سانحہ موٹر وے کے بعد  خواتین ہیجانی کیفیت میں مبتلا!

سانحہ موٹر وے کے بعد  خواتین ہیجانی کیفیت میں مبتلا!

  

ناصرہ عتیق

اِک زندہ حقیقت مرے سینے میں ہے مستور

کیا سمجھے گا وہ جس کی رگوں میں ہے لہو سرد

نے پردہ، نہ تعلیم، نئی ہو کہ پرانی

نسوانیت زَن کا نگہبان ہے فقط مرد

جس قوم نے اس زندہ حقیقت کو نہ پایا

اُس قوم کا خورشید بہت جلد ہوا زرد!!

(اقبالؒ)

 رواں سال میں بد اخلاقی اوراجتماعی بد اخلاقی کے دو ہزار ایک سو پچپن کیس رپورٹ ہوئے  جو بد اخلاقی کے دو ہزار چوالیس اور اجتماعی بداخلاقی کے ایک سوگیارہ سانحات پر مشتمل ہیں 

 لاہور سیالکوٹ موٹروے پر گجرپورہ کے نزدیک ہونے والے سانحہ نے پورے ملک میں اضطراب اور غم و غصہ کی لہر دوڑا دی ہے۔اپنی نوعیت کا یہ ایسا واقعہ ہے کہ جس نے منصفوں کو آزمائش کی بھٹی میں جھونک دیا ہے۔یورپ،امریکہ اور بھارت میں اس طرح کے واقعہ کا رونما ہونا سمجھ میں آتا ہے، لیکن پاکستان میں وقوع پذیر ہونے والی درندگی کی ایسی قبیح مثال نے قومی نظریہ،ملکی سماج، حکومتی رِٹ وگورننس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بے حسی کے تن سے لباس ایک ہی جھٹکے میں اتار پھینکا ہے۔ کسی نے صحیح کہا ہے کہ ”بس یہ دُعا کریں کہ موٹروے پر خاتون کے ساتھ اجتماعی بد اخلاقی کرنے والے مجرم طاقتور ہونے کی بجائے کمزور لوگ ہوں تاکہ انہیں نشانِ عبرت بنانے میں آسانی رہے، کیونکہ ہم نے دو دن قبل اچکزئی کو باعزت بری ہوتے دیکھا ہے“۔

محترم وزیراعظم نے خاتون سے زیادتی کا سخت نوٹس لیا ہے اور آئی جی پنجاب کو ملزمان کی گرفتاری کا حکم دیا ہے۔فیصل واوڈا نے کہا ہے کہ درندوں کو سرعام پھانسی دی جائے۔جناب فیصل واوڈا سے پوچھا جا سکتا ہے کہ سرعام پھانسی دینے کا اختیار کس کے پاس ہے اور پہلے کتنے مجرموں کو پھانسی ملی ہے؟

پنجاب پولیس کی اپنی مرتب کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ رواں سال میں بد اخلاقی اوراجتماعی بد اخلاقی کے دو ہزار ایک سو پچپن کیس رپورٹ ہوئے ہیں جو بد اخلاقی کے دو ہزار چوالیس اور اجتماعی بداخلاقی کے ایک سوگیارہ سانحات پر مشتمل ہیں۔تفصیل میں نہیں بتایا گیا کہ کتنے مجرموں کو سزائیں ہوئیں اور کتنے باعزت طور پر بری ہوئے ہیں۔

میرے وطن پاکستان کی تقریباً نصف آبادی خواتین پر مشتمل ہے۔خواندہ اور ناخواندہ خواتین اپنی تعلیم اور اپنے ہنر سے ملکی تعمیر و ترقی کے شعبوں میں اپنا حصہ بٹا رہی ہیں تاہم ہراسگی کی تلوار ان کے سروں پر لٹکتی رہتی ہے۔وجہ یہ ہے کہ قانون تشکیل دینے اور نافذ کرنے والے ادارے بے حس و لاتعلق اور قانون کے محافظ نااہل ِ اور لاپرواہ ہیں۔

دیکھا جائے تو گجر پورہ موٹروے سانحہ نے نہ صرف پوری قوم کو کرب میں مبتلا کر دیا ہے،بلکہ حکومت کی گورننس کے غبارے سے ساری ہوا نکال دی ہے۔اس واقعہ نے بہت سے سوالات کو جنم دیا ہے اور اُن خواتین کو سوچ و فکر اور پریشانیوں کے ایک نئے الجھاؤ میں ڈال دیا ہے جو اپنی مجبوریوں میں تنہا باہر نکلنے اور سفر کرنے پر مجبور ہیں۔پولیس ہی کے ایک اعلیٰ ذمہ دار افسر کے ایک فرمان کے مطابق دیکھا جائے تو خواتین باہر نکلنے سے پہلے احتیاطی اور حفاظتی تدابیر اپنائیں اور بصورتِ دیگر باہر نکلنے سے گریز کریں،کیونکہ ایک اسلامی ملک میں آدھی رات کو سونا اچھالتی مسافر خاتون صرف قصے کہانیوں میں پائی جاتی ہے اور حقیقت سے جس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

گجر پورہ سانحہ سے لے کر اب تک مَیں شدید ذہنی خلجان میں مبتلا ہوں۔میری طرح دیگر خواتین بھی یقینا پریشان اور مضطرب ہیں۔گذشتہ ایک ہفتہ سے مَیں اپنے ذہن کے پردے پر تحریک پاکستان اور ہجرت کے مہیب واقعات کا ری پلے دیکھ رہی ہوں۔ خواتین کی بے حرمتی کے دِل فگار قصوں کے اعادے نے مجھ پر نیند حرام کر دی ہے۔ مَیں یاد کرتی ہوں۔ قدرت اللہ شہاب واہگہ بارڈر پر اپنے بھائی اور بھابھی کو لینے گئے تھے۔ بھابھی کو انہوں نے مشکل سے پہچانا کہ اس کا چہرہ داغا ہوا تھا، جبکہ وہ انتہائی خوش شکل تھی۔ بھابھی نے اپنا چہرہ خود داغا تھا کہ ہجرت کے دوران ملنے والے دشمن اور بلوائی انہیں نقصان نہ پہنچائیں۔ ہم نے یہ ملک اِس لئے بنایا تھا کہ یہاں مسلمانوں کی حکومت ہو گی اور جان و مال اور عزت و آبرو کو پائیدار تحفظ حاصل ہو گا۔

گوجرانوالہ کے لئے لاہور سے نکلنے والی خاتون نے موٹروے کا انتخاب آسانی ئ سفر کے لئے کیا ہو گا، بچے ساتھ تھے اور ماں کی ڈھارس تھے، لیکن اس بے چاری کو علم نہ تھا کہ عمر بھر کی اذیت راستے میں اس کا انتظار کر رہی ہے،جن افراد نے راستے میں اس خاتون کی بے بسی سے فائدہ اٹھایا یقینا انجام اور نتائج سے وہ باخبر ہوں گے۔وہ جانتے ہوں گے کہ اول تو وہ پکڑے نہیں جائیں گے اور اگر پکڑے بھی گئے تو قانون میں اتنے سقم ہیں کہ پہلے ضمانت پر باہر آئیں گے اور پھر باعزت بری ہو جائیں گے۔رہے لوگوں کے مظاہرے اور خواتین کے احتجاجی جلوس تو وہ سب دھرے کے دھرے رہ جائیں گے۔ حکومتی رِٹ کی مصنوعی بتیسی صرف کلک کلک کرے گی اور سرکاری کمیٹیاں اور ٹیمیں بس کاغذات و دستاویز اور رپورٹیں سنبھالتی رہیں گی۔

بہرحال اس سارے المیہ میں جو ذات سب سے زیادہ متاثر ہو گی وہ اُس خاتون کی ہو گی جو منگل اور بدھ کی درمیانی شب کو اپنے بچوں کو لے کر اپنے گھر سے کتنی سوچوں، امنگوں اور آرزوؤں کے ساتھ روانہ ہوئی ہو گی اور لاہور سیالکوٹ موٹروے پر گجر پورہ کے قریب ایک بھیانک سانحہ سے دوچار ہو گئی۔ رب رحیم اس خاتون پر اپنا رحم، فضل اور کرم نازل فرمائے۔

٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -