یہ نمونا ہے اس کو چپ کرائیں، میں اس کے منہ نہیں لگنا چاہتا، سینیٹ اجلاس میں مشاہد اللہ خان اور عتیق شیخ کے درمیان تلخ کلامی 

یہ نمونا ہے اس کو چپ کرائیں، میں اس کے منہ نہیں لگنا چاہتا، سینیٹ اجلاس میں ...
یہ نمونا ہے اس کو چپ کرائیں، میں اس کے منہ نہیں لگنا چاہتا، سینیٹ اجلاس میں مشاہد اللہ خان اور عتیق شیخ کے درمیان تلخ کلامی 

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹ اجلاس میں سینیٹر مشاہد اللہ اور سینیٹرعتیق شیخ کے درمیان تلخ کلامی ہو گئی ،مشاہد اللہ خان نے کہاکہ یہ نمونا ہے اس کو چپ کرائیں،میں اس کے منہ نہیں لگنا چاہتا،میاں عتیق کو پٹہ ڈالیں یہ بلدیہ فیکٹری کا قاتل ہے ۔

نجی ٹی وی ہم نیوزچیئرمین صادق سنجرانی کی زیرصدارت سینیٹ کا اجلاس جاری ہے، مسلم لیگ ن کے سینیٹر مشاہد اللہ خان نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ اگر سی سی پی او اتنا اچھا افسر ہے تو آئی بی نے اس کے خلاف رپورٹ کیوں دی؟،یا تو آئی بی ٹھیک ہے یا سی سی پی او ٹھیک ہے ،لیگی رہنما نے کہاکہ رنگ روڈ پر واقعہ ہوا ہے تو ذمہ دار سی سی پی او ہے ،موٹر وے پر واقعہ ہوا ہے تو ذمہ دار وفاقی وزیر ہے ۔

سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہاکہ وزیر اعظم اور وزرا نے سی سی پی او کی تعریف کی ،سی سی پی او کی کوئی معافی نہیں ، ایکشن ہونا چاہئے،حکومت سی سی پی او کو بچانے کے چکر میں ہے۔

اجلاس کے دوران سینیٹرمشاہد اللہ خان اورسینیٹر عتیق شیخ کے درمیان تلخ کلامی ہو گئی ، لیگی رہنما نے کہاکہ یہ نمونا ہے اس کو چپ کرائیں، میں اس کے منہ نہیں لگنا چاہتا،میاں عتیق کو پٹہ ڈالیں یہ بلدیہ فیکٹری کا قاتل ہے ۔

مزید :

قومی -علاقائی -اسلام آباد -