خان صاحب لوگوں کی دعائیں لیں 

خان صاحب لوگوں کی دعائیں لیں 
خان صاحب لوگوں کی دعائیں لیں 

  

عمران خان صاحب جب سے پاکستان کے وزیراعظم بنے ہیں تب سے ایک جملہ بڑے تواتر سے بول رہے ہیں۔اپنی ہر دوسری تقریر اور اپنے ہر دوسرے لائیو ٹی وی سیشن میں جناب خان صاحب قوم کو بس ایک ہی نصیحت کرتے نظر آئے ہیں کہ ’میرے پاکستانیو‘ آپ نے گھبرانا نہیں ہے۔اگر تھوڑا سا تاریخ پر نظر دوڑائیں تو ہمیں بخوبی معلوم ہوجائے گا کہ پاکستانی قوم کبھی، کسی بھی مشکل میں،کسی بھی وبا میں،کسی بھی آفت میں،کسی بھی جنگ میں اور کسی بھی دباؤمیں کبھی نہیں گھبرائی۔پاکستانی قوم نے ہر قسم کے حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے یہ لاہور کے شہری تھے کہ 65ء کی جنگ میں اپنے گھروں کی چھتوں پر چڑھ کر دشمن کے جہازوں کو پاکستانی شاہینوں کا نشانہ بنتے دیکھ کر  ’بو کاٹا‘ کے نعرے لگاتے تھے ورنہ کون ہے،جو جنگ میں گھروں کی بالائی منزلوں پر چڑھ دوڑے، پاکستانی قوم کبھی بھی حالات کی دشواریوں سے نہیں گھبرائی۔تو پھر آپ کی بات کو کیسے سنجیدگی سے مان سکتی تھی۔

مافیا ز نے ایک ایک کر کے اشیا ضروریہ کی قیمتیں بڑھانی شروع کیں اور بڑھاتے بڑھاتے قیمتوں کو دو سال پہلے سے دگنی قیمت تک لے گئے تو پھر پاکستانی قوم نے اپنی گھبراہٹ آپ کی طرف منتقل کرنا شروع کر دی۔دور کی بات کیا کرنی،ابھی کنٹورنمنٹ بورڈوں کے الیکشن میں پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی مجموعی کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستانی قوم بالکل بھی نہیں گھبرائی اور اس نے اپنی مرضی سے اپنی چاہت سے اور اپنے شعور سے اپنے ووٹ کاسٹ کئے ہیں،لیکن جناب خان صاحب آپ دن بدن گھبراتے چلے جارہے ہیں۔ہر سال کابینہ میں اکھاڑ پچھاڑ،سال میں کئی بار پنجاب کی بیورو کریسی میں تبدیلی سے تو یہی لگتا ہے کہ معاملات آپ کے ہاتھ سے نکل چکے ہیں۔جناب خان صاحب آپ خود کو کامیاب کپتا ن کہتے ہیں، لیکن آپ سے تین سال کے بعد بھی ایک ٹیم نہیں بن پارہی ہے۔آپ اس لئے بھی گھبرا رہے ہیں کہ آپ کی ٹیم کے کھلاڑی آپ کے خلاف کھل کے بول رہے ہیں۔آپ کو سینئر کھلاڑیوں کو ساتھ ملا کے کھیلنا نہیں آرہا ہے۔

اس لئے آپ کی کشتی ہچکولے کھا رہی ہے۔خان صاحب ذرا غور فرمائیے گا کہ آپ کی سابقہ حکومت کے خلاف محاذ آرائی کے وقت اگر میڈیا آپ کے ساتھ کھڑا نہ ہوتا تو آپ کو کون پوچھتا؟اگر ٹی وی چینل سارا سارا دن آپ کے جلسوں کی لائیو کوریج نہ کرتے تو آپ کے سپورٹر کیسے باہر نکلتے۔اگر میڈیا آپ کی کنٹینرز پر ہر گھنٹے کی لائیور اور بریکنگ نیوز نشر نہ کرتا تو خان صاحب آپ وزیر اعظم ہاوس میں بیٹھنے کی بجائے کسی بیٹھک میں بیٹھے گھبرا رہے ہوتے کہ یہ میرے ساتھ کیا ہو رہا ہے؟ میری باری کیوں نہیں آرہی ہے؟صدر کے خطاب کی وقت آپ کے کن لوگوں نے صحافیوں کو پریس گیلری تک جانے سے روکا ہے،خان صاحب کون اب میڈیا سے گھبرا رہا ہے،کسے سچ بولنے والے پسند نہیں آرہے ہیں،خان صاحب آپ کیوں گھبرا رہے ہیں۔ کیا آپ کو احساس ہونے لگا ہے کہ آپ نے تین سالوں میں صرف تقریریں کی ہیں۔کیا کسی نے آپ کو بتادیا ہے کہ تین سالوں میں آپ نے عام آدمی کی زندگی کو مشکل ترین بنا دیا ہے۔

کیا کسی نے آپ کو بتایا ہے کہ پچھلے تین سال میں بیروز گاری اور مہنگائی میں کتنا اضافہ ہوا ہے۔کیا اس حقیقت کو سمجھ رہے ہیں کہ آپ کے دور میں کوئی بھی قابل ِ ذکر ترقیاتی منصوبہ نہیں لگایا گیا ہے۔کیا کسی سیانے نے آپ کو بتا دیا ہے کہ ہر حربے کے بعد،ہر کوشش کے باوجود پنجاب میں مسلم لیگ کا ووٹ بینک کیوں کم نہیں ہوپا رہا ہے۔تو خان صاحب میرا مشورہ ہے کہ آپ گھبرائیے نہیں،بلکہ ٹھنڈے دماغ سے کام لیتے ہوئے اپنی ٹیم اگلے دو سال کے لئے ترتیب دینے کی کوشش کیجئے۔پنجاب جیسے بڑے صوبے میں بیورو کریسی میں آئے روز تبدیلیاں کرنے کی بجائے افسروں پر بھروسہ کرنے کی کوشش کیجئے اور عام آدمی کے لیے کھانے پینے کی اشیا ضروریہ کے نرخ کم کرواکے لوگوں سے دعائیں بھی لیجئے۔جب آپ عا م لوگوں کے لئے بہتری کے کام کریں گے تو آپ کی گھبراہٹ خود بخود کم ہونے لگے گی۔آپ کو میڈیا پر پابندیاں نہیں لگانی پڑیں گی۔میڈیا کو پابند کرنے کے لئے نئے نئے قوانین نہیں بنانے پڑیں گے۔

مزید :

رائے -کالم -