صدرِ مملکت کے خطاب پر ہنگامہ آرائی،ایک بُری روایت

صدرِ مملکت کے خطاب پر ہنگامہ آرائی،ایک بُری روایت
صدرِ مملکت کے خطاب پر ہنگامہ آرائی،ایک بُری روایت

  

پارلیمینٹ سے صدرِ مملکت کا خطاب پارلیمانی روایات کا ایک ناگزیر حصہ ہے، کیونکہ صدرِ مملکت کا عہدہ وفاق کی علامت ہوتا ہے،تاہم پچھلی دو تین دہائیوں سے یہ روایت بھی مستحکم ہو چکی ہے کہ اس خطاب کے دوران اپوزیشن ہنگامہ کرتی ہے اور صدر کو اپنا خطاب شور شرابے میں ہی کرنا پڑتا ہے یا پھر اپوزیشن پارلیمینٹ کے مشترکہ اجلاس سے بائیکاٹ کر کے باہر چلی جاتی ہے اور صدر حکومتی ارکان سے خطاب کر رہے ہوتے ہیں،ہر سال یہ سب کچھ ہوتا ہے،جس کا کوئی مقصد نظر نہیں آتا،نہ حکومت کے کان پر کوئی جوں رینگتی ہے اور نہ اپوزیشن ہی اپنی اس عادت سے باز آتی ہے۔ ہر بار صدرِ مملکت اپنی تقریر میں یہ نصیحت کر کے چلے جاتے ہیں، اپوزیشن کو پارلیمانی روایات کا احترام کرنا چاہئے،

وہ پارلیمینٹ کے تقدس کا ذکر بھی کرتے ہیں اور جمہوریت میں برداشت کی اہمیت پر زور بھی دیتے ہیں، مگر اُن کی آواز صدابصحرا ثابت ہوتی ہے۔ اس بار بھی یہی ہوا ہے۔ صدرِ مملکت کا خطاب تو ہو گیا تاہم یہ نہیں کہا جا سکتا اُس سے قومی یکجہتی کا کوئی شائبہ بھی ابھرا،بلکہ اُلٹا انتشار کی ایک نئی تاریخ رقم ہو گئی۔اپوزیشن نے اس اجلاس سے پہلے ہی کہہ دیا تھا وہ صدر کی تقریر کا بائیکاٹ کرے گی،حالانکہ اُس کے ارکان پارلیمینٹ کا حصہ بھی ہیں اور تمام تر مراعات بھی لے رہے ہیں، جب پارلیمینٹ کا حصہ ہیں تو پھر اُس کی کارروائی میں حصہ بھی لینا چاہئے۔ دُنیا پارلیمینٹ کے مشترکہ اجلاس کو غور سے دیکھ رہی ہوتی ہے،تمام ممالک کے سفیر اجلاس میں موجود ہوتے ہیں، پاکستانی جمہویت اور اداروں کے بارے میں اُن کے تاثرات منفی ہو جاتے ہیں،عام اجلاسوں کی اور بات ہے، اُن میں سیاسی چپقلش جاری رہتی ہے تام صدر کے خطاب پر ہنگامہ آرائی کی روایت ہماری جمہوریت کے ماتھے پر بدنما داغ بن جاتی ہے۔

اس بار تو صدرِ مملکت کا خطاب ایک ایسے عالم میں ہوا جب پارلیمینٹ کے اندر بھی ہنگامہ آرائی تھی،اور باہر بھی،صحافیوں نے صحافتی آزادیوں پر پابندی کے مجوزہ بل پر احتجاج شروع کر رکھا تھا،دوسری طرف سپریم کورٹ کے حکم سے برطرف ہونے والے سولہ ہزار ملازمین کے احتجاج کا سلسلہ بھی جاری تھا، حکومت کے وزراء کی کال بہت دن پہلے دی جا چکی تھی،چاہئے تو یہ تھا انہیں روکنے کے لئے مذاکرات کئے جاتے۔صحافیوں اور برطرف سرکاری ملازمین کے تحفظات دور کرنے کی کوئی سبیل نکالی جاتی،اُس کی بجائے لاتعلقی اور ہٹ دھرمی کا رویہ اپنایا گیا،جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ تاریخ میں پہلی بار صدرِ مملکت کے خطاب پر پارلیمینٹ کی پریس گیلری میں صحافیوں کا داخلہ ممنوع قرار دے دیا گیا۔

ایسا تو آمریت کے دور میں بھی نہیں ہوا جو اس دور میں دیکھا جا رہا ہے۔ایک خوفزدہ اور اعتماد سے محروم حکومت کے تمام تر آثار موجودہ حکومت میں نظر آ رہے ہیں۔اگر پارلیمینٹ کے قواعد و ضوابط کی مجبوری نہ ہوتی تو شاید حکومت اپوزیشن کے ارکان پر بھی داخلے کی پابندی لگا دیتی اور ”سنجیاں ہو جان گلیاں وچ مرزا یار پھرے“ کی صورتِ حال میں صدرِ مملکت کا خطاب کرا دیتی۔اس وقت بالکل صاف نظر آ رہا ہے، حکومت سیاسی طور پر تنہائی کا شکار ہے۔ اُس میں یہ صلاحیت نہیں،وہ اپوزیشن کو مذاکرات کی میز پر لا سکے۔ایک زمانے میں صدرِ مملکت کے پارلیمینٹ سے خطاب کو پرامن اور باوقار بنانے کے لئے حکومتی وفود اپوزیشن سے مذاکرات کرتے تھے۔ کچھ مطالبات مانے جاتے اور کچھ پر مہلت مانگ لی جاتی۔اب تو حکومت ان باتوں سے بہت دور نظر آتی ہے۔وہ اپنی من مانی پر تلی ہوئی ہے اور اُسے اس بات کی بھی پروا نہیں،اس سے سیاسی طور پر ملک کو کیا نقصان پہنچ رہا ہے۔

