کر دی میلہ میلہ

 کر دی میلہ میلہ
 کر دی میلہ میلہ

  

پیپلزپارٹی کے جواں سال اور پرجوش چیئرمین سے لے کر پنجاب پارٹی کے نویں نکور صدر تک ہر کوئی دعویٰ کر رہا ہے کہ اگلا وزیراعظم جیالا ہو گا، اور پنجاب کی حکومت بھی ہم بنائیں گے۔ایک آدھ بار کی بات ہو تو گمان کیا جا سکتا ہے کہ کسی جلسے کے حاضرین کا موڈ دیکھ کر یا اُن کا جوش و جذبہ اُبھارنے کے لئے ایسا دعویٰ کر دیا گیا ہو گا،لیکن جب مسلسل ایک ہی بات دُہرائی جائے تو سوچنا پڑتا ہے  کہ دعوے کے حق میں دلیل کیا ہے،اور زمینی حقائق کہاں تک اس کا ساتھ دیتے ہیں،جس تواتر کے ساتھ دعویٰ کیا جا رہا ہے،لگتا ہے دعوے کی کوئی نہ کوئی بنیاد تو ضروری ہو گی،لیکن کنٹونمنٹ بورڈوں کے انتخابات کا جو نتیجہ سامنے آیا ہے اس کے بعد ”پلے نئیں دھیلہ، تے کر دی میلہ میلہ“ کا اکھان یاد آ جاتا ہے۔ پیپلزپارٹی کو پورے پنجاب میں ایک بھی نشست نہیں ملی،جنوبی پنجاب نے بھی جھنڈی کرا دی،جس کے بارے میں ہفتہ عشرہ پہلے ہی امید باندھی گئی تھی کہ جونہی بلاول بھٹو زرداری دورے کا آغاز کریں گے بہت سے  الیکٹ ایبلز پیپلز پارٹی کو رونق بخشیں گے،بعض تجزیہ نگاروں نے تو نہ صرف ایسے صاحبان کا سراغ بھی لگا لیا تھا،بلکہ یقین سے کہا جانے لگا تھا کہ وہ پارٹی کو اسی طرح چار چاند لگائیں گے،جس طرح2018ء کے الیکشن سے پہلے ایسے ہی چراغوں نے تحریک انصاف کے آنگن میں چراغاں کیا تھا، آپ کو یاد ہو گا کہ الیکشن سے تھوڑا عرصے پہلے جنوبی پنجاب کے بزرگ اور جواں سال سیاست دانوں پر مشتمل ایک صوبہ محاذ بھی بنا تھا،

جس نے تشکیل کے ساتھ ہی پورے پورے صفحے کے اشتہارات کے ذریعے جنوبی پنجاب کی پسماندگی کو نمایاں کرنے کی بڑی جذباتی کوشش کی تھی،اس اشتہار میں ایک انسان اور ایک جانور ایک تالاب سے پانی پیتے دکھائے گئے تھے،اشتہار دیکھ کر اندازہ ہوتا تھا کہ جنوبی پنجاب کے کھرب پتی جاگیرداروں اور صنعت کاروں پر اچانک القا ہوا ہے کہ اِس خطے میں کتنی غربت اور کتنا افلاس ہے،حالانکہ یہ سارے حضرات اسی خطے سے تعلق رکھتے ہیں، ان میں سے جو بزرگ تھے اُن کی عمریں گذر گئیں انہوں نے سیاست کا آغاز جوانی سے کیا اور بوڑھے ہو گئے،انہیں انسان اور جانور کے ایک ہی تالاب سے پانی پینے کی اطلاعات تو پہلے سے ہوں گی،لیکن انہوں نے اس المیے کو کبھی ہائی لائٹ نہیں کیا تھا،اور نہ اس کے بعد آج تک اس جانب کوئی توجہ دی گئی۔ محاذ کی تشکیل کے بعد یہ پہلا اور آخری اشتہار تھا اِس دوران معلوم نہیں اندر خانے کیا کیا پخت و پز ہوتی رہی اور کیا کیا کھچڑیاں پکتی رہیں کہ اس نو تشکیل محاذ کے امیدوار بڑی تعداد میں کامیاب ہو گئے،اس محاذ کا پہلا اور بڑا مقصد یہ تھا کہ جنوبی پنجاب کو صوبہ بنایا جائے گا،

لیکن کامیابی کے بعد اس نے پہلا کام یہ کیا کہ پورے کے پورے محاذ کو تحریک انصاف میں ضم کر دیا،کیونکہ اس کے خیال میں یہ جماعت حکمران بننے کے سو دن کے اندر اندر نیا صوبہ بنانے میں مخلص تھی،پھر وفاقی اور صوبائی حکومتیں بن گئیں، دن ہفتوں اور مہینوں میں اور مہینے برسوں میں تبدیل ہونے لگے،آج تین برس سے زیادہ ہو گئے نیا صوبہ بنانے کے دعویداروں نے آج تک دوبارہ صوبے کا نام نہیں لیا،البتہ اس محاذ کے کئی عہدیدار یا اُن کی آل اولاد وزیر، مشیر یا دوسرے مناصب پر فائز ہو گئے،ان میں سے جن کی شوگر ملیں تھیں اُن کا پہلا چھکا اُس وقت لگا جب حکومت نے گیارہ لاکھ ٹن چینی برآمد کر دی اور برآمدکنندگان کو پنجاب حکومت نے تین ارب روپے کی سبسڈی دے دی،جب چینی برآمد کی گئی اُس وقت مقامی منڈی میں چینی کی قیمت پچاس پچپن روپے فی کلو سے زیادہ نہ تھی،ادھر چینی برآمد ہوئی اور اُدھر قیمتوں کو پَر لگ گئے،اور آج یہ قیمت110روپے فی کلو سے متجاوز ہے اور بیرونِ ملک سے درآمد کے باوجود قیمتیں کم نہیں ہو رہیں،اب بیرونِ ملک سے چینی خریدنے کا ایک ایسا سودا کیا گیا ہے، جس سے چینی مزید مہنگی ہونے کا قوی امکان ہے،کیونکہ یہ اگر ”نو پرافٹ نو لاس“ پر بھی بکے تو بھی مقامی چینی سے مہنگی پڑے گی۔

تو خیر بات ہو رہی تھی جنوبی پنجاب کے الیکٹ ایبلز کی،جنہوں نے پیپلزپارٹی میں شامل ہونا تھا، جناب بلاول بھٹو ایک ہفتے تک پورے جنوبی پنجاب کے دورے کرتے رہے، اور اِس دوران ملتان کا بلاول ہاؤس بھی سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بنا رہا،لیکن الیکٹ ایبلز  کہیں نظر نہ آئے۔البتہ اس دوران کنٹونمنٹ بورڈوں کے انتخابات کا جو نتیجہ سامنے آیا اس کے مطابق پورے پنجاب سے پیپلزپارٹی کو ایک بھی نشست نہیں ملی،ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگلے دو سال کے اندر پیپلزپارٹی کیوں کر اس قابل ہو جائے گی کہ وفاق اور پنجاب میں بیک وقت حکومت بنا سکے۔اس سوال کا ایک ضمنی سوال بھی ہے کہ بلاول بھٹو نے خالی خولی دعویٰ تو نہیں کیا ہو گا،انہوں نے امکانات کی وسیع و عریض دنیا کا جائزہ لیا ہو گا اور ماضی  کی سیاسی تاریخ کے واقعات بھی اُن کے ذہن میں ہوں گے جب اکثریت کو ناکام بنا کر اقلیت کی حکومت بنائی جاتی رہی،سندھ میں جام صادق کی حکومت اسی طرح وجود میں آئی تھی اُس ایوان میں پیپلزپارٹی واحد اکثریتی جماعت تھی،لیکن اس کے پاس حکومت سازی کے لئے بندے پورے نہیں تھے اور دوسری جماعتوں کا تعاون درکار تھا، اُس وقت کے صدر غلام اسحاق خان کو جام صادق نے یقین دلایا تھا کہ اگر انہیں موقع دیا جائے تو بھان متی کا ایسا کنبہ جوڑ سکتے ہیں جو حکومت بنا لے اور پیپلزپارٹی اکثریت کے باوجود منہ دیکھتی رہ جائے، چنانچہ ایسا ہی ہوا،  جام صادق وزیراعلیٰ بن گئے اور اُن کا انتقال بھی برسر منصب ہوا۔

پیپلزپارٹی کے عہدیدار یہ بیانات بھی داغتے رہتے ہیں کہ اگر پی ڈی ایم اس کے مشورے پر چلتی تو وفاق اور پنجاب کی حکومتیں اب تک ختم ہو چکی ہوتیں،لیکن اس کا مشورہ نہیں مانا گیا نتیجے کے طور پر دونوں حکومتیں اب تک قائم ہیں۔پیپلزپارٹی تحریک عدمِ اعتماد کے ذریعے یہ کرشمہ دکھانا چاہتی تھی،لیکن مسلم لیگ (ن) نے اس خیال کی حمایت اس لئے نہیں کی کہ نمبر گیم سب کچھ کہہ رہی تھی، البتہ پیپلزپارٹی کے اصرار کے جواب میں اتنا کیا کہ وہ تحریک پیش کر دے۔مسلم لیگ(ن) اس کی حمایت کر دے گی، پنجاب میں پیپلز پارٹی کے ارکان کی تعداد 7 ہے،اور وہ ایوان میں چوتھے نمبر کی پارٹی ہے۔پہلی جماعتوں میں بالترتیب تحریک انصاف، مسلم لیگ(ن) اور مسلم لیگ(ق) شامل  ہیں اگر پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ(ن) مل کر بھی تحریک عدم اعتماد لائیں، تو بھی یہ کامیاب نہیں ہو سکتی اِلاّ یہ کہ تحریک انصاف یا اس کے اتحادیوں میں سے کچھ ارکان ٹوٹ کر تحریک کا ساتھ دینے پر آمادہ ہو جائیں،لیکن ارکان ایسے تو بیٹھے بٹھائے نہیں ٹوٹ جاتے اس کے لئے بڑی محنت درکار ہوتی ہے، تب کہیں جا کر گوہر مقصود حاصل ہوتا ہے،ممکن ہے پیپلزپارٹی نے کوئی ایسا ہوم ورک کیا ہو، لیکن وہ خفیہ راز سامنے نہ لانا چاہتی ہو، البتہ مسلم لیگ(ق) واضح کر چکی ہے کہ وہ حکومت کا ساتھ نہیں چھوڑے گی،اور اس کے پانچ سال پورے کرائے گی،اِن حالات میں تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کا امکان تو نہیں،البتہ اگلے انتخابات میں موسمی پرندے اپنے ٹھکانے بدل کر پیپلزپارٹی کا حصہ بن جائیں تو پیپلزپارٹی جوڑ توڑ کی پوزیشن میں آ سکتی ہے،شاید کسی جام صادق کی روح کو پیپلز پارٹی کی شکل میں بدن مل جائے،لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ پنجاب میں پیپلزپارٹی کم بیک کرے۔اگر حالات وہی رہے جو اب ہیں تو پھر جوڑ توڑ بھی کسی کام نہ آ سکے گا، ایسے میں میلہ میلہ کرنے سے کیا حاصل  ہو گا؟

مزید :

رائے -کالم -