”تنقیدی آئینے“

”تنقیدی آئینے“
”تنقیدی آئینے“

  

تنقید ایک ایسا فن ہے جو ایک ہی وقت میں انتہائی آسان بھی ہے اور انتہائی مشکل بھی۔ یہ وہ فن ہے جس میں کسی کا لحاظ رکھنے سے، تنقید ی شخصیت پاش پاش ہو جاتی ہے۔ اگر وہ حق گوئی کو نوکِ قلم کی زینت بناتا ہے تو صاحبِ کتاب یعنی جس کے فن پر اظہارِ خیال کرنا مقصود ہو اس کے پلّے کچھ نہیں رہتا۔گویا تنقید نگار کا حقیقی فرضِ منصبی یہ ہے کہ خود کو بھی بچائے اور صاحبِ کتاب کی عزتِ نفس کو مجروح نہ ہونے دے یعنی درمیانی راستہ نکالنے کی تگ ودو کرے۔ شاعر علی شاعر نے اپنی کتاب ”تنقیدی آئینے“ میں بھی یہی اسلوب تنقید اپنایا ہے۔

تنقید کے معنی ہیں ”کھوٹا کھرا پرکھنا“ اصطلاحاً کسی موجود مواد کی خوبیوں اور خامیوں کے متعلق فیصلہ دینا نقاد کے مدنظر ہوتا ہے۔”تنقیدی آئینے“ بھی ہمیں نئی حقیقتوں سے آشنا کرواتا ہوا ایک مجموعہ ہے۔جس کے مصنف شاعر علی شاعر ہیں۔وہ اُردو ادب میں ایک حوالے کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ تنقیدی آئینے کا مطالعہ کرنے کے بعد یہ معلوم ہوتا ہے کہ مصنف نے اپنی نظر اور فکر دونوں کو ضائع نہیں ہونے دیا بلکہ ایسے لوگوں پر قلم اُٹھانے کا جتن کیا ہے جنہوں نے ساری زندگی قلم اور کتاب سے جوڑے رکھی۔اس کتاب میں تنقیدی مضامین حمایت علی شاعر، پروفیسر سحر انصاری، انور شعور، ڈاکٹر معین الدین عقیل، امجد اسلام امجد، ڈاکٹر انعام الحق جاوید، رفیع الدین راز، سہیل غازی پوری، ڈاکٹر ہارون رشید تبسم،لیاقت علی عاصم، گستاخ بخاری، جسارت خیالی ودیگر شخصیات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کتاب میں انٹرویوز اعجاز رحمانی، شاعر صدیقی، خواجہ معزالدین اور ریاض ندیم نیازی کے شامل ہیں۔تنقیدی آئینے کے حوالے سے اے خیام لکھتے ہیں کہ ”اکثر نقاد اس بات پر متفق ہیں کہ تنقید کی ایسی کوئی صورت نہیں جو ذاتی تعصب اور تاثر اور ذاتی پسند وناپسند سے یکسر  خالی ہو، لیکن اصول، انتقادیات کو اگر مدنظر رکھا جائے تو دلائل کی بڑی اہمیت ہے اور ساتھ ہی وسیع اور متنوع موضوعات کے مطالعے کی۔ تحسین، تنقیص اور تبصرے سے بالاتر ہو کر تنقید لکھنے کی روش بہت عام نہیں ہے اور یہ عمومی شعور کے حامل قلم کاروں کے لیے ممکن بھی نہیں ہے۔

“اس کتاب میں ہفت زبان شاعر ابوالبیان ظہور احمد فاتح کا  فنِ شاعری اور عہد آفرین شخصیت کے عنوان سے بھی مضمون شامل ہے۔اس کے علاوہ ”شاعری کی جان“ یہ مضمون جان کاشمیری کی شخصیت اور ان کے ایک سال میں ایک ہی دن منظر عام پر آنے والے دس شعری مجموعوں کو تنقیدی نظر میں یوں دیکھتے ہیں کہ”جان کاشمیری نے یہ عزت وشہرت کسی بازار سے نہیں خریدی بلکہ قطرہ قطرہ جمع کر کے سمندر بنایا ہے۔ اُن کی شعری عمر کا حساب لگائیں تو آج وہ پاکستان کے صفِ اول کے شعرا میں شمار کیے جائیں گے۔ اس بات کا ثبوت اُن کی وہ ندرتِ خیالی ہے جو اُن کے اشعار میں پائی جاتی ہے۔ وہ نازک احساسات ہیں جن سے اُنہوں نے شعروں کو بُنا ہے، زندگی کے وہ تلخ وشیریں تجربات ہیں جن کی آگ میں تپ کر وہ کندن بنے ہیں۔“ ایک مضمون ماہرِ علم عروض ڈاکٹر آفتاب مضطر کے حوالے سے شامل ہے۔ جس میں اُن کے علم عروض اور اُن کی شخصیت دونوں پر ایک ساتھ تنقیدی نظر سے بیان کیا گیا ہے۔یہ بات سچ ہے کہ ہرعلم عروض انسان کے کلام کے ساتھ ساتھ اُس کی شخصیت کو بھی نکھارتا ہے۔ ولی دکنی،میر،غالب واقبال کے علاوہ بہت سے شعرا علم عروض کے ماہر تھے۔ جو محفل میں شعر سنتے ہوئے علم عروض کی طرف زیادہ توجہ مرکوز رکھتے تھے۔ مگر آج ایسی کیفیت نہیں ہے۔ اگر ہے تو اُسے ہم ماننے پر خود کو نااہل سمجھتے ہیں۔ 

مزید :

رائے -کالم -