سینیٹ  قائمہ کمیٹی  داخلہ نے  فیٹف سے متعلق کوآپریٹو سوسائٹیز  ترمیمی بل 2020  کی کثرت رائے سے منظوری دیدی

سینیٹ  قائمہ کمیٹی  داخلہ نے  فیٹف سے متعلق کوآپریٹو سوسائٹیز  ترمیمی بل 2020 ...
سینیٹ  قائمہ کمیٹی  داخلہ نے  فیٹف سے متعلق کوآپریٹو سوسائٹیز  ترمیمی بل 2020  کی کثرت رائے سے منظوری دیدی

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے  ایف اے ٹی ایف سے متعلق کوآپریٹو سوسائیٹیز ترمیمی بل 2020  کی کثرت رائے سے منظوری دیدی،کمیٹی رکن  سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے  بل پر اپنا اختلافی نوٹ  لکھا،کمیٹی نے موٹروے پر خاتون کے ساتھ زیادتی کے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے21ستمبر کو کمیٹی کا خصوصی اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا جس میں آئی جی پنجاب، سی سی پی او لاہور اور متعلقہ حکام کمیٹی  کو بریفنگ دیں گے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر رحمان ملک کی سربراہی میں پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔اجلاس میں کمیٹی ارکان سینیٹر ز فارق ایچ نائیک، رانا مقبول احمد، سردار شفیق ترین، اعظم سواتی اور کلثوم پروین کے علاوہ وزارت داخلہ اور متعلقہ اداروں کے حکام نے شرکت کی۔ کمیٹی کے اجلاس میں کواپریٹو سوسائیٹیز ترمیمی بل 2020 کو زیر غور لایا گیا۔کمیٹی نے تفصیلی جائزہ لینے کے بعد بل کی منظوری دے دی تاہم سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے اپنا اختلافی نوٹ پیش کیا۔ سینیٹر رحمان ملک نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے ہمیں ضروری قانون سازی کرنا پڑ رہی ہے، ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں ہونا ایک قومی مسئلہ ہے اور گرے لسٹ سے نکلنا انتہائی ضروری ہے۔کمیٹی کے اجلاس میں موٹروے پر خاتون کے ساتھ زیادتی کے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی۔ کمیٹی کے چیئرمین نے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک امر ہے اور کمیٹی اس کی تفصیلی انکوائری کرے گی۔کمیٹی کے اراکین نے بھی اس واقعے کی شفاف انکوائری کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اس واقعے میں ملوث افراد کو سخت سے سخت سزا دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ قانون کی حکمرانی کی یقینی بنانا ہوگا۔

چیئرمین کمیٹی سینیٹر رحمان ملک نے 21 ستمبر کو کمیٹی کا خصوصی اجلاس طلب کرنے کا فیصلہ کیا اور ہدایات دی کہ آئی جی پنجاب، سی سی پی او لاہور اور متعلقہ حکام کمیٹی کے سامنے پیش ہوں۔انہوں نے کہا کہ تمام قانونی پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا۔ سینیٹر اعظم سواتی نے کہا کہ ایسے واقعات کے فیصلے تین ماہ کے اندر ہونے چاہیں۔سینیٹر رانا مقبول نے کہا کہ انسداد دہشت گردی قانون میں سات دن کے اندر فیصلہ کرنا ہوتا ہے مگر ایسا نہیں ہو رہا۔ سینیٹر کلثوم پروین اور دیگر نے بھی اس واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور ملزمان کو سخت سے سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا۔سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ یہ سنگین جرم ہے اور اس کی سزا بھی سنگین ہونی چاہیے۔انہوں نے اس موقع پر سی سی پی اولاہور کے بیان کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیا اور کہا کہ ایک سرکاری اہلکار کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ اس طرح کا بیان دے۔ سینیٹر رحمان ملک نے یہ بھی ہدایات دیں کہ وہ پولیس افسران جو کنسٹرکشن مافیہ، قبضہ مافیا اور ڈرگ مافیا کی سرپرستی کر رہے ہیں ان کو بے نقاب کیا جائے گا اور کمیٹی ان کے خلاف متعلقہ اداروں کو کارروائی کیلئے جلد ہدایات دے گی۔

مزید :

علاقائی -اسلام آباد -