مبینہ پولیس مقابلہ‘ 3 ایس ایچ اوز سمیت 13 اہلکاروں کے وارنٹ گرفتاری 

       مبینہ پولیس مقابلہ‘ 3 ایس ایچ اوز سمیت 13 اہلکاروں کے وارنٹ گرفتاری 

  

 ملتان (وقائع نگار)تھانہ بستی ملوک کی حدود میں مبینہ جعلی پولیس مقابلہ کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے شخص کے بھائی کی جانب سے دائر استغاثہ پر سیشن کورٹ کے جج خورشید انجم نے تین ایس ایچ اوز سمیت 13 پولیس افسران اور اہلکاروں کے وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت 22 ستمبر کو طلب (بقیہ نمبر50صفحہ 7پر)

کرلیا ہے۔ قبل ازیں حبس بے جا کی درخواست پر ہائیکورٹ ملتان بنچ نے سی پی او ملتان کو حکم دیا تھا کہ واقعے میں ملوث پولیس اہلکاروں کو معطل کرکے قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ کا اندراج کیا جائے۔ جبکہ ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ واقعے کی جوڈیشل انکوائری نہیں ہوگی یہ عدالت ہی کیس کا فیصلہ کریگی، کسی کو ریاست کے اندر ریاست قائم کرنے کی اجازت نہیں دینگے، دوسری جانب گزشتہ روز سیشن کورٹ میں مقتول کے بھائی عون رضا انجم نے کونسل آصف علی چوہدری کے ذریعے جو استغاثہ دائر کیا ہے اس میں موقف اختیار کیا کہ پولیس نے اسکے بھائی عمران کو ڈاکو ظاہر کرتے ہوئے جعلی پولیس مقابلے میں ہلاک کردیا جو کہ بے قصور تھا۔ جس پر واقعے میں ملوث پولیس افسران اور اہلکاروں کو سزا سنائی جائے۔ جس پر سیشن کورٹ نے ایس ایچ اوز تھانہ بستی ملوک ابرار گجر، تھانہ مخدوم رشید سعید ملک، تھانہ صدر جلالپورپیروالا ارشد محمود بھٹی، سب انسپکٹر ظفر حسین، اے ایس آئیز محمد اقبال، مختیار احمد، ہیڈ کانسٹیبل پرویز، کانسٹیبلوں نعیم ڈینہ، غلام عباس،محمد آصف، اکرام الحق، سمیع اللّٰہ، اور قدیر کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے ہیں۔

گرفتاری

مزید :

ملتان صفحہ آخر -