صدر کا خطاب اور اپوزیشن

صدر کا خطاب اور اپوزیشن
صدر کا خطاب اور اپوزیشن

  

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر پاکستان عارف علوی نے حکومت اور پاکستان کا مقدمہ دنیا کے سامنے بڑے احسن انداز میں پیش کیا ہے۔ انہوں نے پاکستان کو درپیش مسائل سے نمٹنے میں عمران خان کے کردار کی بھی وضاحت کی ہے اور بتایا ہے کہ پاکستان کن کن شعبوں میں دشمنوں کی ریشہ دوانیوں کا سامنا کر رہا ہے اور ان سے نمٹنے کیلئے پوری قوم کی یکسوئی درکار ہے۔ انہوں نے بیرونی دنیا کو باور کرایا کہ عالمی قوتوں کو ماننا پڑے گا کہ پاکستان نے دہشت گردی کیخلاف جنگ میں بڑی بہادری اور بے جگری سے اس عفریت کا مقابلہ کیا ہے اور اب افغانستان کے معاملات کو جس خوش اسلوبی سے انجام دیا گیا ہے وہ قابل تعریف ہے جس پر بیرونی دنیا کو بھی عمران خان کی مریدی اختیار کرنی چاہئے۔ پاکستان افغانستان کے معاملے میں ایک اہم کھلاڑی کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے اور کہا جا رہا تھا کہ پاکستان کا کردار افغانستان میں ختم ہو چکا ہے لیکن اب بیرونی دنیا کو بھی افغان معاملے پر گفتگو کیلئے پاکستان کی مدد لینی پڑ رہی ہے جو دشمنوں کے سینے پر مونگ دلنے کے مترداف ہے۔ صدر عارف علوی کی تقریر کے دوران اپوزیشن اراکین نے نعرے بازی جاری رکھی اور بعد میں ان کے خطاب کے دوران ہی اجلاس سے مشترکہ طور پر واک آؤٹ کر گئے۔ پاکستان میں بد قسمتی سے کچھ عرصے سے ریت چلی آ رہی ہے کہ جب بھی صدر پاکستان پارلیمانی سال کے آغاز پر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہیں تو اپوزیشن پارٹیاں ہلڑ بازی شروع کر دیتی ہیں اور صدر اپنی تقریر کے ذریعے جو پیغام بیرونی دنیا کو اور پاکستان کے دشمن ممالک کو دینا چاہتے ہیں وہ اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی کی نذر ہو جاتا ہے۔

صدر نے کشمیر کا مقدمہ بڑی خوبصورتی سے پیش کیا اور دنیا کو بتایا کہ بھارت کئی دہائیوں سے نہتے کشمیریوں کی نسل کشی کر رہا ہے اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں پر ظلم و ستم  کے پہاڑ توڑ رہا ہے۔ پاکستان نے بھارت کو مذاکرات کی پیش کش کی لیکن بدقسمتی سے  بھارت نے پاکستان کے ہر مثبت قدم کا منفی جواب دیا۔انہوں نے اپنے خطاب میں بھارت پر واضح کیا کہ وہ کشمیر میں ظلم کا بازار بند کرے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیر کے عوام کو ان کا حق خود ارادیت دے۔انہوں نے کشمیر کے معاملے پر پاکستانی موقف کی حمایت کرنے پر چین،  ترکی، ایران اور آذربائیجان سمیت دیگر دوست ممالک کا شکریہ بھی ادا کیا۔ جب یہ دوست ممالک اور ان کے سفراء  صدر کا خطاب سن رہے ہوں گے اور اس دوران اپوزیشن نعرے بازی کر رہی ہو گی اور دونوں جانب سے شور شرابہ برپاہو گا تو کشمیر کا پیغام دنیا میں کیا جائے گا۔ دشمن کو یہ پروپیگنڈہ کرنے کا موقع ملے گا یہ لوگ تو خود ایک دوسرے کی بات سننے کو تیار نہیں تو ہم ان کی بات کیوں سنیں یہ تو اپنے صدر کی بات سننے کے روادار نہیں ہیں وہ ہم سے کیا بات کریں گے۔

اس لئے سیاست برائے سیاست یا تنقید برائے تنقید کے رویے کو ترک کرنے کا وقت آ گیا ہے اور اب ضرورت اس امر کی ہے کہ دنیا کو جب پیغام دینا مقصود ہو تو تمام سیاسی جماعتوں کو یکجہتی کا مظاہرہ کرنا چاہئے اور سیاست برائے سیاست سے پرہیز کرناچاہئے کیوں کہ اس سے پاکستان کی جگ ہنسائی ہوتی ہے اور دشمن کو پاکستان کیخلاف پروپیگنڈہ کرنے کا موقع ملتا ہے۔ صدر عارف علوی نے اپنے خطاب کے آخر میں کہا کہ میرا  دماغ  میرا جسم، میرا رواں رواں اور میرا ایمان یہ پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ ہم دیکھیں گے ایک چمکتا، دمکتا، ابھرتا ہوا مسکراتا ہوا نیا پاکستان۔تو ہم پاکستانی امید کرتے ہیں کہ جلد چمکتا دمکتا پاکستان دنیا کے سامنے آئے گا جس کیلئے تمام سیاسی جماعتوں کو اپنا مثبت کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔

مزید :

رائے -کالم -