اغواء کی وارداتوں میں اضافہ قابل تشویش ہے،خرم شیرزمان

اغواء کی وارداتوں میں اضافہ قابل تشویش ہے،خرم شیرزمان

  

کراچی(اسٹاف رپورٹر)پاکستان تحریک انصاف کراچی کے صدر و رکن سندھ اسمبلی خرم شیر زمان نے سندھ بھر میں اغواء کی وارداتوں میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت بتائے سندھ کی حدود میں اغوا ہونے والوں کو کون بازیاب کروائے گا۔کچے کے علاقے عام آدمی تو دور پولیس کے لیے بھی نو گو ایریا بنے ہوئے ہیں۔ڈاکوؤں کو سندھ حکومت میں بیٹھے لوگوں کی سرپرستی حاصل ہے۔ انصاف ہاوس سے جاری اپنے بیان میں ان کا مزید کہنا تھا کہ پنوعاقل انٹرچینج سے اغوا ہونے والے نوجوان 3 ہفتے گزرنے کے باوجود بازیاب نہیں ہوسکے۔رفیق چاکرانی اور صدیق باہن کے ورثاء سخت پریشانی کا شکار ہیں۔پولیس سواء دلاسوں اور بیانوں کے کچھ نہیں کر رہی۔کچے کے علاقے میں 100 سے زائد افراد ڈاکوؤں کے پاس قید ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بلاول زرداری کو کیا یہ سندھ کے بیٹے نظر نہیں آتے؟ سندھ میں بڑھتی ہوئی لاقانونیت سے عوام بہت پریشان ہیں۔ ایسا لگتا ہے سندھ میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں۔ ایک طرف عوا م کے لئے بنیادی سہولیات کا فقدان ہے تو دوسری جانب امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال نے ان کی نیندیں اڑا دی ہیں۔ سندھ بھر کی طرح شہر کراچی میں بھی اسٹریٹ کرائمز اور ٹارگٹ کلنگ کی وارداتوں میں اضافہ ہورہا ہے۔ آج سندھ کے رہنے والے اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں۔ حکومت کا کام عوام کو تحفظ فراہم کرنے ہوتا ہے جس میں سندھ حکومت مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے۔ خرم شیر زمان نے مزید کہا کہ ڈی جی رینجرز سندھ سے گزارش ہے کہ کچے میں قید لوگوں کوبازیاب کروانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

مزید :

صفحہ آخر -