ریڈ زو ن میں جھگڑا، فائرنگ واقعہ، اسلام آباد ہائیکورٹ کا نوٹس، جج معطل 

ریڈ زو ن میں جھگڑا، فائرنگ واقعہ، اسلام آباد ہائیکورٹ کا نوٹس، جج معطل 

  

 اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، نیوز ایجنسیاں) اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ایم پی اے عابدہ کے شوہرکی جانب سے ایڈیشنل سیشن جج پر تشدد کاانتظامی نوٹس لیتے ہوئے کہا ریاست کی رٹ کمزور ہونے سے ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں،جبکہ  اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایم پی اے کے شوہر کیساتھ جھگڑے پر فائرنگ کرنیوالے سیشن جج کوبھی معطل کر دیا۔دوسری جانب اسلام آباد کی سیشن کورٹ نے مقدمہ درج نہ کرنے پر پولیس سے جواب طلب کر لیا۔ ایڈیشنل سیشن جج نے ریمارکس دئیے رپورٹ کے باوجود پولیس نے مقد مہ درج کیوں نہیں کیا؟۔ تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے شاہراہ دستورپر ایم پی اے عابدہ کے شوہر کا ایڈیشنل سیشن جج پر تشدد کے وا قعے کا انتظامی نوٹس لے لیا جبکہ معاملے میں ایڈیشنل سیشن جج نے وکیل مقرر کر دیا۔ سیشن جج کے وکیل نے عدالت کو بتایا گاڑی کی کراسنگ کے معاملے پر ایم پی اے کے شوہر آپے سے باہر ہوگئے تھے، واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں حقیقت بھی سامنے آگئی۔ سیشن جج کے وکیل نے کہا دو گاڑیوں میں بیٹھے افراد میں پہلے جانے پر تکرار پھر ہاتھا پائی ہوئی، جھگڑ ے کے وقت ایم پی اے بھی گاڑی میں موجود تھیں، دوسری گاڑی میں ایڈیشنل سیشن جج ملک جہانگیر موجود تھے، عابدہ راجہ کے شوہر نے ایڈیشنل سیشن جج کوتشدد کا نشانہ بنایا، ایڈ یشنل جج نے اپنا پستول نکال کرہوائی فائر کئے تاہم فائرنگ سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تھانہ سیکریٹریٹ پولیس بھی موقع پر پہنچی۔ چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیے کہ ریڈزون میں گزشتہ روز دو افراد نے فائرنگ کی، بعد میں دونوں بااثر افراد نے صلح کرلی، بعد میں صلح کرلینا ریاست کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔ ریاست کی رٹ کمزور ہونے سے ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں، ہرچیزعدالت کے کندھوں پر مت ڈالیں، ریاست ذمہ داری پوری کرے۔قبل ازیں جج اور تحریک انصاف کی ایم پی اے عابدہ راجہ کے شوہر کے درمیان جھگڑے کے معاملے پر ایڈیشنل سیشن جج جہانگیر اعوان نے عدالت میں اندارج مقدمہ کی درخواست دائر کردی،درخواست میں ایس ایچ او تھانہ سیکریٹریٹ کو فریق بنایا گیا اور درخواست میں کہاگیاہے کہ ایس ایچ او تھانہ سیکرٹریٹ اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کررہے ہیں،فوری طور پر واقع کا مقدمہ درج، ملزمان کیخلاف قانونی کارروائی کی جائے، ملزمان ابھی بھی حراساں کررہے ہیں۔وکیل راجہ ظہور الحسن کے ذریعے دائر درخواست میں سیشن جج جہانگیر اعوان نے موقف اختیار کیا 13 ستمبر کو پیش آنیوالے واقعہ سے متعلق تھانہ سیکرٹریٹ میں درخواست دی اور بیان بھی قلمبند کرایا۔ درخواست کے باجود ابھی تک ایف آئی آر درج نہیں کی گئی۔وکیل نے کہا ایک مظلوم جج کی فریاد لے کر آئے ہیں۔ عدالت نے استفسار کیا کہ مظلوم جج؟ وکیل نے کہا ویسے تو سارے جج ہی مظلوم ہیں۔ پولیس ایم ایل سی لے چکی ہے لیکن واقعہ کے 24 گھنٹے بعد بھی ایف آئی آر درج نہیں ہوئی۔ عدالت نے استفسار کیا پولیس کیا کہتی ہے؟ اس پر وکیل نے کہا ملزم ایک ایم پی اے کے خاوند ہیں۔ عدالت نے کہا پولیس سے ریکارڈ منگوا لیتے ہیں، امید ہے اس سے پہلے ایف آئی آر درج ہو جائے گی۔عدالت نے پولیس سے جواب طلب کرتے ہوئے ایس ایچ او تھانہ سیکرٹریٹ کو بدھ کے روز تک رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کر دی۔

جج معطل

مزید :

صفحہ اول -