحہ ہے؟…… حقوقِ نسواں کی علمبردار خواتین کی پوری ایک فصل اُگ آئی ہے۔اس کا مقصود کیا ہے؟…… کیا موجودہ حکومت کو ناکام ثابت کرنے کا یک نکاتی ایجنڈا پیش ِ نظر ہے!…… یہ مخدوم جاوید ہاشمی یکایک نیند سے بیدار ہو کر یہ مطالبہ کیوں کر ر ہے ہیں کہ عمران خان کو مستعفی ہو جانا چاہئے؟……سارے اپوزیشن رہنماؤں نے سانحہ موٹروے کو اتنا کیوں اچھالا ہے کہ میڈیا کو اس کے علاوہ کوئی اور موضوع ڈسکس کرنے کی فرصت ہی نہیں مل رہی؟…… سارے ٹاک شوز اس ایک نکتے پر کیوں مرکوز ہیں کہ حکومت گھر جائے اور لاہور کے سی سی پی او کو نوکری سے برخواست کر دیا جائے؟……کیا عمر شیخ کو اس دھمکی کا ترکی بہ ترکی جواب دینے کی سزا کا مطالبہ کیا جا رہا ہے جو کسی اپوزیشن لیڈر نے سانحہ موٹروے سے ایک روز پہلے کیا تھا؟……وزیراعلیٰ پنجاب سی سی پی او کے بیان کو کنڈم کرنے سے پہلے یہ کیوں نہیں سوچتے کہ یہ بیان انسٹرکشنل تھا یا کسی قانونی نقطہ ئ  نظر کو پیش ِ نظر رکھ کر دیا گیا تھا؟…… انہوں نے اگر یہ کہہ دیا تھا کہ خاتون کو اپنے معصوم بچوں کے ساتھ آدھی رات کو اکیلے ایسی سڑک پر نہیں نکلنا چاہئے تھا جو سنسان،ویران،کچی اور سائیں سائیں کر رہی تھی تو کیا کوئی پولیس آفیسر اس طرح کے نصیحت آموز بیان دینے پر گردن زدنی قرار دیئے جائیں؟…… کیا حقوقِ نسواں کی کوئی خاتون کسی ٹی وی چینل پر آ کر یہ پوچھے کہ اگر یہ سانحہ عمر شیخ کی بیٹی، بہن یا بیوی کے ساتھ پیش آتا تو ان کا ردعمل کیا ہوتا؟…… کیا عمر شیخ اپنی کسی بیٹی، بہن یا بیوی کو آدھی رات کے وقت بغیر پٹرول کے نکلنے کی اجازت دے سکتے تھے؟…… کیا پاکستان کی ثقافتی، تہذیبی اور اخلاقی اقدار اتنی کڑی اور ناقابل ِ شکست و ریخت ہیں کہ وہ کسی اکیلی خاتون کو اس ہیت کذائی میں رات کے ایک بجے ویران سڑکوں پر بچوں کے ساتھ پٹرول کے بغیر نکلنے کی کھلی اجازت ہے؟…… پاکستان میں تو ہر روز تونسہ، خانیوال اور جھنگ جیسے شہروں میں دن دیہاڑے گھر کے اندر گھس کر ظالم لوگ زیادتی کا نشانہ بناتے اور غائب ہو جاتے ہیں۔کیا کبھی ان مظلوموں کی فریاد پر بھی صوبے کے وزیراعلیٰ کو اپنے آئی جی کے ساتھ اس طرح کی پریس کانفرنس کرنے کی ضرورت پیش آئی ہے؟……معصوم زینب کا واقعہ تو  دور کا قصہ ہے،ننھی مروہ کے حالیہ دلدوز واقعے پر کوئی وزیراعلیٰ میڈیا پر آ کر لب کشا کیوں نہیں ہوا؟……

مجھے احساس ہے کہ موٹروے کے سانحے میں بدنصیب خاتون پر جوگزری اس کی مذمت قابل ِ صد گردن زدنی ہے۔مَیں صدقِ دِل سے عرض کر رہا ہوں کہ مَیں نے کئی بار اپنے آپ سے سوال کیا ہے: ”جیلانی صاحب! اگر یہ حادثہ آپ کی بیٹی یا بہو یا بہن یا بیوی کے ساتھ پیش آتا تو آپ کے جذبات کیا ہوتے؟“…… اس دل فگار سانحے کی دلدوزی پر کسی کو بھی کوئی شک نہیں،لیکن اس بات کو ضرور دھیان میں رکھیے کہ اگر پاکستان کا معاشرہ ایسا ہے کہ یہاں ہر ایک منٹ میں سات رجسٹرڈ ریپ کے کیس رونما ہوتے ہیں اور کئی ”سات“ ایسے ہیں جو رپورٹ نہیں ہوتے تو کیا ہمیں اپنی بیٹیوں کو یہ نصیحت نہیں کرنی چاہئے کہ ”پہلے اونٹ کے زانو کو باندھو اور پھر توکل کرو!“……

گفت پیغمبرؐ بآواز بلند

بر توکل زانوے اُشتر بہ بند

مزید :

رائے -کالم -