قومی اسمبلی، کلبھوشن کو اپیل کا حق دینے سے متعلق آرڈیننس کی مزید 3ماہ توسیع کی قرار داد منظور 

      قومی اسمبلی، کلبھوشن کو اپیل کا حق دینے سے متعلق آرڈیننس کی مزید 3ماہ ...

  

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، نیوز ایجنسیاں)قومی اسمبلی میں بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو اپیل کا حق دینے سے متعلق آرڈیننس کی مزید 3ماہ تک توسیع کی قرار داد کی منظوری دیدی گئی جبکہ سینیٹ سے مسترد ہونیوالے انسداد منی لانڈرنگ اور اسلام آباد دارالحکومت علاقہ جات وقف املاک بل پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں منظوری کیلئے پیش کرنے کی تحا ر یک کو بھی کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا۔ایف اے ٹی ایف سے متعلق کوآپریٹوسوسائٹیز(ترمیمی) بل2020ء کی بھی کثرت رائے سے منظوری دیدی گئی۔ اپوزیشن جماعتوں نے قرار داد،تحاریک اور بل کی مخالفت کی۔پیر کو قومی اسمبلی کااجلاس سپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت ہوا تو مشیر پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان نے انسداد منی لانڈرنگ اور اسلام آباد دارالحکومت علاقہ جات وقف املاک بل پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں منطوری کیلئے پیش کرنے کی تحاریک پیش کیں،اس موقع پر اپو زیشن نے احتجاج کیا اور تحاریک کی مخالفت کی۔سپیکر قومی اسمبلی نے رائے شماری کے بعد دونوں تحاریک کثرت رائے سے منظور کر لیں۔ مشیر پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان نے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو میں اپیل کا حق د ینے سے متعلق آرڈیننس کی مزید 3ماہ تک توسیع کی قرار داد  پیش کی جسکی بھی اپوایشن نے مخالفت کی اور کہا حکومت آرڈیننس ہم پر مسلط مت کرے بلکہ بل ایوان میں پیش کرے جسکو منظور کیا جائے۔رائے شماری کے قرار داد کو بھی کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا۔ بابر اعوان نے آپریٹوسوسائٹیز(ترمیمی) بل2020 پیش کیا،بل کی شق واری منظوری کے بعد کثرت رائے سے بل منظور کر لیا گیا۔اجلاس میں سپیکر اسد قیصر نے لاہورسیالکوٹ موٹر وے واقعہ پر بحث کروانے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا واقعہ ہمارے ماتھے پر بدنما داغ ہے اور اس پر بحث کی جائے۔رہنما پاکستان پیپلز پارٹی نوید قمر نے کہا پیپلزپارٹی بھی یہی چاہتی ہے کہ دیگر کارروائی معطل کر کے لاہور واقعے پر بات کی جائے، اجلاس میں حالیہ بارشوں،ر سیلاب، دہشتگردی کے واقعات اور حادثات میں جاں بحق ہونیوالوں کیلئے دعائے مغفرت بھی کی گئی۔ اجلاس سے خطاب کر تے ہوئے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے کہا موٹروے گینگ ریپ جیسے واقعات پر وزیراعظم غائب ہیں اور ایک لفظ تک نہیں کہا،وزیراعظم کا وطیرہ بن چکا ہے جب قوم خود کو غیر محفوظ سمجھتی ہے اور وزیراعظم کو تلاش کرتی ہے تو وہ اچانک غائب ہوجاتے ہیں اور خاموش ہوجاتے ہیں،سانحہ پر پوری قوم سوگوار تھی تو حکومت اس بحث میں الجھی ہوئی تھی موٹر وے کے اوپر کس کا کنٹرول ہے، ظلم رسیدہ بچی پر دست شفقت رکھنے کے بجائے پولیس افسر نے جو طعنہ زنی کی اس پر پوری قوم کے دل زخمی ہو گئے،  اورجنہوں نے اس کو لگوایا وہ سینہ تان کر اس کے ساتھ کھڑے تھے کہ ہم نے اس کو لگوایا جبکہ اس افسر سے متعلق ایجنسیوں کی رپورٹ کہ رہی تھی یہ بندا کرپٹ ہے اور اس لائق نہیں کہ کوئی اہم ذمہ داری دی جائے لیکن ڈھٹائی کے ساتھ اس کو اہم مقام پر لگایا گیا،  یہ مکافات عمل ہے کہ اس کی تعیناتی کے فوری بعد بدقسمت واقعہ سامنے آیا اور اس کا پول کھل گیا۔ قصور میں زینب کیساتھ واقعہ کو بھی تحریک انصاف نے بدترین سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی، آئی جی پنجاب نے جولائی میں حکومت سے کہا تھا کہ لاہور سیالکو ٹ موٹروے پر پو لیس تعینات کی جائے تو پھر اس میں تاخیر کیوں ہوئی؟