عدالتیں سیاسی مقدمات میں تو ضمانتیں منظور نہیں کرتی لیکن۔۔۔۔   سینٹ میں حکومتی اور اپوزیشن ارکان سانحہ موٹر وے پر پھٹ پڑے

 عدالتیں سیاسی مقدمات میں تو ضمانتیں منظور نہیں کرتی لیکن۔۔۔۔   سینٹ میں ...
 عدالتیں سیاسی مقدمات میں تو ضمانتیں منظور نہیں کرتی لیکن۔۔۔۔   سینٹ میں حکومتی اور اپوزیشن ارکان سانحہ موٹر وے پر پھٹ پڑے

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)   سینٹ میں حکومتی اور اپوزیشن ارکان نے موٹر وے زیادتی کے واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے انتہائی شرمناک اور تکلیف دہ قرار دیدیا۔قائد ایوان سینیٹر ڈاکٹر شہزاد وسیم نے کہا کہ جیلیں مجرموں کی نرسریاں بن چکی ہیں، ایسے واقعات کے مجرموں کی سزا عبرتناک ہونی چاہیے۔قائد حزب اختلاف سینیٹرراجہ ظفر الحق نے کہا کہ عدالتیں سیاسی مقدمات میں تو ضمانتیں منظور نہیں کرتی لیکن سنگین جرائم کے مقدمات کے ملزم ضمانت پر رہا ہو جاتے ہیں، ججز کی تقرری کا طریقہ کار اطمینان بخش نہیں،موٹر وے واقعہ کے ملزمان کو پھانسی ہونی چاہیے۔

ایوان بالا میں موٹر وے پر  ڈکیتی کے بعد خاتون کے ساتھ زیادتی کے معاملہ پر جاری بحث  میں حصہ لیتے ہو ئے سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ لاہور میں خاتون کے ساتھ جو واقعہ ہوا شرمناک اور افسوسناک ہے، ملک کے مختلف علاقوں میں اس طرح کے واقعات ہو رہے ہیں، انہیں روکنے کا کوئی بندوبست نہیں کیا جا رہا، خواتین اور بچوں کے ساتھ مناسب سلوک نہیں کیا جا رہا، یہ واقعہ ایک ٹیسٹ کیس ہے، اس میں ملوث مجرموں کو پھانسی دی جائے، یہ واقعہ پی ٹی آئی حکومت کا قصور نہیں بلکہ تسلسل سے یہ واقعات ہو رہے ہیں۔

وفاقی وزیر سینیٹر اعظم سواتی نے کہا کہ انسداد منشیات فورس (اے این ایف) کے جوانوں نے منشیات کی لعنت کے خاتمے کیلئے قربانی دی، ہم نے قوانین کو بہتر بنایا ہے، کمیٹیوں کو اس پر قائل کیا۔ انہوں نے تجویز دی کہ قانون بنایا جائے کہ مجرموں کو جلد سے جلد سزا ملے اور سر عام سزا ملے، اسلامی سزائیں سخت ہیں لیکن ظالمانہ نہیں ہیں۔ سینیٹر اعظم سواتی نے کہا کہ میں اپنی حکومت کو یہ کہتا ہوں کہ اس کو پس پردہ ڈالنے کی بجائے سارے عوامل کو دیکھا جائے، مجرموں کو سنگین سزا دی جائے تاکہ کوئی انسان ملک خداد پاکستان میں یہ جسارت نہ کرے،یہ  انتہائی سنگین واقعہ ہے اور اس کا تصور اور بیان، اس کے حقائق میں قطعا میرے پاس الفاظ نہیں کہ کس طرح بیان کروں، یہ واقعات اب نہیں ہو رہے، اس سے پہلے بھی ہوتے رہے ہیں، سب دوستوں سے کہوں گا کہ آئیں مل کر سب ایسی قانون سازی کریں کہ ایسے مجرموں کو سخت سے سخت سزا دی جائے۔

