ایگریکلچر سیکٹر میں سائنس وٹیکنالوجی کو استعمال کرکے اصلاحات لارہے ہیں: ضیاء اللہ بنگش 

  ایگریکلچر سیکٹر میں سائنس وٹیکنالوجی کو استعمال کرکے اصلاحات لارہے ہیں: ...

  

پشاور(سٹاف رپورٹر)خیبرپختونخوا انفارمیشن ٹیکنالوجی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی ایسوسی ایشن  کے باہمی اشتراک سے سے انٹرن شپ مکمل کرنے والے گریجویٹس میں  شیلڈز اور سرٹیفکیٹ تقسیم کئے گئے۔ وزیراعلی کے مشیر  برائے سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی ضیاء اللہ خان بنگش  اور معاون خصوصی برائے بلدیات و اطلاعات کامران خان بنگش نے آئی ٹی سیکٹر میں انٹرن شپ کی تکمیل پر گریجویٹس کو شیلڈز اور سرٹیفکیٹ دیے۔ خیبرپختونخوا سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی ایسو سی ایشن  کے باہمی اشتراک سے شروع کردہ  انٹرن شپ پروگرام  میں پچاس گریجویٹس کو انٹرن شپ دی گئی تھی  جن میں 80 فیصد کو سرکاری نوکری مل گئی  ہے جبکہ 20 فیصد نوجوانوں نے اپنا روزگار شروع کر دیا  ہے۔  اس پروگرام کو مزید وسعت دے کر امسال تین سو گریجویٹس کو انٹرن شپ دی جائے گی۔ تقریب سے خطاب کرتے  ہوئے مشیر سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی ضیا اللہ خان بنگش نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان اور وزیر اعلی محمود خان  کے وژن اور ہدایت کے مطابق ایگریکلچر سیکٹر میں سائنس و ٹیکنالوجی کو استعمال کرکے  اصلاحات اور بہتری لا رہے ہیں  اس غرض سے صوبے کے تمام یونیورسٹیز کے ریسرچرز کو مدعو کیا گیا ہے جو کہ شعبہ زراعت کی بہتری کے لیے  اپنے ریسرچ پیش کریں گے انہوں نے کہا کہ فوڈ سیکیورٹی کے حوالے  سے منعقدہ اس سیمینار کا مقصد زراعت سیکٹر میں کام کرنے والے ریسرچرز کو مواقع فراہم کرنا ہے تاکہ ہمارا صوبہ زرعی لحاظ سے خود کفیل بن سکے۔ ضیاء اللہ خان بنگش نے انٹرن شپ کے کامیاب تکمیل، سرکاری ملازمت کے حصول اور اپنا کاروبار شروع کرنے پر گریجویٹس کو مبارکباد دی انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا  آئی ٹی، سائنس اور دیگر شعبوں میں بڑا زرخیز ہے۔اور یہاں کے نوجوانوں کو جب بھی مواقع اور سہولیات مل جاتی ہیں وہ پوری دنیا میں پاکستان کا نام روشن کرتے ہیں جس کا واضح ثبوت پاکستانی ریسرچرز کی 140 ممالک کے ریسرچ مقابلوں میں پہلی پوزیشن کا حصول ہے۔خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے ڈیجیٹل خیبرپختونخوا کے اہم منصوبوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ آئی ٹی سیکٹر کے فروغ اور خیبرپختونخوا کو آئی ٹی سب حب بنانے کے  لیے پشاور ڈیجیٹل کمپلیکس کے نام سے 20 منزلہ عمارت بن رہا ہے جس میں صوبے، ملکی اور بین الاقوامی آئی ٹی کمپنیوں کو بزنس کرنے  اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لئے دفاتر دیئے جائیں گے جبکہ ہری پور  ڈیجیٹل سٹی میں یوٹیوب، یاہو، گوگل اور امیزون جیسے بہترین اور بڑے نام والی انٹر نیشنل کمپنیوں کو بھی دعوت دی گئی ہے۔ جب کہ حکومت ان کو ٹیکس میں چھوٹ اور رعائتی رینٹ پردفاتر دیں گے انہوں نے کہا کہ صوبے کی تمام آئی ٹی کمپنیاں خیبر پختونخوا آئی ٹی بورڈ کے ساتھ رجسٹریشن کریں  ہم نے ان کے لیے مربوط حکمت عملی تیار کر رکھی ہے۔ ضیاء اللہ خان بنگش نے سرکاری دفاتر کی ڈیجیٹلائزیشن کے حوالے سے کہا  کہ اب ہم پیپر لیس کام کی طرف جا رہے ہیں اور ہماری کوشش ہے کہ تمام اہم کاموں کے لیے اب ای میل کا استعمال شروع ہو جائے تاکہ وقت کا ضیاع نہ ہو انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت اب محکمہ زکوۃ کے پورے ڈیٹا بیس کو ڈیجیٹلائز کر رہی ہیں۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے معاون خصوصی برائے بلدیات و اطلاعات کامران خان بنگش نے کہا کہ قبائلی عوام کو انضمام کے فوائد ملنا شروع ہو چکے ہیں اور تاریخ میں پہلی مرتبہ قبائلی ضلع مہمند میں آئی ٹی کمپنی رجسٹرڈ ہو چکی ہے  اور ہم یہ توقع رکھتے ہیں کہ باقی تمام قبائلی اضلاع میں بھی ڈیجیٹلائزیشن کا یہ عمل اسی طرح تیزی کے ساتھ منتقل ہو جائے گا۔  انہوں نے کہا کہ آئی ٹی سیکٹر میں ترقی اور کامیابی کے بہت مواقع ہیں اور ہمارے نوجوانوں میں صلاحیتیں بھی موجود ہیں۔ ہم آئی ٹی سیکٹر پر بھر پور توجہ دے رہے ہیں اور پر امید ہیں کہ ہم آئی ٹی سیکٹر میں لیڈ کریں گے۔ حکومت خیبر پختونخواہ کی دو سالہ کامیابیوں کے حوالے سے کامران خان بنگش نے کہا  کہ خیبر پختونخوا  بی آر ٹی منصوبہ، سوات ایکسپریس وے، قبائلی اضلاع کا انضمام وہاں پر الیکشن کا کامیاب انعقاد اور بے شمار کئی اہم منصوبے ہم نے مکمل کر لیے ہیں  جبکہ دیگر کئی اہم منصوبے زیر تکمیل اور کچھ ابتدائی مراحل میں ہیں  جن کی تکمیل سے عوامی مسائل  حل ہونے کے ساتھ ساتھ روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ انہوں نے کہا  کہ ہم نوجوانوں کو پالیسی سازی میں خودمختار بنا رہے  ہیں اور ان کو تمام تر سہولیات بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔ محکمہ اطلاعات وتعلقات عامہ کے متعلق ایک سوال کے جواب میں  کامران خان بنگش نے کہا کہ پختونخوا ریڈیوز کی کوریج 58 فیصد ہیں اور محکمہ اطلاعات کے دیگر امور کو بھی بہت جلد ڈیجیٹلائز کیا جا رہا ہے قبائلی اضلاع بشمول  پورے خیبر پختونخوا کے عوام کو ان ریڈیو کے ذریعے مفید، درست اور بروقت معلومات مل رہی ہیں۔

مزید :

صفحہ اول -