ڈھائی سال ہونے کو ہیں ہر معاملے پرحکومت کی غفلت بڑھتی جارہی ہے، مہنگائی کو ختم کرنا ہو یا غربت، بیر و زگاری کو ختم کرنا ہو حکومت مکمل طور پر ناکام ہوچکی،موٹروے واقعہ پرپارلیمانی کمیٹی بنائی جائے جو اس بات کی تحقیقا ت کرے کہ موٹروے واقعے پر سکیورٹی پولیس کی تعیناتی میں تا خیر کیوں ہوئی اور ایسا پولیس افسر جو بدنام زمانہ تھا اس کو کیوں تعینات کیا گیا، کمیٹی اسکو طلب کرکے پوچھے اس وقت متنازع بیان کیوں دیا۔ اس واقعے سے سب کے سرشرم سے جھک گئے تاہم مقام شکر ہے آج وہ ملزم گرفتار ہوا۔ ایسے خوفناک اور دل کو دہلا دینے والے واقعات اور اس روش کو کیسے روکا جائے یہ اہم سوال ہے، اس واقعے پر ہم نے کوئی سیاست نہیں کی اور بڑی ذمہ داری کا مظاہرہ کیا اور اس بیٹی پر ظلم کو اپنا ظلم جانا۔ وقفہ سوالات کے دوران پارلیمانی سیکرٹریز ڈاکٹر نوشین حامد اور امیر سلطان نے قومی اسمبلی کو بتایا حکومت ملک میں ہیپاٹائٹس کنٹرول پروگرام کا آغاز کر رہی ہیں، 140 ملین آبادی کی سکرین ہوگی اور اور جن کا پازئٹو آئے گا ان کا حکومت مفت علاج کرے گی اور جب نیگٹو نہیں ہوتا اعلاج جاری رہے گا۔ مجموعی موثر حکمت عملی کی بدولت ٹڈی دل کی موجودگی کو 61اضلاع سے کم کرکے دو اضلاع تک محدود کردیا گیاہے،پچھلے سال ٹڈی دل کے خاتمے کیلئے ایک ارب روپے خرچ کیے گئے جبکہ امسال 26 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔اکتوبر کے وسط تک آئندہ سیزن کیلئے گندم کی امدادی قیمت کا اعلان کردیا جائے گا۔ اجلاس میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے ڈاکٹر نوشین حامد کے ہیپاٹائٹس کے جواب پر کہا ہیپاٹائیٹس کے مفت علاج کا سلسلہ ہمارے دور میں پنجاب حکومت نے شروع کیا تھاپی کے ایل آئی کی چھتری تلے پنجاب کے ہر ضلع میں ہیپاٹائیٹس کے تدارک کے فلٹر کلینکس قائم کیے گئے تھے،ان فلٹرز کلینکس پر مریضوں کوٹیسٹوں اور ادویات کی فری سہولت میسر تھی موجودہ حکومت کے دور میں اس منصوبے کو بند کردیا گیا ہے،لاکھوں لوگ مفت علاج کی سہولت کا فائدہ اٹھا رہے تھے وہ اب لاوارث ہیں۔ پارلیمانی سیکرٹری ڈاکٹر نوشین حامد نے کہا یہ منصوبہ پنجاب حکومت کا تھا جو اب بند کردیا گیا ہے، موجودہ صوبائی حکومت سے منصوبہ بندکرنے کی وجوہات اور معلومات لیکر ایوان کو آگاہ کروں گی، پارلیمانی سیکرٹری صنعت و پیداوار عالیہ حمزہ ملک نے کہا یوٹیلٹی سٹورز کے نقصانات میں 50 فیصد کمی آئی ہے۔ پاکستان سٹیل مل کی بندش کے باعث آپریٹنگ نقصانات 120ارب روپے ہیں 13ارب روپے کی واجبات اور پنشن تھی جسے ادا کیا گیا ہے۔ وزیرمذہبی امور کی طرف سے تحریری طور پر بتایا گیا حج اسکیم 2020 کے تحت جمع کرائی گئی رقوم پر حکومت نے کوئی سود وصول نہیں کیا۔ یہ رقم حجاج کی تربیت،حج مواد کی اشاعت اور حج آگاہی مہم، ویکسین و ادویات اور آئی ٹی کے سامان کی خریداری کیلئے استعمال کی جاتی ہے۔ وزارت آبی وسائل کی طرف سے تحریری طور بتایا گیا کہ گزشتہ دس سال کے دوران سیلاب سے بچاؤ کے منصوبوں پر اخراجات 2010 سے 2020 تک سیلاب سے بچاؤ کے منصوبوں کیلئے 7ارب 52 کروڑ روپے مختص کئے گئے امسال 5ارب 58 کروڑر روپے کے فنڈز جاری ہو سکے۔بھاشا ڈیم منصوبے کی تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش کرتے ہوئے بتایا گیا بھاشا ڈیم پر سابق حکومتوں نے 86 ارب 68 کروڑ روپے خرچ کئے،موجودہ حکومت نے اب تک 64 ارب روپے خرچ کر دئیے ہیں۔ اراضی کے حصول پر 20 ارب، ڈیم کی تعمیر پر 43 ارب 80کروڑ روپے خرچ کئے،واں مالی سال ڈیم کی تعمیر کیلئے 16 ارب، اراضی اور آباد کاری کیلئے 5 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں،چیف جسٹس کے فنڈ میں 12 ارب 63 کروڑ روپے جمع ہیں، تحریری جواب کے مطابق فنڈ میں سے واپڈا نے آج تک کوئی رقم وصول نہیں کی۔ڈیم کیلئے 90 فیصد اراضی حاصل کر لی گئی ہے۔ڈیم کی تعمیر کا کام 7 اگست 2020 سے شروع ہو گیا ہے۔ 

قومی اسمبلی

مزید :

صفحہ اول -