سینیٹر عثمان کاکڑ نے کہا کہ اس طرح کے واقعات ماضی میں بھی ہوتے رہے ہیں، مشرف دور میں دو بڑے واقعات سامنے آئے، ملک بھر میں خواتین اور بچوں سے زیادتی کے واقعات ہو رہے ہیں، پولیس کا رویہ عوام دوست نہیں، پولیس کا مائنڈ سیٹ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، انہوں نے سی سی پی او لاہور کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ مجرموں کو عبرتناک سزا دی جائے۔ سینیٹر ستارہ ایاز نے کہا کہ ملک میں کوئی کمزور انسان محفوظ نہیں ہے، اس اہم معاملے پر ایوان میں سیاسی پوائنٹ سکورنگ کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اب عوام بھی صرف سوشل میڈیا پر احتجاج کرتی ہے، باہر نہیں نکلتی۔سینیٹر میر کبیر نے کہا کہ نواب اکبر بگٹی کا مشرف سے اختلاف بھی ایک خاتون کے ساتھ زیادتی کے معاملے پر شروع ہوا، آج معاشرہ بے حس ہو چکا ہے، شہروں میں اس طرح کے واقعات زیادہ رونما ہو رہے ہیں کیونکہ شہروں میں اخلاقیات پر توجہ نہیں دی گئی،عدالتوں میں انصاف ملنے میں تاخیر ہوتی ہے۔

قائد حزب اختلاف سینیٹر راجہ ظفر الحق نے کہا کہ سوچنا چاہیے کہ اس طرح کے دلخراش واقعات کیوں ہو رہے ہیں اور یہ واقعات بڑھتے جا رہے ہیں،سب سے اہم تھانہ کلچر کو بدلنا ہے، سی سی پی پر تنقید جائز طور پر کی جا رہ ہے، پولیس کو اطلاع کے باوجود پولیس تو نہیں پہنچی لیکن مجرم پہنچ گئے،تھانے میں شکایت کرنے والے کو ہی پولیس تنگ کرتی ہے،عدالتوں سے بھی مجرم بری ہو جاتے ہیں، سیاسی مقدمات میں تو ضمانتیں نہیں ہوتیں لیکن سنگین مقدمات کے ملزم ضمانت پر رہا ہو جاتے ہیں، ججز کی تقرری کا طریقہ کار اطمینان بخش نہیں ہے، ارکان پارلیمان جو ججز تقرری کمیٹی کے رکن ہوتے ہیں، ان کے لئے اعتراض کرنے کا طریقہ کار پیچیدہ ہے،کمیٹی آف دی ہول کا اجلاس بلایا جائے جس میں پولیس کے نیک نام افسر اور ریٹائرڈ یا حاضر سروس ججز بلا کر مشاورت کی جائے، حکومت خود کو سی سی پی او سے منسلک نہ کرے، اس کے ریمارکس پر اسے سزا دی جائے۔

قائد ایوان سینیٹر ڈاکٹر شہزاد وسیم نے کہا کہ ارکان نے جن جذبات کا اظہار کیا ہے، میرے بھی ایسے ہی جذبات ہیں، اگر جذبات کو درمیان سے نکال دیا جائے تو بے حسی بچتی ہے، اس واقعہ نے معاشرے کی کئی جہتوں کو بے نقاب کیا ہے اور خرابیاں سامنے آ گئی ہیں، کسی بھی معاشرے میں خاتون کے مقام سے اس معاشرہ کو پرکھا جا سکتا ہے، ہمیں اپنی خواتین پر فخر ہے، جنہوں نے نامساعد حالات کے باوجود اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا اور اپنی جدوجہد جاری رکھتے ہوئے اپنے حقوق منوائے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کوئی ایسا ادارہ نہیں جس پر ہم فخر کر سکیں، یہ کام دو سالوں میں نہیں ہوا، سیاسی مداخلت نے اس ادارے کو تباہ کیا، را ؤانوار، عابد باکسر جیسے کرداروں کی پرورش کی گئی، سی سی پی او کے ریمارکس کی تائید نہیں کی جا سکتی، میں بھی ان کی مذمت کرتا ہوں، خواتین کو کسی زیادتی کی صورت میں کہا جاتا ہے کہ وہ خاموش رہیں تاکہ عزت پر حرف نہ آئے۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ شخص یا خاتون واقعہ پولیس کو رپورٹ کرتے ہوئے کرب اور دبا سے گزرتا ہے، جیلیں مجرموں کی نرسریاں بن چکی ہیں، ایسے واقعات کے مجرموں کی سزا عبرتناک ہونی چاہیے،ارکان اس واقعہ کے حوالے سے اپنی تجاویز دیں۔

سینیٹر اے رحمن ملک نے کہا کہ لاہور واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ قومی سانحہ ہے، ملک میں قانون کی حکمرانی تک یہ مسائل حل نہیں ہوں گے، میں نے آئی جی پنجاب سے کہا ہے کہ یہ ان کے لئے ٹیسٹ کیس ہے، سینیٹ کی کمیٹی نے اس واقعہ کے حوالے سے 30 سوالات پوچھے ہیں، ہمیں خصوصی قانون سازی کرنا ہو گی تاکہ اس طرح کے مجرموں سے نمٹا جا سکے۔

مزید :

قومی -