سانحہ موٹروے پرحکومت کو قوم سے معافی مانگنا چاہیے: چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ 

  سانحہ موٹروے پرحکومت کو قوم سے معافی مانگنا چاہیے: چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ 

  

 لاہور(نا مہ گار)چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس محمد قاسم خان نے موٹروے پر خاتون سے بداخلاقی کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کے لئے دائر درخواست پرملزموں کو فوری گرفتاری کا حکم دے دیا،عدالت نے سی سی پی او لاہورسے اجتماعی بداخلاقی کے واقعہ کی تفصیلی تحریری رپورٹ بھی 16ستمبر تک طلب کر لی ہے،عدالت نے آئی جی پنجاب پولیس کوپورے پنجاب کی روڑز کی سیکیورٹی کے حوالے سے بھی رپورٹ پیش کرنے کاحکم دیاہے،عدالت نے ہدایت کی ہے کہ دیہاتوں کی سڑکوں پر پولیس روز دو گھنٹے گشت کرے۔دوران سماعت فاضل جج نے قراردیا کہ موٹر وے جیسے واقعات پر حکومتوں کو اپنی قوم سے معافی مانگی چاہیے، اس معاملے پر سخت ایکشن ہونا چاہیے تھا،اس پر توپوری کابینہ کو معافی مانگنی چاہیے تھی،قوم کی بچیوں کو کچھ حوصلہ ہو جاتا،سڑکیں حکومت کی پراپرٹی ہے، حکومتی پراپرٹی کے اوپر اگر کوئی بندہ متاثر ہو تو اسکی ذمہ دار حکومت ہے، اگر بندہ حکومتی پراپرٹی پر متاثر ہوا ہے تو میرے خیال میں ہرجانے بھی ادا کرنے کی پابند ہے، کسی کی بہو بیٹی سڑک پر سفر کرتے ہوئے خوف پیدا ہو گیا ہے وہ محفوظ تصور نہیں کرتیں، اداروں کے آپس میں جھگڑوں کی سزا عوام کو نہ دیں، سسٹم کو بحال کرنا ہے، تحفظ دینا حکومت کے کام ہیں، شاید ان کی اپنی ترجیحات تبدیل ہو جاتی ہیں۔کیس کی سماعت شروع ہوئی تو عدالت میں عدالتی حکم پر واقعہ کی تحقیقات کے لئے کمیٹی کا نوٹیفیکشن پیش کیا گیا،عدالتی حکم پر سرکاری وکیل کمیٹی بنانے کا نوٹیفیکیشن پڑھ کرسنایا،عدالت نے استفسارکیا کہ بتائیں یہ نوٹیفکیشن کس قانون کے تحت بنایا گیا؟یہ کمیٹی کمیٹی نہیں کھیلا جاسکتا، سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر یہ کمیٹی بنائی گئی ہے،کمیٹی واقعہ کے محرکات کے بارے 3 دنوں کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی پابند ہوگی،فاضل جج نے کہا کہ بتائیں اس واقعے کی رپورٹ کیا ہے؟یہ رپورٹیں ٹرائل کا حصہ ہی نہیں بن پائیں،درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ سانحہ ساہیوال پر بھی کمیٹی بنی لیکن ہوا کچھ نہیں، فاضل جج نے کہا کہ مختاراں مائی کیس میں بھی کمیٹیاں بنی تھیں، کیا ہوا اسکا؟ کمیٹی میں ٹیکنیکل افراد کو شامل کرنا چاہیے تھا، ایسے افراد کو شامل کیا جاتا جو بتاتے کہ مستقبل میں کیسے ان واقعات سے بچا جاسکے، عدالت نے کمیٹی کی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ کمیٹی بنانے کا اختیار کس کے پاس ہے قانون میں واضح ہے،ہر چیز ایک قانون کے تحت ہوتی ہے، کمیٹی کمیٹی نہ کھیلا جائے، تین دن میں رپورٹ آنی تھی کیا ہوا؟ آپ ابھی رپورٹ منگوائیں کہ کیا کیا گیا ہے، سمجھ نہیں آتی معاشرہ رول آف لا کے بغیر نہیں چل سکتا،فاضل جج نے دوران سماعت ریمارکس دیئے کہ کابینہ فیصلہ کرتی کہ پولیس کو اب کیسے کام کرنا ہے کمیٹی میں ماہر لوگ شامل کیے جاتے تاکہ شفاف تفتیش ہو سکتی، چیف جسٹس،سرکاری وکیل نے کہا کہ جواب آنے کے بعد متعلقہ اتھارٹی کے پاس معاملہ بھیجا جائے گا،چیف جسٹس نے کہا کہ آئی جی پنجاب نے لکھا کہ آپ کے خلاف کارروائی ہو گی مگر یہ نہیں بتایا کس قانون کے تحت ہو گی، آئی جی نے یہ نہیں بتایا کہ سی سی پی او لاہور نے کون سے قانون کی خلاف ورزی کی ہے؟ سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ سی سی پی او کا عمل مس کنڈکٹ کے زمرے میں آتا ہے،فاضل جج نے کہا کہ لگتا ہے گونگلووں سے مٹی جھاڑی گئی ہے، یہ ایک ایسے شخص کی رپورٹ ہے جس نے پورے صوبے میں قانون نافذ کرنا ہے، درخواست گزار ندیم سرور نے عدالت کو بتایا کہ یہ کیس انتظامیہ کی ناکامی ہے،جس پر فاضل جج نے کہا کہ کمیشن کیسے تشکیل پاتا ہے؟قانون میں تو کمیشن حکومت تشکیل دیتی ہے،مجھے قانون بتا دیں،صرف خبر لگانے یا فیس بک کے لیے ایسے پٹیشنز نہ کیا کریں،یہ باتیں پنچائت والی ہیں، آپ لوگوں کا کیس خراب کر رہے ہیں،سرکاری وکیل نے کہا کہ اس کی انکوائری ہو رہی ہے،فاضل جج نے کہا کہ یہ کیسی انکوائری ہے ڈیپارٹمنٹل ہیڈ مظلوم کو غلط کہنے پر تل جائے؟فاضل جج نے کہا کہ سی سی پی او نے جو بیان دیا اس پر کیا کارروائی ہوئی؟کیا آپ کہہ رہے ہیں کہ سی سی پی او کے بیان پر انکوائری ہو رہی ہے، سرکاری وکیل نے کہا کہ پورے معاملے کی انکوائری ہو رہی ہے،اس معاملے پر سخت ایکشن ہونا چاہیے تھا،اس جملے پر توپوری کابینہ کو معافی مانگنی چاہیے تھی،قوم کی بچیوں کو کچھ حوصلہ ہو جاتا،اگر تفتیش ہو رہی ہے تو پتہ نہیں کتنی حقیقت ہے اور کتنی ڈرامہ بازی ہے،فاضل جج نے کہا کہ ایک ٹی وی پر دیکھ رہا تھاکہ ایک مشیر وہاں پہنچا ہوا تھا،اس کاکیا کام ہے؟سرکاری وکیل نے کہا کہ لا منسٹر کی سربراہی میں کمیٹی بنائی ہے،فاضل جج نے کہا کہ لا منسٹر کا کیا کام ہے؟سی سی پی او انویسٹی گیشن کی رپورٹ لے کر ایک بجے آجائے،اگر سی سی پی او کو شو کاز ہوا ہے تو وہ بھی لائیں،عدالتی حکم پر سی سی پی او لاہور عمر شیخ نے عدالت میں پیش ہوکو بتایا کہ 9 تاریخ کو یہ واقعہ رات کو پیش آیا، فاضل جج نے کہا کہ میڈیا پر آ رہا ہے کہ جب اس خاتون نے فون کیا تو اسے کہا گیا کہ ایف ڈبلیو او سے رابطہ کریں،ایف ڈبلیو نے کہا کہ 15 پر کال کریں،سی پی او لاہور نے کہ کہا کہ اگر آپ ہائی ویز کو دیکھیں تو 4 قسم کی روڈ اتھارٹیز ہیں جس پر فاضل جج نے کہا کہ آپ (سی سی پی او)اپنے ٹاپک تک رہیں، یہ اتھارٹیز مجھے نہ سنائیں، سی سی پی او نے کہا کہ رنگ روڈ اتھارٹی کمشنر کے زیر انتظام ہے، بچی نے 103 پر فون کیا، ایف ڈبلیو سے کی کانفرنس کال ہوئی، ایک میجر صاحب نے نزدیک ترین موبائل ورکشاپ موو کروا دی، کامن سینس ہے کہ آپ 15 پر فون کرتے، 103 والے کو یا میجر صاحب ان چاروں کو 15 پر فون کرنا چاہیے تھا،فاضل جج نے استفسار کیا ڈولفن والوں کا کیا بیان لکھا ہے؟گاڑی دیکھی، شیشہ ٹوٹا ہوا دیکھا؟ سی سی پی او نے کہاجی بالکل سب کچھ دیکھا، فاضل جج نے کہا کہ ڈولفن نے پیچھا کرنے کی کوشش کی؟ سی سی پی او نے کہا کہ ڈولفن نے ہوائی فائر کیا تو خاتون نے آواز دی کہ میں ادھر ہوں، خاتون نے بچوں کو اپنے ساتھ لگایا ہوا تھا، درخواست گزار نے کہا کہ سانحہ ساہیوال کے مقدمہ میں متاثری خاندان کو پولیس والوں کی جانب سے پولیس کی مرضی کے بیانات دینے کا کہا گیا، فاضل جج نے درخواست گزار کو تنبیہ کی کہ سانحہ ساہیوال کو اس کے ساتھ نہ ملائیں، وہ خاندان بالکل بے گناہ تھا، کیا وہ دوسرا بندہ بھی بے گناہ تھا؟ سانحہ ساہیوال کو نہ چھیڑیں اس کے بہت سی حقیقتیں ہیں، ماورائے عدالت قتل کی کسی صورت اجازت نہیں دی جاسکتی، فاضل جج نے سی سی پی او کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ملزموں کو پکڑیں، دہشت گردوں کو پکڑیں شواہد اکٹھے کریں اور ملزموں کو سزائیں دلوائیں، موٹر وے جیسے واقعات پر حکومتوں کو اپنی قوم سے معافی مانگی چاہیے،، بڑے عہدے کے آدمی کو اپنی زبان کا استعمال بڑی احتیاط سے کرنا چاہیے، فاضل جج نے سی سی پی لاہور کو مخاطب کرکے کہا کہ آپ کے ان فقروں کو سن کر میں خود بہت پریشان ہوا تھا، سی سی پی او نے کہا کہ سر آپ ایک جج صاحب دے دیں، گواہوں کے منحرف ہونے سے متعلق ریسرچ ٹیم بنانے کا حکم دے دیں،  6 ماہ کے اندر لاہور کی ہر ریسرچ مکمل کر کے رپورٹ ہیش کر دوں گا، فاضل جج نے کہا کہ گواہوں کے تحفظ کیلئے قانون بنا ہوا ہے کیا آج تک اس پر عمل ہوا؟ اگر ان سے رپورٹ منگوائی جائے تو کچھ بھی سامنے نہیں آئے گا، رات کو اکیلے سفر کرنے سے پولیس اپنی ذمہ داری سے مبرا نہیں ہے، اداروں کا آپس میں جھگڑا چل رہا ہے، لوگوں نے یہ نہیں دیکھنا، جب لوگوں کی طبیعت خراب ہو جائے نہ تو یہ جج صاحب کی گاڑی کو بھی روک لیتے ہیں چاہے اس کے ساتھ سکواڈ لگا ہو، سی سی پی او آج کوئی ہو کل کوئی ہو ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں ہے، سی سی پی نے کہا کہ خاتون ساری زندگی اذیت کا شکار رہے گی، چیف جسٹس نے کہا کہ اداروں کے آپس میں جھگڑوں کی سزا عوام کو نہ دیں، سی سی پی او نے کہا کہ خدا کی قسم ہمیں سزائیں دیں، سر آپ نے ہی سب کچھ ٹھیک کرنا ہے، میں نے ڈی جی خان میں پولیس والوں کو ہتھکڑیاں لگوائی ہیں،فاضل جج نے کہا کہ یہاں تو ڈکیتی چوری کے مقدمے میں بندہ طلبی میں جاتا ہی نہیں ہے، جہاں قانونی اصلاحات کی ضرورت ہے وہاں اسمبلیوں نے کام کرنا ہے، گواہوں کے تحغفظ کیلئے کیا کیا ہے، کسی ایک گواہ ہو تحفظ دیا گیا؟فاضل جج نے کہاکہ سڑکیں حکومت کی پراپرٹی ہے، حکومتی پراپرٹی کے اوپر اگر کوئی بندہ متاثر ہو تو اسکی ذمہ دار حکومت ہے، اگر بندہ حکومتی پراپرٹی پر متاثر ہوا ہے تو میرے خیال میں ہرجانے بھی ادا کرنے کی پابند ہے،  عدالت نے آئی پنجاب پولیس کے زیر انتظام انٹر ڈسٹرکٹ روڈ کی تفصیلات طلب کرنے کے ساتھ ساتھ تحصیل سطح پر سڑکوں کی کیا سیکورٹی کے انتظامات ہیں کی تفصیل بھی پیش کرنے کی ہدایت کی ہے،ملزموں کو گرفتار کریں، پراسکیوشن کو آن بورڈ لیں، قانون کے مطابق کارروائی کریں، عدالت نے مذکورہ بالا ہدایات کے ساتھ کیس کی مزید سماعت 16ستمبر پر ملتوی کردی۔

چیف جسٹس

مزید :

صفحہ اول -