سندھ میں کم عمربچیوں کا اغوا کے بعد جبر ی مذہب تبدیل کیا جارہا ہے 

  سندھ میں کم عمربچیوں کا اغوا کے بعد جبر ی مذہب تبدیل کیا جارہا ہے 

  

اسلام آباد(آئی این پی)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے جبری مذہب کی تبدیلی میں اقلیتی اراکین پارلیمنٹ نے الزام عائد کیا کہ سندھ میں کم عمر بچیوں کو اغوا کر کے جبرا ان کا مذہب تبدیلی کیاجارہاہے جس کی وجہ سے اقلیتوں میں عدم تحفظ کی کیفیت پائی جاتی ہے کمیٹی نے اگلے اجلاس میں آئی جی سندھ کوذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔ پیر کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے جبری مذہب کی تبدیلی کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر انوار الحق کاکڑ کی سربراہی میں پارلیمنٹ ہاوس میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزیر مملکت پارلیمانی امور علی محمد، چیئرمین اقلیتی کمیشن کمیٹی رام چیلا کے علاوہ اقلیتی اراکین اسمبلی نے بھی شرکت کی کمیٹی نے لاہور موٹروے پر خاتون سے ذیادتی کے کیس کی مذمت کرتے ہوئے اسے افسوسناک واقعہ قرار دیا، چیئرمین کمیٹی سینیٹرانوار الحق کاکڑ نے کہاکہ مذہب کی جبری تبدیلی سے متعلق اسلامی نظریاتی کونسل کی رپورٹ آئندہ اجلاس میں پیش کی جائے گی، مذہب تبدیلی کے معاملے پر قانون بنادینا مسئلے کا حل نہیں ہے، قوانین پر عملدرآمد ضروری ہے مذہب کی جبری تبدیلی سے متعلق اسلامی نظریاتی کونسل کی رپورٹ آئندہ اجلاس میں پیش کی جائے گی، وزیر مملکت پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہاکہ اسلام آباد میں مذہب کی جبری تبدیلی کا کوئی تصور نہیں وفاق المدارس العربیہ کے علماسے جبری مذہب تبدیلی کے معاملے پر تجاویز لی جائیں وزیر مذہبی امور پیر نور الحق قادری کا بین المذاھب ہم آہنگی پیدا کرنے میں اہم کردار ہے، قانون اس مسئلے کے حوالے سے مداوا نہیں کر پا رہا جبری مذہب کی تبدیلی کے زیادہ تر واقعات سندھ میں رونما ہورہے ہیں،چیئرمین اقلیتی کمیشن چیلا رام نے کہاکہ مذہب کی جبری تبدیلی کے واقعات کے باعث پاکستان کا امیج خراب ہورہا ہے کم عمر میں اقلیتی خواتین کی شادیاں غیر قانونی ہیں جبری مذہب کی تبدیلی کے حوالے سے قانون سازی کرنا انتہائی ضروری ہے۔

اقلیتی اراکین

مزید :

پشاورصفحہ آخر -