کیا ہمیں بھی دھکے کی ضرورت ہے؟؟؟

کیا ہمیں بھی دھکے کی ضرورت ہے؟؟؟
 کیا ہمیں بھی دھکے کی ضرورت ہے؟؟؟

  

امریکی ریاست نارتھ کیرولاہنا کے ساحل پر ایک قصبہ کیٹی ہاک واقع ہے.1900 میں اسی قصبے کے ریتلے ساحل پر دو منچلے نوجوان دن رات ایک تجربے میں مگن تھے. وہ اس قصبے کے رہنے والے نہیں تھے بلکہ اس جگہ سے کوئی گیارہ سو کلو میٹر دور امریکی ریاست اوہاہیو کے قصبے ڈیٹن سے آئے تھے. لیکن ہوا میں اڑنے کا جنون انہیں اس ساحلی علاقے تک کھینچ لایا تھا کیونکہ کیٹی ہاک کے ساحلوں پر تیز ہوائیں چلتی تھیں اور یہاں کی نرم ریت بلندی سے گرنے والوں کو زیادہ چوٹ نہیں پہنچاتی تھیں.

یہ دونوں نوجوان سگے بھائی, ولبر رائٹ اور وبل رائٹ, یہاں ہوائی جہاز آڑانے کی مشق کرتے تھے. وہ ساحل پر ہی ایک خیمہ لگا کر اس میں رہتے تھے. انہیں امید تھی کہ اس ریتلے ساحل پر انسان مشینی ہوائی جہاز میں اپنی پہلی پرواز ضرور کرے گا. رائٹ برادران بچپن سے ہی جہاز بنانے کے شوقین تھے وجہ یہ تھی کہ انہوں نے بچپن میں جہاز جیسا ایک کھلونا اڑتے دیکھا تھا جب کھلونے کو بل دے کر چھوڑا جاتا تو یہ اڑنے لگتا. بس اس کھلونے کو دیکھ کر دونوں بھائیوں پر یہ خبط سوار ہو گیا کہ اگر یہ کھلونا اڑ سکتا ہے تو ایک ایسی مشین بھی اڑ سکتی ہے جس میں انسان سوار ہو. انہوں نے کئی سال کے مطالعے اور تجربات کے بعد بغیر انجن کے ایک جہاز جو کہ اصل میں گلاہیڈر تھا وہ بنایا اور بچپن کے خواب کو پورا کرنے کیٹی ہاک پہنچ گئے.

وہ خالی گلاہیڈر کو رسی سے باندھ کر پتنگ کی طرح ہوا میں اڑانے کی کوشش کرتے تھے. ان تجربات میں خطرہ بھی بہت تھا, بعض اوقات تو تیز ہوا سے گلاہیڈر دور جا گرتا, ایک بار تو گلاہیڈر بری طرح ٹوٹ گیا مگر دونوں بھائیوں نے اس کی مرمت کر کے اسے پھر اڑانے کے قابل بنا لیا, وہ کافی تجربات کے بعد واپس لوٹ گئے اور پھر اگلے سال1901 میں جب وہ واپس آئے تو ان کے پاس گلاہیڈر کا بہترین ڈیزائن تھا, یہ گلاہیڈر اڑتا تو تھا مگر وہ ابھی بھی اسے اپنی مرضی کے مطابق کنٹرول نہیں کر پا رہے تھے, اس بار بھی یہ زیادہ کامیاب نہ ہوسکے اور واپس لوٹ گئے.

دونوں بھائی اگلے برس1902 میں کیٹی ہاک لوٹے, اب کی بار ان کا گلاہیڈر اتنا زبردست تھا, کہ وہ ہوا میں ادھر ادھر ڈولنے کی بجائے بالکل سیدھا اڑنے لگا تھا, اب یہ برادران گلاہیڈر اس کو اپنی مرضی سے موڑ بھی سکتے تھے, اس دفعہ ان کا یہ ٹور کامیاب رہا تھا, دسمبر 1903 میں رائٹ برادران کیٹی ہاک اے تو ان کے پاس رائٹ فلاہر تھا, دنیا کا پہلا ہوائی جہاز,اس دفعہ جہاز کو اڑانے کے لیے اس میں موٹر نصب کی گئی تھی, چودہ دسمبر کو رائٹ برادران نے اڑان بھرنے کا فیصلہ کیا, اب یہاں ایک اور مشکل ان کا انتظار کر رہی تھی کیوں کہ جہاز کو صرف ایک آدمی ہی اڑا سکتا تھا اس مشکل کا حل انھوں نے ٹاس کی شکل میں نکالا ان دونوں کے درمیان یہ طے پایا کہ جو ٹاس جیتے گا وہ پرواز کرے گا.

ان دونوں بھائیوں نے اڑان بھرنے کے لئے ٹاس کیا اور یہ ٹاس وبل رائٹ جیت گئے،وبل رائٹ نہ اڑان بھرنا چاہی لیکن اس سے ایک غلطی ہو گئی اس نے جہاز کا اگلا حصہ کچھ زیادہ ہی اوپر اٹھ دیا جس کے نتیجے میں جہاز کا توازن بگڑا اور وہ نیچے گرا اور اس کے نتیجے میں اس کے کچھ پرزے ٹوٹ گئے. ان پرزوں کو ٹھیک کرنے میں انھیں دو تین دن لگے.یہ 17 دسمبر کا دن تھا اس دفعہ ولبر رائٹ اڑان بھرنے کے لئے تیار تھے وقت تھا دس بج کر پنینتس منٹ اس نے بارہ سیکنڈ میں ایک سو بیس فٹ کا فاصلہ طے کیا اور پھر واپس اتر گیا. یہ دنیا کے پہلے ہوائی جہاز کی پہلی کامیاب پرواز تھی. یوں ان بارہ سیکنڈ نے تاریخ رقم کر دی .ان بارہ سیکنڈ نے کتنے لوگوں کی زندگیاں آسان کر دی ہیں؟ اس بات کا اندازہ آج انسان بخوبی لگا سکتا ہے.

یہاں پر میرا آپ سے سوال ہے کیا رائٹ برادران خوف کا شکار ہوے ؟آپ کے جواب کا تو پتہ نہیں لیکن میرا جوب ہے نہیں کیوں کہ اگر وہ خوف زدہ ہوتے تو وہ کامیاب نہ ہوتے کیوں کہ کامیاب ہونے کے لیے آپ کو بے خوف ہونا پڑتا ہے. ہم نے بچپن میں his first flight کہانی پڑھی تھی. اس کہانی میں خوف کےباوجود سیگل کی ماں اپنےبچے کو دھکا دے دیتی ہے.اس سے بظاہر لگتا ہے کہ اس نے اپنے بچے کے ساتھ بڑی بہ رحمی کی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ سیگل اس بہ رحمی کے نتیجے میں اڑنا سیکھ جاتا ہے.آخر ہم ہر وقت خوف کے سائے میں کیوں رہتے ہیں ؟ ہم کب تک لوگوں کی مرضی سے جئیں گے ؟کیا آپ کی اپنی کوئی مرضی نہیں ؟ کیا ہم اڑنا نہیں چاہتے ؟ کیا اپ کا اپنا کوئی خوب نہیں ؟ اگر اپ کا کوئی خواب نہیں تو جناب مبارک ہو آپ کبھی ترقی نہیں کر سکتے۔۔۔ کیوںکہ جو انسان خوف کے ہوتے ہوئے خوف پر قابو نہیں پاتا وہ ترقی نہیں کر سکتا.

کب تک رہوں میں خوف زدہ اپنے آپ سے

اک دن نکل نہ جاؤں ذرا اپنے آپ سے

خوف پر قابو پانے کیلئے دو چیزیں ضروری ہیں. پہلی چیز فیصلہ ہے اور دوسرا خود پر یقین ہے  تو کیا ہم اپنے لئے اتنا بھی نہیں کر سکتے؟ کیا ہم کو واقعی ہی اپنے اوپر یقین نہیں؟ اگر واقعی ہے ایسا ہے تو پھر ہمیں بھی دھکے کی ضرورت ہے۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

بلاگ -