پشاور، خاصہ دارفورس کے شہداء کے ورثاء کا احتجاجی مظاہرہ 

    پشاور، خاصہ دارفورس کے شہداء کے ورثاء کا احتجاجی مظاہرہ 

  

پشاور(سٹی رپورٹر)ضم شدہ اضلاع کے خاصہ دار و لیوی فورس کے شہداء کے ورثاء نے اپنے مطالبات کے حق میں پشاور پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا ور آئی جی خیبر پختونخوا سے مطالبہ کیا ہے کہ شہداء کے خاندانوں کے افرادد کو پولیس میں بھرتی کیا جائے جبکہ کے پی پولیس کی طرح شہیدوں کے تنخواہ کو 60سالہ تک جاری رکھا جائے اور شہداء کے ورثا ء کو ددرپیش دیگر مسائل حل کیے جائے  بصورت  ددو ہفتوں مین مطالبات حل نہ ہونے کی صورت میں اسلام آباد میں دھرنا دینگے مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈدز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جس پر انکے حق میں تھے مظاہرے کی قیادت ملک پرویز آفریدی سمیت کثیر تعداد مں شہداء کے لواحقین نے کی اس موقع پر مظاہرین کا کہنا تھا کہ سابقہ فاٹا خیبر پختونخوا میں ضم ہو چکا ہے اور خاصہ ار اور لیوی فورس بھی مرحلہ وار پولیس میں ضم ہو چچکے ہیں لیکن سابقہ فاٹا مین قیام امن کیلئے خاصہ دار لیوسی  فورس نے فرنٹ لائن پر بے پناء قربانیاں دی ہیں اور پاک فوج کے شانہ بشانہ سرحددوں کی حفاظت کی انہوں نے کہا کہ پولیٹیکل انتظامیہ کی جانب سے شہداء کے خاندانوں کو دس ہزار سے لیکر بیس ہزار  روپے  ماہانہ  دئے جاتے اور انکے بچوں کی تعلیم کیلئے دو ہزار روپے ددئے جاتے تھے جبکہ انضمام کے بعد یہ وظائف بھی بند ہوئے اور فاٹا کے شہداء کے لواھقین فاقہ کشی پر مجبور ہے اور انکا کوئی پرسان حال نہیں جبکہ انکے بچوں کو بھی اچھے سکولوں س نکال دیا ہے جس سے انکا مستبقل تاریک  ہو چکا ہے انہوں نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اور آئی جی خیبر پختونخوا سے مطالبہ کہ شہداء کے خاندانوں کے افراد کو پولیس میں بھرتی کیا جائے ،کے پی پولیس کے طرز پر شہداء کی تنخواہیں 60سالہ تک جاری کیئے جائے،شہداء کے بچوں کو فری تعلیم  و صحت دی جائے  جبکہ شہداء کے ورثاء کو پالویس پالیسی کے تحت اسٹنٹ سب انسپکٹر اسامیوں پر ترقی دینے سمیت صوبہ کے دیگر پولیس کے شہدداء کی طرح ہمارے شہداء کو بھی 4اگست یوم شہداء کو اسی طرح یاد کیا جائے اور پولیس کی طرح دیگر مراعات و خیبر پولیس کو نقد پیکج دیا جائے بصورت دیگر  دو ہفتوں کے دوران مطالبات پر عمل درامد نہ ہونے کی صورت میں  اسلام آباد کا رخ کرنے پر مجبور ہونگے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -