وطن عزیز

وطن عزیز
وطن عزیز
کیپشن:    سورس:   creative commons license

  

وطن سے مراد ایسی محفوظ پناہ گاہ ہے۔ جس میں لوگ اپنی مرضی سے رہ سکے۔ عبادت کر سکے۔اور الحمد اللہ! اللہ کے فضل سے اللہ نے ہمیں "اسلامی جمہوریہ پاکستان" کی نعمت سے نوازا۔اور یہ وطن ستائیس رمضان المبارک کو اور انگریزی تاریخ کے حساب سے 14 اگست 1947 کو معرض وجود میں آیا۔ 

کروڑوں لوگوں کے گھر اجڑنے کے بعد' عورتوں کی عزت کو تاڑ تاڑ کرنے کے بعد' ماؤں کے جوان بیٹے قربان کرنے کے بعد' عورتوں کے سہاگ اجڑنے کے بعد'دن رات کی انتھک محنت کے بعد'ہمارے عزیز رہنماؤں کی کوششوں کے نچوڑ کے بعد اور ایسی دیگر قربانیوں سے ہمیں یہ حاصل ہوا ہے۔اور آزادی اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے۔شاید ایک آزاد باشندہ اس کی قمیت کا اتنا اندازہ نہ لگا سکے۔ 

اس کی بنیاد دو قومی نظریے پہ رکھی گئی۔ لفظ پاکستان چودھری رحمت علی خاں نے تجویز کیا۔جس کا مطلب ہے ""لا الہ الااللہ'" 

 پاکستان ایک شاندار ریاست ہے۔ اور اللہ کی رحمت اس پہ سایہ فگن ہے۔اس وطن کی حفاظت کے لیے لاکھوں ماؤں کے بیٹے سرحدوں پہ اپنی جان کا نذرانہ پیش کرتے ہیں۔ اور اس کی آبرو کے لیے ہر وقت جوشیلے رہتے ہیں۔ کیونکہ انھیں پاکستان کی قدرو قیمت کا اندازہ ہے۔ اور پاکستان خوبصورتی میں بھی پیش پیش ہے۔ سمندروں کا سنگم'خوبصورت پہاڑی علاقے'اور ان کے خدو خال'اور پاکستان کے ہر موسم کی الگ خصوصیات ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں پاکستان میں ہر نعمت سے نوازا ہے۔ اور یہ قدرتی امر ہے جس جگہ انسان پیدا ہوتا ہے جوان ہوتا ہے۔اس جگ سے خاص قسم کی انسیت وابستہ ہوتی ہے۔ اور جب بات ہو پاکستان کی تو اور بھی لگاؤ ہوتا ہے۔کیونک یہ ہمارے آبا واجداد کی لہو کے عوض میں ملا ہے۔ 

 وطن کی محبت ایمان سے ہے۔وطن کی محبت کا تقاضا یہ ہے کہ آپ پہلے خود کو سنوارے۔پھر اپنی ذمداری کو سمجھے اس کو پورا کرے۔ اور جب بھی اس وطن کو قربانی کی ضرورت پیش آئے تو پیچھے نہ ہٹے۔اگر آپ عورت ہو اور آپ کے پاس کچھ بھی نہیں ہے قربان کرنے کو تو بھی تیار رہے۔ ""ایک روایت میں آتا ہے کہ ابن قدامہ جہاد کے لیے روانہ ہوتا ہے۔ تو ایک رقے کی عورت کہتی ہے۔کے میرے پاس اور تو کچھ نہیں ہے لیکن ایک رسی ہے جو میں نے اپنے بالوں سے بنائی ہے ابن قدامہ یہ لے جاؤ اپنے گھوڑے کے لیے باندھنے میں مدد ملے گی" مطلب اس عورت کے پاس کچھ بھی نہیں پھر بھی وہ کوشش کر رہی ہے۔ 

 اللہ نے ہمیں پاکستان جیسی نعمت تو عطا کر دی۔اب ہم پہ منہصر ہے کہ ہم کیسے اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں۔ اللہ فرماتا ہے۔ ""نعمت کی قدر نہیں کرو گے۔تو چھین لی جائے گی""۔ ہمیں اس نعمت کی حفاظت کرنی ہے اور اس رب کے حضور سجدہ شکر کرنا ہے ۔ کیونکہ اللہ فرماتا ہے۔""جب تم شکر کرو گے میں تمہیں اور دوں گا""۔ اب ہم نے اس ملک کو امن کا گہوارہ بنانا ہے۔اگر ہم طالب علم ہیں تو تعلیم حاصل کر کے اس ملک کو بلندیوں تک پہنچانا ہے۔رنگ و نسل' فرقوں کا امتیاز ختم کرنا ہے۔ اللہ سے دعا ہے۔ کے اللہ ہمارے وطن کو سلامت رکھے تا قیامت رکھے۔ اور ہر میدان میں کامیابی سے ہم کنار کرے۔ اور ہمیں حق کی راہ پہ چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اور جو ملک کی سرحدوں پہ اس کی حفاظت کے لیے کھڑے ہیں ان کو آباد رکھے۔ امین یا رب العالمین! 

خدا کرے کہ میری عرض پاک پہ اترے

وہ فصلِ گل جسے اندیشہء زوال نہ ہو

یہاں جو پھول کھلے وہ کِھلا ہی رہے صدیوں

یہاں خزاں کو گزرنے کی مجال نہ ہو!

۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں.

مزید :

بلاگ -