لاہو ر سمیت پنجاب کے 80فیصد ہسپتالوں میں کتے، سانپ، چوہوں کے کاٹنے کی ویکسین نایاب

لاہو ر سمیت پنجاب کے 80فیصد ہسپتالوں میں کتے، سانپ، چوہوں کے کاٹنے کی ویکسین ...

  

 لاہور(جاوید اقبال)پنجاب کے دارالحکومت لاہور سمیت صوبہ بھر کے 80% ہسپتالوں میں پاگل کتے سانپ اور چوہے کے کاٹنے کی صورت میں لگائی جانے والی ویکسین غایب ہو گی ہے۔ جبکہ پرائیویٹ جن فارمیسی اور میڈیکل سٹور ز پرویکسین موجود ہے وہ من مانی قیمتیں وصول کر رہے ہیں ایک رپورٹ کے مطابق برسات میں کتے سانپ بچھو اور چوہے کے کاٹنے کے روزانہ سینکڑوں کیسز ہسپتالوں میں آرہے ہیں جنہیں  ویکسین کی فوری ضرورت ہوتی ہے مگر ہسپتالوں میں یہ ویکسین  موجود ہی نہیں ہے بتایا گیا ہے کہ پاکستان کا دل کہلانے والے شہر لاہور کے ٹیچنگ اور ڈسٹرکٹ  ہسپتالوں میں یہ ویکسین  موجود ہی نہیں ہے جس کی تصدیق سروسز ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر افتخار احمد نیازی نے کی ہے رپورٹ کے مطابق سروسز ہسپتال لاھور گنگا رام جناح ہسپتال لاہور جنرل ہسپتال میاں منشی ہسپتال لیڈی ایچیسن لیڈی ولنگٹن اور سید میٹھا ہسپتال گورنمنٹ یکی گیٹ ہسپتال کنٹونمنٹ بورڈز کے ہسپتالوں میں بھی یہ ویکسین  موجود نہیں ہے۔لاہور میں صرف گورنمنٹ ڈسٹرکٹ کوٹ خواجہ سعید ہسپتال میں یہ ویکسین موجود ہے  مگر وہاں یہ بغیر سفارش کے کسی مریض کو نہیں ملتی اسی طرح راولپنڈی فیصل آباد سرگودھا ملتان راجن پور شہر خوشاب لیہ بکھر نارووال سیالکوٹ قصور کے80% ہسپتالوں میں بھی یہ ویکسین نایاب ہے بتایا گیا ہے کہ جو  مریض آتے ہیں جنہیں ان کی ضرورت ہوتی ہے ایمرجنسی وارڈ جہاں پر حکومت کا دعویٰ ہے کہ چوبیس گھنٹے ادویات مفت ملتی ہیں وہ بھی یہ دستیاب نہیں اور مریضوں کے لواحقین کو ڈاکٹر اپنے مریضوں کی زندگیاں بچانے کے لیے بازار  سے لانے کو کہتے ہیں مگر ستم بالائے ستم یہ کہ چھوٹے شہروں میں پرائیویٹ مارکیٹ کے اندر بھی یہ ویکسین موجود نہیں ہے ہر شہر میں اکا دکا فارمیسی  پر یہ ویکسین موجود ہے مگر وہ 800 قیمت والی ویکسین پانچ ہزار روپے دے رہے ہیں واضح رہے کہ پاگل کتے سانپ بچھو  بلی کے انسان کو کاٹنے کی صورت تدارک  کے لئے اینٹی ریبیز اور اینٹی وینم نا می  ویکسین استعمال ہوتی ہیں سرکاری ہسپتالوں میں سپلائی کے لیے ڈی جی آفیس اور ہسپتال کی انتظامیہ نے یہ ویکسین  منگوانی تھی مگر زیادہ تر ہسپتالوں  کی انتظامیہ یہ ویکسین  نہیں منگوا سکی بتایا گیا ہے کہ ٹیچنگ ہسپتالوں کی اکثریت نے جن میں لاہور کے بڑے ہسپتال سرِ فہرست ہیں ہسپتالوں نے غیر قانونی طور پر ان کے لیے مختص کیے گئے فنڈز سرجیکل ڈسپوزیبل سائیڈ پر منتقل کر دیئے جس سے ہسپتالوں کی انتظامیہ نے لمبی چوڑی دیہاڑیاں لگائیں۔اس حوالے سے وفاقی مشیر صحت ڈاکٹر فیصل سلطان سے بات کی گئی تو انہوں نے کہا کہ اس کا نوٹس لیا جائے گا صوبوں کے ڈی جی صاحبان سے جواب طلبی کی جائے گی انہوں نے کہا کہ ڈی جی صاحب اگر نہیں منگوا سکے تو  ہر ہسپتال کے پاس فنڈز موجود ہیں اگر ہسپتالوں نے بھی یہ ویکسین نہیں منگوا ی تو پھر ان ک اللہ ہی حافظ ہے دریں اثناء  سروسز ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر افتخار حسین سے بات کی گئی تو انہوں نے کہا کہ یہ ویکسین نہیں آ رہی اور نہ ہی  ہمارے اسٹاک میں موجود ہے منگوانا محکمہ صحت کی ذمہ داری ہے ہماری نہیں ہمیں تو ڈی جی آفس دیتا ہے۔

ویکسین

مزید :

صفحہ اول -