شوگرانکوائری رپورٹ،کارروائی سے متعلق کیس میں لارجر بنچ تشکیل دینے کی سفارش

شوگرانکوائری رپورٹ،کارروائی سے متعلق کیس میں لارجر بنچ تشکیل دینے کی سفارش

  

لاہور(نا مہ نگار)لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس ساجد محمود سیٹھی نے میاں شہباز شریف خاندان کی العریبیہ شوگر ملز اورجہانگیرترین کی فاروقی پلپ کمپنی کے خلاف شوگرانکوائری کمشن رپورٹ کی روشنی میں کارروائی سے متعلق کیس میں لارجر بنچ تشکیل دینے کی سفارش کر دی،فاضل جج نے قراردیا کہ درخواست میں اہم قانونی نکات اٹھائے گئے ہیں جن کی سماعت لارجر بنچ کو کرنی چاہیے، مذکورہ بالا ریمارکس کے ساتھ عدالت نے کیس کی فائل چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ بھجوا دی ہے تاکہ اس کی سماعت کے لئے لارجر بنچ تشکیل دیاجاسکے۔جسٹس ساجد محمود سیٹھی نے العریبیہ شوگر ملز کی درخواست پر سماعت کی،درخواست گزاروں کا موقف ہے کہ وزیراعظم کے معاون خصوصی شہزاد اکبر نے ایف آئی اے اور ایس ای سی پی کو شوگر انکوائری رپورٹ کی روشنی میں تحقیقات کرنے کا حکم دیااور90 روز میں تحقیقات مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے، شوگر انکوائری رپورٹ کیلئے نام نہاد جے آئی ٹی تشکیل دی گئی، چینی انکوائری تحقیقات کیلئے کارپوریٹ فراڈ کا بے بنیاد الزام عائد کیا گیا ہے، وفاقی کابینہ نے شوگر انکوائری رپورٹ کی روشنی میں شوگر ملز کیخلاف کارروائی کی منظوری دی، وفاقی کابینہ کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ کسی فرد کو مجرم ٹھہرائے، وزیراعظم کے معاون خصوصی نے غیر قانونی طور پر ایف آئی اے اور ایس ای سی پی کو درخواست گزار کمپنی کیخلاف کارروائی کی ہدایت کی، سندھ ہائیکورٹ نے شوگر انکوائری رپورٹ پر شوگر ملز کیخلاف تحقیقات میں طلبی نوٹسز کو کالعدم کیا ہے، کمپنیز ایکٹ 2017ء  اور سکیورٹیز ایکٹ 2015ء کے تحت ایس ای سی پی کے ریفرنس پر ایف آئی اے تحقیقات کر سکتا ہے، وفاقی حکومت کی ہدایت پر ایف آئی اے کی تحقیقات غیر جانبدار نہیں ہو سکتیں، شوگر انکوائری کمیشن رپورٹ کی کوئی قانونی حیثیت نہیں اور نہ ہی اسکو بطور ثبوت پیش کیا جا سکتا ہے، شوگر انکوائری کمیشن رپورٹ محض قیاس آرائیوں اور اندازوں پر مشتمل ہے، ایف آئی اے کا طلبی نوٹس جاری کرنا آرٹیکل 4، 5، 10(اے) 13(بی)،18، 25اور25(اے) کی خلاف ورزی ہے، ایف آئی اے کی تحقیقات کوکالعدم قراردیاجائے۔

لارجر بنچ 

مزید :

صفحہ آخر -