ثقافت کواجاگرکرکے صوبے کا مثبت چہرہ دنیا کے سامنے لایا جا سکتا ہے، شوکت یوسفزئی 

  ثقافت کواجاگرکرکے صوبے کا مثبت چہرہ دنیا کے سامنے لایا جا سکتا ہے، شوکت ...

  

پشاور(سٹاف رپورٹر) خیبرپختونخوا ثقافتی امتزاج کا ایک بہترین مرکز ہے، ہماری ثقافت ہی دنیا میں ہماری پہچان ہے۔ محکمہ ثقافت صوبے کے مختلف ثقافتی پہلوؤں کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے منظم منصوبہ بندی کرے۔خیبر پختونخوا کا ہر علاقہ اپنے اندر ایک  خاص ثقافتی پہلو رکھتا ہے اس کی جھلک ہمیں صوبے کی ہر بڑی تقریب اور سرگرمی میں نظر آنی چاہیے، شوکت یوسفزئی کی صوبے میں ثقافتی ورثہ اور ثقافتی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے اقدامات کا جائزہ لیتے ہوئے محکمہ ثقافت کو ہدایت۔پشاور میں محکمہ ثقافت کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ثقافت کے وہ پہلو جو معدوم ہوتے جا رہے ہیں ان  پر زیادہ توجہ کی ضرورت ہے۔ ثقافت کے بہترین پہلوؤں کو  نئی نسل  تک منتقل کرنے کے لیے نوجوانوں پر خصوصی توجہ دی جائے۔اس سلسلے میں ہمیں اپنے بڑوں کے تجربے سے استفادہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ قومی اداروں کے تجربہ کار ماہرین سے بھی استفادہ کرنے کی ضرورت ہے۔  قومی اداروں سے منسلک ایک بہترین ٹیم نے ہمیشہ قومی ثقافتی پہلووں کو اجاگر کرتے ہوئے ہماری ذہن سازی بہترین طریقے سے کی ہے اور محکمہ ثقافت ایسے ہی ٹیم بنائے اورمختلف اداروں کے ساتھ مل کر لائحہ عمل ترتیب دے۔محکمہ ثقافت کے جائزہ اجلاس میں انصاف کلچر اور سپورٹس ونگ کے نائب صدر شاہد شنواری، ڈی جی کلچر، پی ٹی وی کے سابقہ پروڈیوسر عزیز اعجاز اور لاہور سے شعبہ ثقافت کے ماہرین نے بھی شرکت کی اور خیبر پختونخوا کی ثقافت کے مختلف پہلوؤں پر سیر حاصل گفتگو کی۔ شوکت یوسفزئی کا مزید کہنا تھا کہ شہروں کی بے ھنگم طرز زندگی ثقافتی اقدار کے لیے بہت بڑا  خطرہ ہے,دہشت گردی اور انتہا پسندی نے ثقافتی ورثے کو نقصان پہنچایا ہے اس کے احیاء کے لیے اقدامات کریں گے۔وزیر ثقافت کا کہنا تھا کہ مذہبی سیاحت کو فروغ دے کر پاکستان کا تشخص مزید اجاگر کرنا ہوگا، پاکستان دنیا کے مختلف مذاہب کی تاریخ اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے اور مذہبی سیاحت کی وجہ سے دنیا کے کونے کونے سے سیاح پاکستان کا رخ کریں گے جس سے علاقائی معیشت کی ترقی ہو گی اور دنیا کو پاکستان کے مختلف ثقافتی پہلووں کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔شوکت یوسفزئی کا کہنا تھا کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی جیسے رجحانات نے ہمارے ثقافتی اقدار کو نقصان پہنچایا ہے اور اس کی بحالی کے لئے مزید اقدامات کی ضرورت ہے، وزیر ثقافت کا مزید کہنا تھا کہ نئی نسل کی ذہن سازی کے لئے ان کی تربیت میں ثقافتی پہلوؤں کا خصوصی خیال رکھنا ہوگا اور اس سلسلے میں تعلیمی نصاب میں ثقافتی احیاء کے علوم شامل کریں گے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ترقی کے منازل طے کرتے ہوئے ہمیں اپنے تہذیب اور ثقافتی اقدار کو ساتھ لے کر چلنا 

مزید :

صفحہ اول -