آئینی کی بالا دستی کیلئے سپریم کورٹ ہر ممکن اقدام کرے گی، ججز کی خود مختاری کے بغیر انصاف کی مکمل فراہمی نا ممکن: چیف جسٹس پاکستان 

آئینی کی بالا دستی کیلئے سپریم کورٹ ہر ممکن اقدام کرے گی، ججز کی خود مختاری ...

  

 اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، نیوز ایجنسیاں) چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے کہا ہے کہ آئین کے تحت عدلیہ کی آزادی کسی کو دبانے کی اجازت نہیں، جب تک ججز آزاد، خود مختار اور دباؤ سے بالاتر نہیں ہو نگے تب تک انصاف ممکن نہیں۔چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے نئے عدالتی سال کے آغاز پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ججز آئین و قانون کے تحت فرائض سر انجام دیتے ہیں، بطور جج یہ عہدہ ایک بھاری ذمہ داری ہے، عدالت میں زیر التوا مقدمات پر اہم فیصلے کیے، مقدمات کا زیر التوا ہونے کا سبب غیر ضروری التوا ہے، انسانی حقوق سیل میں نئی درخواستیں جمع، پرانی پر سماعت جاری ہے۔ وکلا نے کورونا وباء کے دوران ہمت اور جرات سے فرائض سر انجام دیئے، کورونا وباء کے دوران عدالت نے پیشہ ورانہ روایت برقرار رکھی۔ نظام انصاف میں ہمیں جس مقام پر ہونا چاہیے اس کیلئے طویل سفر باقی ہے، ججز کی مکمل خودمختاری کے بغیر عوام کو انصاف کی فراہمی ممکن نہیں۔ سپریم کورٹ میں نئے عدالتی سال کی تقریب میں چیف جسٹس پاکستان، سپریم کورٹ کے ججز اور وکلا شریک ہوئے۔ چیف جسٹس آف پاکستان کا خطاب میں مزید کہنا تھا ججز کی مکمل خودمختاری کے بغیر عوام کو انصاف کی مکمل فراہمی کا تحفظ ممکن نہیں، جب تک ججز آزاد، خودمختار اور بیرونی دبا سے آزاد نہیں ہونگے تب تک انصاف ممکن نہیں، آئین اور قانون میں عدلیہ کی آزادی کو دبانے کی اجازت نہیں، یقین دلاتا ہوں آئین کی بالادستی کیلئے سپریم کورٹ ہر ممکن اقدام کرے گی۔ جب میں چیف جسٹس بنا تو محسوس کیا ملکی عدالتی نظام میں زیر التوا مقدمات بہت زیادہ ہیں، فیصلوں میں تاخیر کا سبب غیر ضروری التوا ہے، میں نے عدالت میں زیر التوا مقدمات پر اہم فیصلے کئے۔اس موقع پر اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہمیں نئے عدالتی سال میں اپنی ترجیحات کا تعین کرنا ہوگا، انصاف کی فراہمی میں تاخیر پر فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ نظام میں خامیوں کے باعث وائٹ کالر کرائم کا ارتکاب کرنے والے قانون کی گرفت سے بچ کر نکلنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ انصاف کی فراہمی میں تاخیر بنیادی مسئلہ ہے، خالد جاوید خان کا کہنا تھا نئی ٹیکنالوجی کے استعمال کیلئے افرادی قوت کیساتھ ساتھ قانونی اور انتظامی اصلاحات کی بھی فوری ضرورت ہے، چیف جسٹس ان معاملات کو عدالتی پالیسی ساز کمیٹی میں فوری اٹھائیں۔

چیف جسٹس پاکستان

مزید :

صفحہ اول -