دوسری طرف اپوزیشن کی بھی کوئی کل سیدھی نظر نہیں آ رہی،وہ اسمبلی میں کوئی  مثبت کردار ادا کرنے کی بجائے صرف احتجاج کرتی ہے یا پھر بائیکاٹ کر کے باہر چلی جاتی ہے۔ اپوزیشن کو صدرِ مملکت کا خطاب احتجاجاً سننا چاہئے تھا تاکہ سیاسی طور پر یہ پیغام جاتا کہ مخالفت اپنی جگہ،مگر پارلیمانی روایات کا احترام سب کی ذمہ داری ہے۔صدرِ مملکت کا خطاب کوئی ایسا فرمان نہیں ہوتا جسے اگر سن لیا جائے  تو اُس پر عمل کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔ صدر کے خطاب سے اختلاف بھی کیا جا سکتا ہے۔ صدر ملک کا سب سے بڑا آئینی عہدہ ہے اور اُس کا احترام سب پر واجب ہے۔اداروں کو متنازعہ بنا دینے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ اسمبلی کے مشترکہ اجلاس کے دوران جو شخص سب سے زیادہ بے بس نظر آ رہا ہوتا ہے وہ ملک کا صدر ہوتا ہے۔اُسے شور شرابے اور ہنگامے میں اپنی تقریر جاری رکھنی ہوتی ہے، کیونکہ اگر وہ خاموش ہو جائے تو اُس کی توقیر پر حرف آتا ہے، ایسی صورتِ حال پیدا کرنے والے صدرِ مملکت کے عہدے کی توہین کے مرتکب ہوتے ہیں۔

سیاسی اختلافات پر قائد ایوان پر جتنا مرضی طعن و تشنیع کی جائے،مگر صدرِ مملکت کا احترام سب پر واجب ہے، کیونکہ وہ وفاق کی علامت ہوتا ہے،لیکن عرصہ ہوا ایسا منظر دیکھنے میں نہیں آیا جب صدرِ مملکت کا خطاب پورے ایوان نے بصد احترام اور خاموشی سے سنا ہو۔ جمہوریت میں تین عہدے غیر جانبداری کے ساتھ احترام کا تقاضہ کرتے ہیں،اول، صدرِ مملکت،دوم چیئرمین سینیٹ اور سوم سپیکر قومی اسمبلی، ان میں سے موخرالذکر دو عہدے تو پھر بھی کچھ سیاسی ہوتے ہیں تاہم ملک کے صدر کا عہدہ مکمل طور پر غیر سیاسی سمجھا جاتا ہے،تاہم گزرے ہوئے ماہ و سال نے اس عہدے کو بھی سیاسی بنا دیا ہے۔اس کی ایک وجہ صدور  کا ایک پلڑے میں جھکاؤ ہے اور دوسری وجہ اپوزیشن کا رویہ ہے جو صدر کے عہدے کو بھی حکومت ہی کا ایک حصہ سمجھتی ہے۔ہمارے ہاں چونکہ مارشلائی صدور بھی گزرے ہیں اور وہ بہت طاقتور ہوتے تھے،جن کے پاس اسمبلی توڑنے کے اختیارات بھی ہوتے تھے،اِس لئے آئینی عہدے پر انگلیاں اٹھتی رہیں۔

صدرِ مملکت کے خطاب پر اپوزیشن کے احتجاج کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ اب اس خطاب میں حکومت کی کمزوریوں کا کوئی ذکر نہیں ہوتا،صرف ستائشی تقریر کے ذریعے اپوزیشن کا دِل جلایا جاتا ہے۔صدر عارف علوی کے تین خطاب تو اس ضمن میں کچھ زیادہ ہی تعریفی ثابت  ہوئے ہیں۔اس بار تو انہوں نے ایک ایسی بات بھی کہہ دی ہے، جس پر ہر کوئی انگشت  بدنداں ہے۔ انہوں نے کہا ہے دنیا کو عمران خان کی مریدی اختیار کرنی چاہئے۔شکر ہے انہوں نے اپوزیشن کو یہ مشورہ نہیں دیا وگرنہ ایک نیا ہنگامہ کھڑا ہو جانا تھا۔ اگر صدرِ مملکت حکومت کے ہر عمل کی تائید مزید ہی کریں گے تو پھر یہ تاثر ضرور پیدا ہو گا وہ وفاق کے نہیں،بلکہ حکومت کے صدر ہیں۔صدر عارف علوی کو اپنے خطاب میں حکومت کی معاشی شعبے میں ناکامی کا ذکر بھی کرنا چاہئے تھا۔یہ بھی کہنا چاہئے تھا حکومت تین سالوں میں اپنے دعوؤں پر عمل نہیں کر سکی۔ایسی تقریر ہوتی تو شاید اپوزیشن کا بائیکاٹ بے معنی نظر آتا۔تاہم اس کے باوجود پارلیمانی روایات کا تقاضا یہی ہے صدرِ مملکت کا خطاب تحمل اور احترام سے سنا جائے اور اس ہنگامہ آرائی سے گریز کیا جائے جو ہماری جمہوریت کو ایک نکاتی بنا دیتی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -