ڈیرہ: سنگین وارداتیں ٹریس کرنے کیلئے جائے وقوعہ پر کیمپ آفس بنانے کا فیصلہ 

 ڈیرہ: سنگین وارداتیں ٹریس کرنے کیلئے جائے وقوعہ پر کیمپ آفس بنانے کا فیصلہ 

  

 ڈیرہ غازی خان (ڈسٹرکٹ بیورورپورٹ‘ سٹی رپورٹر) آر پی او نے ڈکیتی قتل،ڈکیتی بد اخلاقی سمیت ڈکیتی کی دفعات کے تحت درج زیر تفتیش مقدمات کی رپورٹ طلب کر لی،ڈکیتی کی وارداتیں قانون کو کھلا چیلنج ہیں،ان وارداتوں کو روکنے کے لئے مجرمانہ ریکارڈرکھنے والے افراد کی سرگرمیوں کو چیک کیا جائے، ان خیالات کا اظہار ریجنل پولیس آفیسر محمد فیصل رانا نے (بقیہ نمبر34صفحہ 6پر)

ریجن کے چاروں اضلاع مظفر گڑھ،لیہ،راجن پور اور ڈیرہ غازی خان کے پولیس افسران کو خصوصی ہدایات دیتے ہوئے کیا،انہوں نے کہا کہ جس طرح معاشرے نے سائنسی ترقی کی وجہ سے ترقی کی ہے اسی طرح سائنسی ترقی کو قانون شکن عناصراپنے منفی ٹارگٹ کے حصول کے لئے استعمال کر رہے ہیں،ڈکیتی قانون شکنی کی وہ بدترین قسم ہے جو معاشرے میں امن کو ہلا کر رکھ دیتی ہے،ڈکیتی کی وارداتوں میں خدانخواستہ اگر مزاحمت پر قتل یا کسی خاتون کے ساتھ بد اخلاقی جیسی سنگین واردات ہو جائے تو ا سکے بعد معاشرے کے مختلف طبقات کا پولیس پر تنقید کرنا فطری ہوتا ہے کیوں کہ قانون نے پولیس کو ڈکیتی جیسی سنگین وارداتیں روکنے کے لئے جو اختیارات دئیے ہیں اس کے بعد عوام کی پولیس پر توقعات بھی بڑھ جاتی ہیں پولیس کو ہر صورت قانون شکنوں کے خلاف کامیابیوں کے حوالے سے عوام کی توقعات پر پورا اترنا پڑے گا۔ علاوہ ازیں آر پی او نے ریجن کے چاروں اضلاع کی مرکزی و مضافاتی سڑکوں کو مضبوط بنانے کے لئے 24/7پولیس پٹرولنگ کے احکامات جاری کر دئیے،چاروں اضلاع بین الاضلاعی پولیسنگ کی مربوط حکمت عملی ترتیب دیں،مصدقہ اطلاعات کی باہمی شیئرنگ کر کے سماج دشمن عناصر اور قانون شکنوں کو گرفتار کیا جائے،مرکزی و مضافاتی شاہرات پر کسی قسم کی واردارت نا قابل برداشت ہو گی،ان خیالات کا اظہار ریجنل پولیس آفیسر محمد فیصل رانا نے ریجن کے چاروں اضلاع کے پولیس افسران کو خصوصی ہدایات دیتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ اگر واردات کسی سڑک یا نیشنل ہائی وے پر ہو تو واردارت کی حساسیت مذید بڑھ جاتی ہے اور اس میں سنگینی کا عنصر کئی گنا ہو جاتا ہے ایسی سنگین وارداتوں کو روکنے کے لئے پولیس کو قبل از وقت منصوبہ بندی کے اقدامات کرنا ہوں گے جس کے لئے ریجن کے چاروں اضلاع کی مرکزی اور مضافاتی شاہرات پر24/7راؤنڈ دی کلاک پولیس پٹرولنگ کو لازمی قرار دیا جا رہا ہے۔ دریں اثناء ریجن پولیس کی تاریخ میں انقلابی اقدام،آر پی او نے سنگین  وارداتوں کو فوری ٹریس کرنے کے لئے جائے وقوعہ پر ”کیمپ آفس“ بنانے کی پالیسی جاری کر دی،وقوعہ کی سنگینی کے مطابق افسران جائے وقوعہ پر کیمپ آفس بنائیں گے میں خود بھی چاروں اضلاع میں کسی بھی سنگین ترین واردات کی صورت میں جائے وقوعہ پر کیمپ آفس بناؤں گا جو واردات کے ٹریس ہونے تک جاری رہے گا ان خیالات کا اظہار ریجنل پولیس آفیسر محمد فیصل رانا نے ریجن کے چاروں اضلاع کے پولیس افسران کو کرائم ٹریسنگ کے حوالے سے خصوصی ہدایات دیتے ہوئے کیا آر پی اونے کہا کہ پولیس ایک ڈسپلنڈ فورس ہے جس کی جتنی زیادہ مانیٹرنگ کی جائے یہ اتنے زیادہ اچھے اور فوری نتائج دیتی ہے پولیس سسٹم میں اعلیٰ افسران کے پاس پولیس رولز کے تحت اختیارات موجود ہیں جو غفلت اور سستی پر پولیس کے احتساب کا حق دیتے ہیں ہر سطح پر مانیٹرنگ کرنے والے افسران کی مناسب اور نتیجہ خیزمانیٹرنگ نہ ہونے کی وجہ سے ماتحت پولیس غفلت اور سستی کے راستے پر چل پڑتی ہے  جس سے ایک طرف سنگین وارداتیں ٹریس نہیں ہوتیں اور دوسری طرف ان وارداتوں کے ٹریس نہ ہونے کی وجہ سے عوام میں پیدا ہونے والی فطری بے چینی پولیس اور عوام کے مابین خلیج کا باعث بنتی ہے جو کسی صورت قابل برداشت نہیں،فیصل رانا نے کہا کہ تجربہ کار پروفیشنل پولیس افسران نے ایسی وارداتیں جو معاشرتی امن کو تہہ و بالا کر دیتی ہیں ان کے فوری ٹریس کرنے کے لئے جائے وقوعہ پر کیمپ آفس بنانے کی ایک نتیجہ خیز پالیسی ترتیب دی جس پر جب بھی عمل کیا گیا اس کے ہمیشہ فوری مثبت نتائج سامنے آئے آر پی او نے کہا کہ سنگین ترین نوعیت کی واردات کے بعد جائے وقوعہ پر ڈی پی او کے کیمپ آفس بنانے سے  اس واردات کو ٹریس کرنے کے لئے پو لیس کی کارکردگی میں کئی گنا اضافہ ہو جاتا ہے۔

کیمپ آفس

مزید :

ملتان صفحہ آخر -