سابق ڈپٹی کمشنر کے بیٹے کو اغوا کرنے  کا مقدمہ‘ دو ملزموں کے بلا ضمانت  وارنٹ گرفتاری‘ 17 ستمبر کو مغوی  اور دیگر گواہ شہادت کیلئے طلب

   سابق ڈپٹی کمشنر کے بیٹے کو اغوا کرنے  کا مقدمہ‘ دو ملزموں کے بلا ضمانت  ...

  

  ملتان (وقائع نگار)انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نمبر دو ملتان کے جج مسعود ارشد نے سابق ڈپٹی کمشنر کے بیٹے کو تاوان کے لیے اغواء کرنے کے مقدمہ میں (بقیہ نمبر42صفحہ 7پر)

ملوث  13 ملزمان کے خلاف کیس میں دو ملزمان جہانزیب اور اصغر علی کے بلاضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے گرفتار کرنے جبکہ آئندہ سماعت 17 ستمبر کو مقدمہ کے مغوی اور دیگر گواہوں کو شہادت کے لیے طلب کرلیا ہے۔ چونکہ واقعے کے بعد سے ہی مغوی بیرون ملک مقیم ہے جس کا بذریعہ سکائپ بیان ریکارڈ نہیں کیا جاسکا اب اسے شہادت کے لیے طلب کرلیا گیا ہے۔ قبل ازیں فاضل عدالت میں پولیس تھانہ چہلیک کے مطابق مدعی سابق ڈپٹی کمشنر محمد منیر بدر نے 14 اکتوبر 2015 کو مقدمہ درج کرایا اور الزام عائد کیا کہ اسکے بیٹے مہر منیر کو محمد مبشر،رانا جہانزیب راجپوت عرف ٹیپو، احتشام علی، محمد یسین ناگرے،سابق ایس ایچ او میاں خلیل احمد، سابق سب انسپکٹرز عابد رسول اور اصغر علی، محمد مدثر چوہدری، ناصر علی ناگرہ،میاں فرزند علی گوہر،زاہد پٹھان، یاسمین احمد نے رقم کے لین دین کے تنازعہ پر اغواء کیا اور ایک کروڑ 20 لاکھ روپے جو کاروباری شراکت داری میں لگے ہوئے تھے وہ ہتھیا کر بیٹے کو رہا کیا گیا اب بیٹا بااثر ملزمان کے خوف سے بیرون ملک آسٹریلیا رہائش پذیر ہوگیا ہے۔ جس کا بذریعہ سکائپ بیان ریکارڈ کیا جاسکتا ہے اور متعلقہ اداروں ہوم ڈیپارٹمنٹ سمیت سفارت خانوں سے مدد بھی لی جاسکتی ہے۔ جبکہ خاتون ملزمہ یاسمین کو پیروی نہ کرنے پر اشتہاری قرار دیا جاچکا ہے۔

طلب

مزید :

ملتان صفحہ آخر -