پانچ سال گزر گئے، بد عنوانی ریونیوافسران و ملازمین کیخلاف کارروائی سوالیہ نشان 

    پانچ سال گزر گئے، بد عنوانی ریونیوافسران و ملازمین کیخلاف کارروائی ...

  

 لاہور (عامر بٹ سے)2016کے بورڈ آف ریونیو کے ممبر جوڈیشل VI کی جانب سے لاہور میں ریونیو سٹاف کی جانب سے کی جانے والی بے ضابطگیوں کی تفصیلی رپورٹ اور ریونیو کے افسران کی پالیسی کو ریوائز کرنے کی ہدایت ان کی تبدیلی کے بعد ردی کی ٹوکری کی نذر ہو گئی۔  نئے ڈپٹی کمشنر سے بھی گزشتہ دنوں بورڈ آف ریونیو کی جانب سے کی جانے والی ا نسپکشن کے اصل حقائق چھپا لئے گئے سابق سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو سمیع سعید کی ہدایات پر ممبر جوڈیشل VI سید احمد نواز نے 2016میں صوبائی دارالحکومت کے پانچوں اسسٹنٹ کمشنرز، ڈی ڈی او رجسٹریشن اور ایڈیشنل کلکٹر سمیت ریونیو سٹاف کی کارکردگی کا جائزہ لینے کیلئے ا نسپکشن کی جس کے دوران  ریونیو سٹاف کی جانب سے کی جانے والی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی بلکہ ریونیو کے تمام افسران کی کارکردگی کو بھی انتہائی ناقص قرار دے دیا سابقہ ممبر جوڈیشل VI سید احمد نواز نے ایک ماہ کی ا نسپکشن کرنے کے بعد 27 نکات اپنی ا نسپکشن رپورٹ میں تحریر کئے اور تحریر کردہ نکات پر ریونیو کے اعلیٰ افسران سے نہ صرف وضاحت طلب کی بلکہ ریونیو سٹاف کی جانب سے پیش آنیوالے مسائل بھی فوری حل کرنے کا حکم دیا اپنی تحریر کردہ ا نسپکشن رپورٹ کے پہلے نکات میں انہوں نے پانچوں تحصیلوں کے اسسٹنٹ کمشنرز کی کارکردگی کو مایوس کن تحریر کیا اور ان کو زرعی ٹیکس، آبیانہ ٹیکس اور ہاؤسنگ سکیموں میں شامل کی جانے والی سرکاری اراضی کے حوالے سے ریونیو کی عدم دستیابی کے باعث ذمہ دار ٹھہرایا اور ان کو ہدایت کی کہ وہ اپنے بنیادی کام کی طرف زیادہ توجہ دیں اور ہر 15 دنوں بعد ٹیکس وصولی کے حوالے سے بورڈ آف ریونیو میں رپورٹ پیش کریں۔ذرائع کے مطابق موجودہ سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو پنجاب بابر حیات تارڑ نے اس غفلت کا نوٹس لے لیا اور اس حوالے سے ممبر جوڈیشل 2منور قادر کو ہدایت کی ہے کہ وہ ضلع لاہور میں جامع انسپکشن کا ہنگامی بنیادوں پر انعقاد کریں اور محکمہ ریونیو میں ہونیوالی سنگین غلطیوں،کوتاہیوں کی نشاندہی کریں۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -