علامہ ضمیر اختر کی وفات سے عالم اسلام عظیم مفکر، مبلغ، مورخ، شاعرسے محروم ہوگیا

   علامہ ضمیر اختر کی وفات سے عالم اسلام عظیم مفکر، مبلغ، مورخ، شاعرسے محروم ...

  

لاہور(فلم رپورٹر)ممتاز مذہبی سکالر اتحاد بین المسلمین کے داعی ِ مبلغ اِسلام مْحقّقِ دوراں خطیب العصر علامہ ڈاکٹر ضمیر اختر نقوی قبلہ عالم اسلام داغ مفارقت دے گئے  انہوں نے متعدد کتب تحریر کیں خطابت میں اپنی مثل آپ تھے مرحوم کو شاعری سے بے پناہ لگاؤ تھا اورشاعری کا تعاقب کیا خوب کیا کرتے تھے  میر ببر علی انیس، مرزا دبیر، جوش ملیح آبادی اور مرزا اسد اللہ خان غالب کی شاعری پر ان کو مکمل عبور حاصل تھا اور ان کے اشعار پر زبردست انداز میں تبصرہ فرماتے تھے شاعری کا انداز بیان ایسا کہ اگر لکھنے والا دور حاضر میں موجود ہوتا تو وہ بھی ششدر رہ جاتا۔ان خیالات کا اظہار علمائے کرام نے ”پاکستان“کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کیا چیئرمین امامیہ علماء و ذاکرین کونسل،اتحاد بین المسلمین کے علمبردار علامہ کرامت عباس حیدری کا کہنا تھا کہ علامہ ضمیر اختر نقوی اپنے سینے میں پوری دنیاکی تاریخ سمائے ہوئے تھے  ان کے جانے کے بعد زمانہ انہیں برسوں یاد کرے گا  میری نظر میں  ان کے پایہ کا اب کوئی صاحبِ ذوق شاعر صاحبِِ علم بیان،  مْورّخ، مْحقّق،مصنف،خطیب جو اندازِ خطابت میں اپنا ثانی نہیں رکھتا تھا ان کی کمی ہمیشہ محسوس ہوگی اسلامک ریسرچ سکالر علامہ دلدار حیدر جعفری کا کہنا تھا کہ علامہ ضمیر اختر نقوی نے عملی زندگی کا آغاز سرکاری ملازمت سے کیا لیکن دینی علوم سے رغبت کے باعث انہوں نے سرکاری نوکری کو خیرباد کہہ دیا مرحوم کو تاریخ کا پوسٹمارٹم کرنے کا فن بخوبی آتا تھا علامہ ضمیر اختر نقوی کا مذاق اڑانے والے بھی اب چہرہ پر نقاب ڈال کر گریہ کناں ہیں کاش زمانہ جانے کے بعد کسی کی بھی  قدر کرنے کی بجائے ان کی زندگی  میں قدر کرنا سیکھ لے  بقول شاعر”کسی کی یاد میں رہ رہ کے اب رونے سے کیا حاصل، مزا رونے کا جب تھا اشک گرتے ان کے دامن میں“  علامہ ڈاکٹر سید فرمان رضا عابدی کا کہنا تھا کہ عالم اسلام ایک عظیم مْفکَرّ مْبِلغّ مْحقّق مْوَرّخ شاعر دلوں پر راج کرنے والے خطیب سے محروم ہوگیا   اتحاد بین المسلمین کے داعی علامہ رضوان حیدر ترابی کا کہنا تھا کہ علامہ طالب جوہری کے انتقال کے بعد ڈاکٹرعلامہ ضمیر اختر نقوی کا بھی اس جہانِ فانی سے عالم بقا ء کی طرف چلے جانا ایک اور بہت بڑا نقصان ہے جس کا ازالہ تادیر ہونا ممکن نہیں   علامہ علی عرفان عابدی کا کہنا تھا کہ علامہ ضمیر اختر نقوی کی اتحاد بین المسلمین کے لئے بیش خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی مرحوم کے علمی ذوق کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ قبلہ لاکھوں کتب کا مطالعہ کر چکے تھے جو کتاب کہیں دستیاب نہ ہوتی ان کے کتب خانے سے مل جاتی تھی وہ خود بھی سینکڑوں کتب کے مصنف بھی تھے  اب کہاں سے لائے گی دنیا ضمیر ان جیساکوئی اور ہو تو بتاؤ۔میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ ان کے درجات بلند فرمائے۔ 

علماء اکرام 

مزید :

صفحہ آخر -