جنوبی پنجاب: تحریک انصاف خواتین ونگ میں دھڑے بندی کا انکشاف 

جنوبی پنجاب: تحریک انصاف خواتین ونگ میں دھڑے بندی کا انکشاف 

  

اڈاپل 14(نمائندہ پاکستان) جنوبی پنجاب کی صدر اور جنرل سیکرٹری کے مابین تنازعہ کے باعث کارکنان پریشان ہوگئے، آئندہ بلدیاتی الیکشن میں بھی منفی اثرات مرتب ہونگے۔ جنوبی پنجاب پاکستان تحریک انصاف  خواتین ونگ دھڑا بندی میں تقسیم ہو کر رہ گئی ہے حال ہی میں من پسند لوگوں کو نوازنے کی خاطر جنوبی پنجاب کی قیادت نے ضلع خانیوال کی تنظیم سازی کے تین دن میں تین  مختلف نوٹیفکیشن جاری کردیئے جبکہ پارٹی پالیسی کے مطابق تین ماہ سے قبل نوٹیفیکیشن تبدیل نہیں کیا جاسکتا من پسند لوگوں کو نوازنے کے باعث پارٹی کی خواتین کارکنان میں (بقیہ نمبر15صفحہ 6پر)

اختلافات شدت اختیار کرچکے ہیں جس سے پارٹی سست روی کا شکار ہوچکی ہے اور آئندہ بلدیاتی الیکشن میں بھی منفی اثرات مرتب ہونگے ذرائع کے مطابق خانیوال کی حِنا خان نامی خاتون نے متعلقہ اعلیٰ حکام کو جنوبی پنجاب کی قیادت کے خلاف درخواست جمع کراتے ہوئے کہا ہے کہ تنظیم سازی میں پرانے ورکرز کا استحصال کرتے ہوئے من پسند لوگوں کو اہم عہدوں پر نواز گیا ہے جن کی ماضی میں پارٹی کے لئے کوئی خدمات نہ ہے خاتون نے جنوبی پنجاب کی قیادت کی جانب سے ایک ہی ضلع کے تین نوٹیفکیشن جاری ہونے پر شدید رنج و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا  کہ پرانے کارکنان کے ساتھ سراسر ناانصافی کی گئی ہے اور ساتھ میں پاکستان تحریک انصاف کی پارٹی پالیسی کے ساتھ کھلم کھلا مذاق بھی ہے خاتون نے اعلیٰ قیادت سے اپیل کی ہے کہ اس بات کا فوری نوٹس لیا جائے بصورت دیگر پارٹی کو مسقبل میں شدید نقصانات کا خطرہ ہے جبکہ دوسری جانب ضلع مظفرگڑھ اور بہاولپور میں بھی دو دو نوٹیفیکیشن جاری کئے گئے ہیں باوثوق ذرائع کے مطابق جنوبی پنجاب کی صدر ڈاکٹر روبینہ اختر اور جنرل سیکرٹری قربان فاطمہ کے مابین اختلافات کے باعث ایک ہی ضلع کے بار بار نوٹیفکیشن جاری کئے جارہے ہیں  خواتین کارکنان کا کہنا ہے وہ  غلط فہمی کا شکار ہورہی ہے کہ کونسے نوٹیفکیشن کو حقیقت تسلیم کریں۔

انکشاف

مزید :

ملتان صفحہ آخر -