برصغیر کے ممتاز سیرت نگار اور محقق پروفیسر ڈاکٹر یاسین مظہر صدیقی بھارت میں انتقال کر گئے

برصغیر کے ممتاز سیرت نگار اور محقق پروفیسر ڈاکٹر یاسین مظہر صدیقی بھارت میں ...
برصغیر کے ممتاز سیرت نگار اور محقق پروفیسر ڈاکٹر یاسین مظہر صدیقی بھارت میں انتقال کر گئے

  

علی گڑھ (ڈیلی پاکستان آن لائن)برصغیر کے ممتاز سیرت نگار اور محقق پروفیسر ڈاکٹر یاسین مظہر صدیقی 86 برس کی عمر میں بھارت میں انتقال کرگئے،نماز جنازہ آج بعد نماز عشا علی گڑھ میں ادا کی جائے گی ،عالم اسلام میں پروفیسر ڈاکٹر یاسین مظہر صدیقی  علم اور عاجزی کا حسین امتزاج، مروت اور رواداری کی زندہ مثال اور سادگی کا بلند و بالا مینار تھے۔

تفصیلات کے مطابق معروف سیرت نگار اور محقق پروفیسر ڈاکٹر یٰسین مظہرصدیقی ندوی آج علی گڑھ میں اپنے مالک حقیقی سے جا ملے، ڈاکٹر یاسین مظہر صدیقی 26دسمبر1944ء کو وہ اُترپردیش میں پیدا ہوئے،آپ کے والد بھی عالم دین تھے،آپ نے مولانا ابو الحسن علی ندویؒ اور مولانا محمد رابع حسنی ندویؒ جیسی شخصیات سےکسبِ فیض کیا اور تمام تعلیم دار العلوم ندوۃ العلماء ، جامعہ ملّیہ اور مسلم یونیورسٹی علی گڑھ سے حاصل کی تاہم مسلم علی گڑھ یونیورسٹی آپ کی پہچان بن گئی، جہاں آپ شعبہ تاریخ میں بطور ِ ریسرچ سکالر،بعد ازاں اُستاذ ہوگئے ، پھر ڈائریکٹر شعبہ علوم اسلامیہ کی ذمہ داری انجام دیتے رہے ۔ریٹائرمنٹ کے بعد آپ کو یونیورسٹی کے ذیلی ادارہ' شاہ ولی اللّٰہ ریسرچ سیل' کا سربراہ بنا دیا گیا تھا ۔

سیرت نگاری آپ کا مخصوص میدان تھا۔موصوف کی عربی، اُردو اور انگریزی زبان میں متعدد کتب شائع ہو چکی ہیں انکے پانچ سو کے قریب سیرت النبی ﷺ پر مقالات مختلف جرائد میں چھپ چکے ہیں۔ قاضی سلیمان منصور پوریؒ،مولانا شبلیؒ اور سید سلیمان ندوی ؒکے بعد ڈاکٹر یاسین مظہر صدیقی نے سیرت نگاری کے شعبے میں نام پیدا کیا ،وہ پاکستان کی مختلف جامعات میں منعقد ہونے والی  سالانہ سیرت کانفرنسوں میں مقالات پیش کرتے رہے۔  پروفیسر ڈاکٹر یٰسین مظہر صدیقی کئی مایہ ماز کتابوں کے مصنف تھے جن میں عہد نبویﷺ کا نظام حکومت، رسول اکرمﷺ کی رضاعی مائیں، بنو ہاشم اور بنو امیہ کے معاشرتی تعلقات، خلافت اموی خلافت راشدہ کے پس منظر میں اور شاہ ولی اللہ دہلویؒ ایک تعارف جیسی معتدد کتب شامل ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر یاسین مظہرصدیقی کا  تنقیح تاریخ پرکام بلاشبہ لاجواب ہے جہاں آپ نے پوری تحقیق کے ساتھ تاریخ اسلامی کے متنازعہ ترین ابواب کو نہایت محنت و دقت کے ساتھ روایت و درایت کی کسوٹی پر پرکھ کر ہدیہ قارئین کیا۔

 مسلم سکالرز فورم پاکستان کے صدر ڈاکٹر تنویرقاسم نے ڈاکٹر یاسین مظہر صدیقی کی وفات پر گہرے رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم میرے ڈاکٹر ریٹ مقالہ کے ایکسٹرنل سپروائزر تھے، انکی وفات سے علمی دنیا خاص طور پر سیرت نگاری کے میدان میں بہت بڑاخلا پیدا ہوگیا ہے۔جو پورا ہوتا نظر نہیں آرہا۔

مزید :

روشن کرنیں -